مضامین

اللہ والوں کے پاس بیٹھنے والوں کی مثال

حضرت حکیم صاحب بڑی اچھی مثال دیا کرتے تھے، کہ جب کوئی اللہ والے کے پاس بیٹھتا ہے تو وہ اپنے قلب کو بھونتا ہے اور اس کے قلب کے اندر عشق الٰہی سے جلنے والی چنگاری کے ذریعہ وہ اپنے دل ودماغ کو جلاتا ہے، پھراس کو کسی جگہ اعلان کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی کہ میں ایک قیمتی ہیرا ہوں بلکہ دنیا والے خود اس کو محسوس کرتے ہیں کہ یہ کوئی اللہ والالگ رہاہے۔ حضرت فرماتے ہیں کہ جیسے کہ ایک کباب اور کچا سموسہ ہوتاہے ، عورتیں اس کے اندر مسالہ بھرتی ہیں، اور رکھ دیتی ہیں لیکن اس کی خوشبو کسی کو بھی نہیں آتی ہے اس لئے کہ ابھی کچا ہے ، حتیٰ کہ خود گھروالوں کو تک پتہ نہیں چلتا ہے لیکن وہی سموسہ اور وہی کباب جب گرم گرم تیل کے اندر ڈالاجاتاہے اور اس کو تلاجاتاہے اور وہ سموسہ اور کباب گرمی کو برداشت کرتاہے تو اب اس کی خوشبو کے اعلان کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ہے، بلکہ خود بخود محسوس کی جاتی ہے۔ اور ویسے بھی ایک مقولہ مشہور ہے کہ : بوئے کباب مارا مسلمان کرد: کہ کباب کی بونے مجھے مسلمان بنادیا، ایسے ہی اللہ والوں کی صحبت میں بیٹھنا یہ اپنے آپ کو بھوننا ہے جب آپ بھون جاؤگے تو دنیا والوں کو بتانے کی ضرورت نہیں رہے گی کہ آپ کے اندر یہ خوبی ہے اور یہ خوبی ہے خود بخود آپ کی خوشبو کاچرچہ ہوجائے گا تواللہ تعالیٰ کی کتاب اتنی آسان نہیں ہے، یہ بخاری شریف اور یہ مسلم شریف اور یہ طلباء اور یہ علماء اتنے بیوقوف تھوڑے ہیں کہ دس دس سال مدرسوں میں جاکر لگاتے ہیں گھر بیٹھے صرف قرآن کا ترجمہ آجائے تو پھر کہنا ہی کیا، میں تو صرف ایک مثال دیتا ہوں کہ اگر کوئی ٹیلر بننا چاہے تو کیا وہ خالی کتاب پڑھ کر ٹیلر بن سکتا ہے بتاؤ؟ (جی نہیں)
گھر بیٹھے آدمی ڈاکٹر نہیں بن سکتاہے
ڈاکٹری کی لائن میں بھی آپ نے دیکھا ہوگا کہ ساڑھے چار سال تک ایک طالب علم پڑھتا ہے، اور اس کو ڈاکٹر لوگ ہی پڑھاتے ہیں، اور اس کے بعد اس کی عملی مشق کرواتے ہیں، اور اس کے پاس ہرقسم کاکام کروایا جاتاہے،لیکن اس کو سرٹیفکیٹ نہیں ملتا، انٹرشب کرنا پڑتاہے، تب جاکر اس کو وہ سرٹیفکیٹ ملتاہے ، اورپھر وہ اپنا کلینک کھول سکتاہے ۔ارے بھائی اس نے چار سال تک پڑھا، تب جاکر اسے یہ حقیر ڈگری ملی، اب بتاؤ کہ اللہ کے کلام کے سامنے ڈاکٹری کی کیا حیثیت ہے، اللہ کے کلام میں جو علوم رکھے ہیں اس کے سامنے ٹیلرنگ اور الکٹریشن کی کیا حیثیت ہے، توجب ٹیلرنگ اور الکٹریشن گھر بیٹھے پڑھنے سے کچھ سمجھ میں نہیں آتےہین، جب تک کہ اس کو کسی کے ساتھ رہ کر نہ سیکھاجائے ، تو کتاب اللہ اور بخاری اور مسلم کی یہ حدیثیں آج آدمی خود بخود کیسے سمجھ سکتا ہے، اس کو تودل والوں کے پاس بیٹھ کر سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اپنے بچوں کو اللہ والوں سے جوڑو
میرے بھائیو!! اس لئے سن لو کہ اس زمانہ میں اپنی اولاد کی سب سے زیادہ یہ تربیت کرو کہ وہ بچے اللہ والوں سے مربوط ہوجائیں، میں ادباً آپ حضرات سے کہتا ہوں کہ اس چیز کی طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، ہماری نئی نسل کسی نہ کسی کے ساتھ جڑی ہوئی ہونی چاہیے، جب یہ کنکشن جڑاہوا رہے گا تو ان شاء اللہ دوسرے ڈاکو اس پر حملہ نہیں کرپائیں گے، اور وہ ہر شیطانی فتنہ سے محفوظ رہے گا۔
[ازکتاب ’’فلاح دارین ‘‘،جلد دوم۔
بیانات(حضرت مولانا محمدفاورقی صاحب مدنی دامت برکاتہم)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button