عیدین کے احکام ومسائل

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَدِينَةَ وَلَهُمْ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا، فَقَالَ: مَا هَذَانِ الْيَوْمَانِ؟ قَالُوا: كُنَّا نَلْعَبُ فِيهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا: يَوْمَ الْأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ۔(رواہ ابوداد مشکوٰۃ ۔صفحہ ۱۲۶)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آں حضور ﷺ ہجرت کرکے مکۃ المکرمہ سے مدینہ طیبہ تشریف لائے تواہل مدینہ کو دیکھا کہ وہ دو دن میں کھیل کود اور خوشیاں مناتے ہیں آپ نے پوچھا کہ یہ کون سا دن ہے؟اہل مدینہ نے جواب دیا کہ ہم جاہلیت کے زمانہ میں ان دنوں میں کھیل کود اورخوشیاں مناتے تھے۔
اس پر آں حضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حق جل مجدہ نے ان دودنوں کے بدلے تم کو دوبہترین دن عطا فرمائے ہیں۔ یعنی یعدالاضحیٰ اور عیدالفطر ۔۔۔(مشکوٰۃ باب العیدین)
عیدین سے مراد عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ ہے۔ شوال کی پہلی تاریخ کو عیدالفطر ، ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو عیدالاضحیٰ کہتے ہیں۔
عید کو عید اس لئے کہتےہیں کہ عاد۔ یعود۔ عودًا جمع اعیاد سے ہے جس کے معنیٰ ہیں بار بار لوٹ کر آنا عید ہرسال لوٹ کر آتی ہے اس لئے اس کو عیدؔ کہتے ہیں۔
عرب ہر سرورومسرت کے اجتماع کو عید سے معنون وموسوم کرتے ہیں ویسے ہمارے عجمی ملکوں میں عید سے مراد فقط عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ ہوتی ہے کیونکہ ان ملکوں میں خواص وعام سب ہی خاص اہتمام کے ساتھ عیدین کا استقبال کرتے ہیں۔
ویسے الٰہی اور ملکوتی طورپر بھی عید حقیقتاً عید ہوتی ہے بایں معنیٰ کہ حق جل مجدہ اپنی خاص رحمت کے ساتھ بندوں پر انعام واکرام اورمغفرت ورضوان کااعلان کرتے ہیں جیسا کہ ماقبل میں خصوصیات رمضان میں لکھا جاچکاہے ۔ غرض عید اس شخص کیلئے ہے جو وعید ربانی سے اَمن پاگیا نہ کہ اس شخص کے لئے ہے جس نے نئے وجدید لباس پہن لئے۔ (جاری ہےان شاء )



