احکاماتِ نکاح-(۲)

بیوہ بچہ والی عورت کا نکاح کرنا کیساہے
سوال:(۶): سنیا ہے کہ بیوہ عورت بچہ والی کا نکاح جائز نہیں ہے، ایسی عورت کونکاح کرناجائز ہے یانہیں؟
الجواب:اگربیوہ عورت بوجہ اولاد کی پرورش کے نکاح ثانی اپنا نہ کرے اس کو ثواب ملتاہے، لیکن نکاح کرنا درست ہے، نکاح کرنے میں کچھ گناہ نہیں بلکہ اس زمانہ میں چونکہ نکاح ثانی کو عیب سمجھتے ہیں اس لئے ضرور کرنا چاہیے، اور ثواب زیادہ ہے۔ فقط
نابالغوں کانکاح جو کچھ نہیں سمجھتے جائز ہے یانہیں
سوال:(۷): نابالغوں کانکاح جوکچھ نہیں سمجھتے جائز ہے یانہیں۔ شرعاً لڑکے لڑکی کی شادی کتنی عمر میں ہونی چاہیے۔
الجواب: نابالغوں کانکاح جوولی کریں صحیح ہے، نابالغوں کو سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے، اولیاء کا سمجھنا اور اجازت دینا کافی ہے۔ عمر کی کچھ تحدید لازمی نہیں ہے۔ فقط
بالغ ہوجانے کے بعد باپ کافرض ہے کہ لڑکے لڑکی کی شادی کرے
سوال:(۸): جس شخص کی لڑکی پچیس سال کی ہوگئی ہو اور وہ شادی نہ کرتاہو، اس کے پیچھے نماز درست ہے یانہیں؟
الجواب:اپنی دختر کی شادی کرنا موقع اور کفو کے ملنے پر ضروری ہے۔ بعد ملنے کفو کے اور موقع مناسب کے دیر نہ کرنی چاہیے، حدیث شریف میں اس کی بہت تاکید وارد ہے کہ لڑکا لڑکی بعد بالغ ہونے کے اس کے نکاح میں جلدی کرنا چاہیے اور اچھا موقع ملنے پر فوراً نکاح کردینا چاہیے۔
نابالغ کانکاح جائز ہے یانہیں
سوال:(۹): چارسال ہوئے میرانکاح رحمت اللہ کی ہمشیرہ سے بحالت نابالغی ہواتھا۔ اب ہم دونوں بالغ ہیں اورہماری آبادی واقع ہے۔ یہ نکاح صحیح ہے یانہیں ۔ لڑکی کا بھائی رحمت اللہ کہتاہے کہ نکاح نابالغ کاصحیح نہیں ہوتا۔
الجواب: یہ نکاح شرعاً صحیح ہوگیا اور زوجہ کے بھائی رحمت الہ کا یہ کہنا کہ نکاح نابالغ کا صحیح نہیں ہوتاغلط ہے۔ فقط۔
لڑکی بٹھائے رکھنا اور شادی نہ کرنا کیسا ہے
سوال:(۱۰): جو شخص لڑکی بالغہ کوعرصہ دراز تک بٹھائے رکھے بدون نکاح کے تو اس کی کیا سزاہے۔
الجواب: اگرباوجود ملنے کفو کے نکاح دختر بالغہ میں تاخیر کرے گا تو گنہگار ہوگا۔ اور حدیث شریف میں ہے کہ لڑکا یالڑکی جب بالغ ہوجاوے اور ان کا باپ ان کا نکاح نہ کرے اور ان سے کوئی گناہ یعنی زنا سرزد ہوجاوے تو وہ گناہ باپ کوبھی ہوگا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ جس کی لڑکی بارہ برس کو پہونچ جاوے اور وہ اس کا نکاح نہ کرے اور اس سے کوئی معصیت سرزد ہوتو وہ معصیت باپ کے ذمہ ہے۔ لفظ حدیث یہ ہیں:
"وعن عمر بن الخطاب وأنس بن مالك عن رسول الله ﷺ قال: في التوراة مكتوب: من بلغت ابنته اثنتي عشرة سنة ولم يزوجها فأصابت إثماً فإثم ذلك عليه.” رواہ البیہقی
اور غرض بارہ برس کو پہنچنے سے بالغہ ہونا ہے اور یہ تہدیدًا اور جرًا فرمایا ہے تاکہ لوگ نکاح دختر بالغہ میں بے وجہ تاخیر نہ کرے۔ فقط
ایک سے زیادہ بیوی کرنا کب جائز ہے
سوال:(۱۱): فقہ کی روسے مرد کن حالات میں ایک سے زیادہ بیویاں کرسکتاہے۔ا
الجواب: شریعت سے مرد کو چار زوجہ رکھنے کی اجازت اور اباحت ہے لیکن ساتھ میں یہ حکم ہے کہ ان میں عدل ومساوات کرے اور اگر ایسا نہ کرسکے تو پھر ایک زوجہ پر ہی اکتفا کرے۔
کما قال اللہ تعالیٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً(النساء ۔۱)
[فتاویٰ دارالعلوم دیوبند۔جلد۷)۔۔۔جاری ہے۔۔ان شاء اللہ تعالیٰ



