مضامین

خطبہ نکاح میں تقویٰ کاحکم کیوں؟

اسلام میں عورت کامقام اورمرتبہ بہت بڑا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے ہوگا کہ خطبہ نکاح میں یہ آیت تلاوت کی جاتی ہے جس میں اللہ سے ڈرنے کاحکم ہے، اور وہ اس لئے کہ بتلایا گیا کہ ایک عورت تمہارے نکاح میں آرہی ہے اس کا خیال رکھنا ہوگا اس کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا ہوگا، وہ آیت یہ ہے:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا
ترجمہ : اے لوگوں اللہ تعالیٰ سے ڈرو جسنے تم سب کو ایک جان سے پیدا کیا اور مرد سے اس کی بیوی کوپیدا کیا، اور ان دونوں کے ذریعہ بہت سے مرد اور عورتوں کو پیدا کیا ، اور اللہ سے ڈرو جس سے تم قرابت داری کا واسطہ کر مانگتے ہو، بے شک اللہ تم پر نگہبان ہے۔
یہاں بندہ مومن کو یہ سوال ہوتا ہے کہ کیا بات ہے کہ نکاح تو خوشی کاموقع ہے، اور اسلام انسانی مزاج کی رعایت کرتاہے خوشی کے وقت خوشی کے احکام دیتاہے، اور غم کے وقت آنسو بہانے کے بھی اجازت ہے، لیکن شادی میں خوشی منانے کاحکم دینے کے بجائے ڈرنے کا حکم صادر فرمایا ایسا کیوں؟ علماء مفسرین نے اس کا جواب یوں دیاہے کہ نکاح کے وقت ڈرنے کا حکم دے کر دراصل اس کی ہونے والی بیوی کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ نے ان عورتوں کوتمہارے پاس بطور امانت دیاہے ، ان کے ساتھ بُراسلوک نہ کرنا، ان کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا کہیں ایسا نہ ہو کہ ماں باپ کی عظمت میں مغلوب ہوکر بیوی کو اس کے جائز حقوق سے بھی محروم کردو، اور کہیں ایسا بھی نہ ہو کہ بیوی کی محبت میں مغلوب ہوکر ماںباپ کا تقدس ان کا ادب واحترام ختم کردو، اس لئے اس وقت خاص طورپر ڈرنے کاحکم فرمایا، اور بتلایا کہ اب تمہارے پاس اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کاوقت آگیاہے اب تک تم اکیلے تھے، اب تمہارے دونوں طرف دو ڈگرہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک کی تلاش میں دوسرے کاحق ضائع کردو، اس لئے بطور خاص ڈرنے کاحکم فرمایا۔
خواتین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید
قرآن پاک نے سورہ نساء میں نصیحت کی کہ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ کہ عورتوں کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آؤ، حضوراکرم ﷺ نے اپنے وصال کے وقت جہاں بہت ساری وصیتیں فرمائی ہیں ان میں سے ایک وصیت یہ بھی تھی کہ عورتوں کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، اسلام کا مزاج توایسا ہے کہ اگر بیوی کی کوئی عادت تمہیں ناپسند ہے تواس پر صبر کرو، ممکن ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ اس کی کوکھ میں تمہارے لئے وقت کا امام بخاری پیدا فرمادے۔ کیونکہ صبرکاپھل میٹھا ہوتاہے بشرطیکہ صبر اللہ کے لئے ہوتو خود اللہ نے فرمایا ہے کہ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
عورتیں اپنے آپ کو مثالی بنائیں
اور عورتوں سے بھی کہاگیا کہ عورت جب بہو بن کرآئے تو اس کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ایک مثالی عورت بنائے، اپنے ساس سسر کو اپنے ماں باپ کادرجہ سے اور ساس سسر اس کو اپنی بیٹی کا درجہ دیں، آج کل میاں بیوی کے جتنے مسائل ہیں، تقریباً تمام کا تعلق اسی طرح کے جھگڑوں سے ہوتاہے ، اپنائیت سے یہ تمام مسائل حل ہوجائیں گے، اور عورت کا سب سے بڑا زیور یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر کی فرماں بردارہو، جوعورت جتنا زیادہ اپنے شوہر کی اطاعت کرے گی اللہ تعالیٰ کے دربا ر میں وہ اتنی ہی مقبول بندی ہوگی۔
قرآن پاک نے عورتوں کی ایک صفت بیان فرمائی: حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ یعنی کہ عورتیں شوہر کی غیر موجودگی میں اس کے تمام امور کی حفاظت کرتی ہیں، اور گھر کاپوراکام بھی سنبھالتی ہیں یہ عورت کا مرد پر بہت بڑا احسان ہے۔
عورتوں کے بھی حقوق ہیں
قرآن پاک نے کہا: وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ جتنے حقوق اسلام نے مردوں کو دیئے ہیں اتنے ہی حقوق عورتوں کوبھی دیئے ہیں، ہمارے علماء کرام سے بھی کہوں گا جہاں مردوں کے حقوق عورتوں پر ہم بتلاتےہیں وہیں مردوں پر عورتوں کے کیا کیا حقوق ہیں ان کوبھی بیان کریں۔ اسلام نے عورتوں کوبہت حقوق دیئے ہیں خود نبی پاک ﷺ چاندنی رات میں حضرت عائشہ ؓ کو لے کر نکلتے تھے اور دوڑلگاتے تھے ، ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں ہڈی چوستی تو آپﷺ فرماتے کہ عائشہ ؓ میرے لئے بچاکررکھنا، یہ وہ طریقے ہیں جن پر عمل کرنے سے میاں بیوی کی آپسی محبت قائم رہےگی۔[ازکتاب فلاح دارین،جلد ۴۔ ازحضرت مفتی محمدفاروق صاحب مدنی مدظلہ]

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button