مضامین

احکاماتِ نکاح-(۱)

نکاح کرنا فرض ہے یاسُنّت
سوال:(ا): نکاح کرنا فرض ہے یا سنت اور اسکے حقوق اور فوائد کیاہیں؟
الجواب: نکاح سنت رسول اللہ ﷺ ہے اور نکاح کے بہت سے فوائد احادیث میں وارد ہیں۔ اور جو شخص باوجود استطاعت کے نکاح سے بے رغبتی اور اعراض کرے اس کے بارے میں آں حضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ شخص میرے طریق پر نہیں ہے۔ فقط
نان نفقہ کی قدرت ہوتو شادی کرنا افضل ہے
سوال:(۲): ایک شخص کی بیوی مرگئی اور وہ مرد نان ونفقہ وغیرہ فرض کی طاقت رکھتا ہے اور کہتا ہے کہ اب بلا شادی گذر کرلوں گا، اس شخص کو نکاح کرنا افضل ہے یا مجرد رہنا۔
الجواب: ایسے شخص کونکاح کرنے میں فضیلت ہے۔
لڑکیوں کی شادی میں تاخیر گناہ ہے یانہیں
سوال:(۳): زید کے دولڑکیاں جوان بلکہ قریب ادھیڑ کے پہونچ گئی ہیں ، زید ان کی شادی کرنے میں دیر کررہاہے، اس بارہ میں اگرکوئی وعید ہوتو لکھئے۔
الجواب: حدیث شریف میں ہے
مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَلْيُحْسِنِ اسْمَهُ وَأَدَبَهُ، فَإِذَا بَلَغَ فَلْيُزَوِّجْهُ، فَإِنْ بَلَغَ وَلَمْ يُزَوِّجْهُ فَأَصَابَ إِثْمًا، فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى أَبِيهِ.
اور دوسری روایت میں ہے
مَنْ بَلَغَتِ ابْنَتُهُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً وَلَمْ يُزَوِّجْهَا فَأَصَابَتْ إِثْمًا فَإِثْمُ ذَلِكَ عَلَيْهِ
الحاصل جوان اولاد کے نکاح میں حتی الوسع جلدی کرنا ضروری ہے۔خصوصاً لڑکی کے نکاح میں باوجود موقع مناسب ملنے کے دیرکرنا بہت بُرا ہے ، اور حدیث مذکورسے معلوم ہوا کہ اگر اس اولاد سے گناہ سرزد ہواتووبال اس کا باپ پر ہے۔ فقط
نکاح موجب اجر ہے اور اس پر اعتراض خلاف شریعت ہے
سوال:(۴): میری عمر ۲۲سال ہے اور خدمت سجادہ نشینی مدار صاحب پر مامور ہوں، اب میرے بزرگان ومربیان کو میرے نکاح کا خیال مطابق رسم نبویؐ پیدا ہوا ہے، وبلحاظ عمر و بتقاضائے سن خود میری طبیعت کا اس طرف میلان ورجحان ہے۔ مگر چند اشخاص اعتراض کرتے ہیں کہ سجادہ نشینی مدار صاحب کو نکاح کرنا فعل عبث بلکہ ممنوع و خلاف شرع ہے۔ آیایہ صحیح ہے یا غلط۔
الجواب: اعتراض معترضین غلط اور خلاف حکم شریعت ہے۔ حکمفَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ عام ہے اور حکم حدیث ’’النکاح سنتی ‘‘ سب کو شامل ہے۔ پس نکاح کرنے میں اجروثواب واتباع سنت ہے، اوربحالت ضرورت نکاح نہ کرنا موجب خوف معصیت ہے۔ فقط
(یہ کہنا جہالت پر مبنی ہے کہ مدار صاحب کے سجادہ کانکاح کرنا خلاف شرع یا ممنوع ہے۔ شریعت میں اس کی کوئی اصلیت نہیں۔ ظفیر)
نکاح ثانی کو رسم کی وجہ سے عیب جاننا گناہے
سوال:(۵): جوشخص نکاح ثانی کوباوجود علم اس امر کے کہ قرآن شریف سے یہ ثابت ہے اور آں حضرت ﷺ کی یہ سُنّت ہے، عیب اور بے عزتی سمجھتا ہو اور جو شخص اس کی نسبت لوگوں کو ترغیب دے اور وعظ ونصیحت کرے تو اس کے ساتھ وہ دنگہ فساد کے لئے آمادہ ہواور اس پر عمل کرنے والے کو بے عزت اور کمینہ کہتا ہو یا یہ کہتا ہو کہ ہم اس کو حق سمجھتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کی سنت جانتے ہیں مگر چونکہ ہماری قوم میں اس کا رواج نہیں ہے، اس واسطے اس کو عاروننگ جانتے ہیں۔
الجواب: یہ ظاہر ہے کہ نکاح ثانی شرعاً جائز ومستحب ہے اور آں حضرت ﷺ اور صحابہ کرامؓ سے ثابتہے اس کو بوجہ عدم رواج قومی کے عیب اور ننگ جاننا جہالت کی بات ہے اور گنہ سخت ہے۔اور جب کہ وہ اس فعل کو اچھا جانتا ہے اور سنت رسول ﷺ سے ثابت جانتا ہے تو پھر اس کی اور بھی زیادہ جہالت ہے کہ بوجہ رواج قومی کے اس کو بُرا سمجھے، یہ امر نہایت قبیح ہے، اس سے توبہ کرنی چاہیے اور ترغیب نکاح ثانی دینے والے کوبھی یہ چاہیے کہ سختی سے کام نہ لے بلکہ بہ نرمی وملاطفت بتدریج لوگوں کو سمجھانا چاہیے۔ کماقال اللہ تعالیٰ لنبیہ صلی اللہ علیہ وسلم ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۔بس جس جگہ شر اور فساد کا خوف ہو وہاں سے علیحدہ ہوجاوے، کیونکہ امربالمعروف کے لئے بھی موقع اورمحل ہے اور شرائط وخصوصیات ہیں کہ بدون ان کے امربالمعروف سے نفع نہیں ہوتا۔ فقط
[ماخوذ :ماہنامہ حج میگزین ،ممبئی، جولائی ۲۰۱۷ء؁)۔۔۔جاری ہے۔۔ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button