رشتہ خوشگوار کیسے بنے؟ بڑاعجیب رشتہ–(۳)

مسلمان نے اپنے رب سے ایک عہد کیاہے
جس طرح نکاح مرد وعورت کے درمیان ایک پختہ عہد’’میثاق‘‘ہے اور اسی عہد کی وجہ سے دونوں میں جائز اور پاکیزہ تعلق قائم ہوتاہے۔
اسی طرح مسلمان انے اپنے رب سے ’’ اس کی اطاعت‘‘ کا عہد کیاہے، اسی عہد وفا کا نام اسلام ہے۔ اس عہد کے مطابق مسلمان اپنے رب کی فرماں برداری کاپابندہے۔ اور وہ اپنے رب کی طرف سے مقرر کئے ہوئے ’قانونی اور اخلاقی‘ تمام حقوق اور ذمہ داریوں کے ادا کرنے کا پابند ہے اور اس کے لئے اپنے رب کے سامنے جواب دہ ہے۔
ایک مسلمان مرد اور عورت کے سامنے ہمیشہ یہ بات رہنی چاہیے کہ اسے ایک دن اللہ کے حضور میں حاضر ہوکر اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ وہ رب جوعلیم وخبیر ہے اور ہمارے ظاہر و باطن کو خوب جانتاہے ، ہوسکتاہے دنیا میں ہم قانون کی گرفت سے بچ جائیں، مگر آخرت کی پکڑ سے کیسے بچیں گے؟
گھر کی بات گھر میں رہے
مرد وعوت کا معاملہ’’گھریلو معاملہ ‘‘ہے۔ ان کی خلوتوں سے فرشتے بھی دور رہتے ہیں۔ معقولیت کی بات یہ ہے کہ گھر کی بات گھر میں رہے ، باہر نہ نکلے، اور قانونی داؤ پیچ میں نہ الجھے۔ اس لئے معاشرت کو بہتر بنانے کے لئے ہدایت یہ ہے کہ ’’اگر غلطی عورت کی ہے تو مرد اس کو سمجھائے۔‘‘
سمجھانے سے بات نہ بنے توعورت کو خواب گاہ میں تنہا چھوڑ دے۔ یوں بھی بات نہ بنے توہلکی سی تنبیہہ کی بھی گنجائش ہے۔ ہلکی سی مارجونازک حصوں پر نہ ہو، اس کے نشان نہ پڑیں، بس تنبیہ کیلئے۔ اب بھی کام نہ چلے تو جانبین کی طرف سے ثالثی مقرر کرکے سمجھدار لوگوں کے سامنے معاملہ رکھاجائے، بات بننے والی ہے تو اتنی تدبیروں کے بعد بات بن جائے گی، تعلقات ٹھیک ہوجائیں گے۔
جب بات بنائےنہ بنے
کیا بنے بات جب بات بنائے نہ بنے۔ کیایوں ہی معلق چھوڑدیاجائے۔ معاملہ بیچ میں لٹکا رہے نہ ادھر ہو نہ اُدھر۔
ہمارے عیسائی بھائیوں نے شریعت کوبدل دیاتھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک ہدایت کا مطلب انہوں نے ٹھیک ٹھیک نہیں سمجھا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایاتھا کہ:
’’جسے خدا نے جوڑا اُسے آدمی جدانہ کرے‘‘(متی ۱۹:۶)
سینٹ پال نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس ارشاد کا مطلب یہ سمجھا کہ ایک نکاح ہونے کےبعد کبھی جدائی نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ تعلق خدانے جوڑاہے اور آدمی اس کو توڑنے کاحق نہیں رکھتا۔
سینٹ پال کے سامنے مشکل اس وقت پیداہوئی جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوسرا یہ ارشاد سامنے آیاکہ:
’’جوکوئی اپنی بیوی کو حرام کاری کے سوا کسی اور سبب سے چھوڑ دے اور دوسری شادی کرے وہ زنا کرتاہے۔(متی۱۹:۹)
یہ دوسری پہلی ہدایت سے ٹکراتی ہے کیونکہ اس میں حرام کاری کی وجہ سے چھوڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔
[ازکتاب: جب رشتہ ٹوٹاہے۔۔حضرت مفتی فضیل الرحمٰن صاحبؒ ہلال عثمانی]
(جاری ہے۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)



