عورتوں کو تعلیم دینے کے فوائد

سماج کو بنانے کے لئے عورت کو پہلے بنانا پڑے گا ، جب عورت بن جاتی ہے اور بہشتی زیور کے مسائل پڑھ لیتی ہے ، میں نہیں کہتا ہوں کہ اس کو عالمہ بنانا ضروری ہے، لیکن اس کو مومنہ بنانا تو ضروری ہے ، جب وہ عورت دین اسلام کی بنیادی باتوں کو سمجھ لیتی ہے ،اسلام کے منشے اور اس کے تقاضوں کو سمجھ لیتی ہے تو وہ اسلام کےمطابق عمل کرے گی، اب آپ دیکھئے شرک کی بیماری سب سے پہلے عورتوں میں ہی جنم لیتی ہے ، توہمات خرافات بدعات گمراہیاں دنیا کی محبت جس کو تمام گناہوں کی جڑ قراردیاگیا، یہ ساری چیزیں عورتوں میں پائی جاتی ہیں، اس کی ابتداء عورت سے ہوتی ہے، مرد لاکھ چاہے گا کہ اس کو سمجھائیں لیکن بات وہی آتی ہے کہ ’’استری ہٹ‘‘ عورت کی ضد کوبھی پوراکرناپڑتا ہے لیکن اگر ان مکاتب میں آکر اس عورت کاذہن بن گیا، اپنے آپ کو علم کے زیور سے آراستہ کرتی ہے، اس طرح کے چلنے والے مکاتب میں آتی ہے اور اس نے مسائل کاعلم بھی سیکھا اور فضائل کا علم بھی سیکھا تو گھرجاکر یہی عورت اپنے شوہر کو فضول خرچی سے روکے گی، اپنے شوہر کو نماز پڑھنے بھیجے گی، اپنے بچوں کودعوت وتبلیغ میں بھیجے گی۔
اپنے بچوں کو سونے سے پہلے سورتیں پڑھنا سکھائے گی اپنے بچوں کو قرآن پاک کی محبت پلائے گی اور انبیاء کرام کے قصے اور ان کی کہانیاں سنائے گی۔ پھر آگے چل کر وہ نسل دیندار بنےگی ماں باپ کے سکون کاذریعہ بنے گی ، پڑوسیوں کے ساتھ اس کے جھگڑے وغیرہ نہیں ہوں گے اس لئے کہ وہ پڑوسیوں کے حقوق جانتی ہوگی، اور اس کے علاوہ سب سے بڑا فائدہ گھر میں دین زندہ رہے گا ۔ بہر حال فرماں بردار بننے کے لئے علم ضروری ہے۔
آگے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ:فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ نیک عورتیں وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی بھی فرماں بردار ہوں، اور اپنے شوہر کی بھی فرماں بردار ہوں اور آگےفرمایا کہ نیک عورتیں وہ ہیں جو شوہر کی غیر حاضری میںعزت، مال اور گھر کی حفاظت کرتی ہیں۔
جوخدا کانہیں وہ کسی کانہیں
ایک بات کان کھول کر سنو کہ جو شخص خداتعالیٰ کا وفادار نہیں ہوتاوہ دنیا میں کسی بھی صورت کسی کا وفادار نہیں ہوسکتا، جوعورت اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری نہ کرتی ہو آپ کو ہزار مرتبہ بھی بولے I Love You لیکن اللہ تعالیٰ کی اس نے فرماں برداری نہیں کی تو اس کی وفاداری آپ کے کام نہیں آسکتی، وہ آپ کی وفادار نہیں بن سکتی، آپ بولو میں نے تو اس کو سونے کازیور پہنایا ، میں تواس کے ہاتھ میں چاند لاکر دوں گا وہ کیسے میری نافرمانی کرے گی ، ارے تو نے تواس کو سونے کازیور پہنایا ہے جس خالق نے اس کو سونے سے زیادہ قیمتی چمڑی دی ہے، اور جس خوبصورتی کی بنا پر تو اس کا لَٹو بنا جارہاہے یہ خوبصورتی بھی اسی ذات نے دی ہے جس نے اسے اتنا زیادہ نعمتوں سے نوازاہے وہ اس ذات کی وفادار نہیں بنی تو تیری وفادار کتنے دن تک رہے گی؟ اس لئے بہتر یہی ہے کہ اسی ذات کی وفادار بنے۔ اللہ تعالیٰ کی وفداری میں کبھی فنا ئیت نہیں ہے ، جب وہ اللہ کی فرماں بردار بنے گی توتجھے بھی دھوکہ نہیں دے گی ، اسی لئے تونکاح کے موقع پر دینداری کو دیکھنے کاحکم ہے۔
[ازکتاب فلاح دارین،جلد ۴۔ ازحضرت مفتی محمدفاروق صاحب مدنی مدظلہ]



