رشتہ خوشگوار کیسے بنے؟ بڑاعجیب رشتہ–(۶)

طلاق کا وہ طریقہ جس کو شریعت ناپسند کرتی ہے
طلاق کاوہ طریقہ جس میں طلاق توہوجاتی ہے مگر شریعت اس کو ناپسند کرتی ہے، یہ ہے کہ :
حالت حیض( ایام ماہواری کے زمانے ) میں طلاق دے
یا عورت کو اس طہر اور پاکی کی حالت میں طلاق دے جس میں جنسی تعلق قائم ہوچکا ہو۔
یاتین طلاقیں دے جس میں مغلظہ طلاق واقع ہوجاتی ہے اور دونوں ہمیشہ کیلئے یکجائی سے محروم ہوجاتے ہیں، اپنے اختیار کا یہ بے جا استعمال ہے طلاق اگرچہ واقع ہوگئی مگر شریعت اس کو پسند نہیں کرتی۔
خلع
مال یا سامان (بدل) دے کر شوہر رشتہ نکاح کوختم کرے تو اس کوخلع یا مبارات کہتے ہیں۔ عورت اگر طلاق کا مطالبہ کرے اور شوہر طلاق دینے پر راضی ہوجائے تو شرعا یہ معاملہ بھی قابل تسلیم ہے۔ عدالت سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
لیکن اگر عورت کے مطالبے پر شوہر طلاق دینے پر راضی نہ ہو اور عورت اس معاملے کو اسلامی عدالت میں لے جائے اور عدالت اگریہ دیکھے کہ ان دونوں میں یکجائی ممکن نہیں ہے اور علیحدگی نہ ہونے کی صورت میں حدود اللہ کے ٹوٹنے کا خطرہ ہے تو وہ شوہر کو خلع پر آمادہ کرسکتی ہے یا اسلامی عدالت قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد نکاح فسخ کرسکتی ہے، یعنی اس نکاح کو توڑ سکتی ہے ۔خلع ایک طلاق بائن کے حکم میں ہوتاہے اور فریقین اگر چاہیں تو دوبارہ اپنی مرضی سے نکاح کرسکتے ہیں۔
عورت کوطلاق کا اختیار کیوں نہیں؟
جس طرح مرد کو براہ راست اور بلاواسطہ طلاق دینے اور شتہ نکاح کے ختم کردینے کا اختیار ہے اسی طرح یہ اختیار عورت کو کیوں نہیں ہے؟ شریعت اسلامیہ جوعدل وانصاف پر مبنی ہے اس میں مرد اور عورت کےا ختیارات میں یہ امتیاز کیوں ہے؟
دنیا کے تمام اداروں میں یہ طریقہ ہے کہ اُس ادارے کا ایک ذمہ دار ہوتاہے اور باقی لوگ اس ادارے کے کارکن ہوتے ہیں جس کو ادارے کا ذمہ دار بنایا جاتاہے ، اس کی ذمہ داری کچھ زیادہ ہوتی ہے اور اس ذمہ داری کی وجہ سے اس کو کچھ اختیارات بھی دیئے جاتے ہیں اور اس بات کوکوئی بھی عدل وانصاف کے خلاف نہیں سمجھتا۔
بس اسی طریقہ پر نکاح بھی ایک ادارہ ہے اور مرد اس ادارے کاذمہ دار اور قوام ہے۔ مرد کی ذمہ داری بھی زیادہ ہے اور تھوڑا سا اس کااختیار بھی کچھ زیادہ ہے۔
اللہ تعالیٰ کایہ نظام پورے طورپر عادلانہ اور منصفانہ ہے اور عین فطرت کے مطابق ہے۔ انسان کے علاوہ دوسری مخلوقات میں بھی نرمادہ مذکرمؤنث کافرق پایاجاتاہے اور نراپنی خاص صلاحیتوں کی وجہ سے کچھ فوقیت بھی رکھتاہے پس یہی معاملہ انسانوں میں بھی ہے ۔ انسانوں میں افسر بھی ہیں ماتحت بھی ہیں، کوئی نہیں کہتا کہ یہ بات انصاف کے خلاف ہے بلکہ عین انصاف کا تقاضہ یہی ہے اس کے بغیر کوئی نظام چل ہی نہیں سکتا۔
گھر کے نظام کو چلانے کیلئے جو نظام ہم سب کے بنانے والے نے بنایاہے وہ بالکل صحیح نظام ہے اور فطرت کے مطابق ہے۔ جن ملکوں میں اور جن قوموں نے اس کے خلاف طریقہ اختیار کیا اور عورت کو بھی مردکی طرح براہ راست طلاق دینے کا اختیار دیا، وہاں طلاقوں کی کثرت بتاتی ہے کہ یہ طریقہ کامیاب نہیں ہے۔
شریعت اسلامیہ نے نکاح اور طلاق دونوں کوآسان بنایاہے غیر ضروری پابندیاں نہیں لگائی ہیں البتہ نکاح کی ترغیب دی ہے، اس کی فضیلت بتائیہے کیونکہ نکاح سے گھر بنتاہے۔ اور طلاق کو ناپسندیدہ قرار دیاہے کیونکہ اس سے گھر ٹوٹتا ہے مگر طلاق پر ایسی پابندیاں نہیں لگائیں کہ اس کی وجہ سے اللہ کی حدود ٹوٹ جائیں۔ اللہ کی حدود کے ٹوٹنے سے نکاح کا ٹوٹنا بہتر ہے وہ اللہ کی حدہی نہیں ہے کہ عصمت وعفت کی حفاظت نہ رہے، مودت ومروت باقی نہ رہے اور نکاح اپنے مقاصد کے اعتبار سے ناکام اور مردہ ہوکر رہ جائے تو یہ ایسا ہی ہے کہ اگر کسی کے جسم کاکوئی حصہ خراب ہوجائے تو سارے جسم کو بچانے کے لئے اس حصے کا آپریشن کرنا نہ تو بے رحمی ہے اور نہ بے انصافی۔
[ازکتاب: جب رشتہ ٹوٹاہے۔۔حضرت مفتی فضیل الرحمٰن صاحبؒ ہلال عثمانی]
(جاری ہے۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)



