مَضَامینِ رَمضَانُ المُبَارک:فضائل ومسائل

’’اے ایمان والو فرض کیاگیا تم پر روزہ جیسے فرض کیاگیاتھا تم سے اگلوں پر ، تاکہ تم پرہیز گار ہوجاؤ، چند روز ہیں گنتی کے، پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہویامسافر تو ان پر اُن کی گنتی ہے، اور دنوں سے، اور جن کو طاقت ہے روزہ کی اُ ن کے ذمہ بدلہ ہے ایک فقیر کا کھانا، پھرجوکوئی خوشی سے کرے نیکی تواچھا ہے اس کے واسطے، اور روزہ رکھو تو بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔‘‘
خلاصۂ تفسیر
حکم سوّم صَوم:اے ایمان والو تم پر روزہ فرض کیاگیا جس طرح تم سے پہلے (امتوں کے ) لوگوں پر فرض کیاگیا تھا، اس توقع پر کہ تم (روزہ کی بدولت رفتہ رفتہ) متقی بن جاؤ ( کیونکہ روزہ رکھنے سے عادت پڑے گی نفس کو اس کے متعد دتقاضوں سے روکنے کی اور اسی عادت کی پختگی بنیاد ہے تقویٰ کی سو) تھوڑے دنوں روزہ رکھ لیاکرو(ان تھوڑے دنوں سے مراد رمضان ہے ، جیسا اگلی آیت میں آتا ہے) پھر (اس میں بھی اتنی آسانی ہے کہ ) جو شخص تم میں (ایسا ) بیمار ہو( جس کو روزہ رکھنا مشکل یامضر ہو) یا(شرعی) سفر میں ہوتو (اس کو رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، اور بجائے رمضان کے) دوسرے ایام کا(اتنا ہی) شمار (کرکے ان میں روزہ ) رکھنا(اس پر واجب) ہے، اور (دوسری آسانی جو بعد میں منسوخ ہوگئی یہ ہے کہ ) جو لوگ روزے کی طاقت رکھتے ہوں (اور پھر روزہ رکھنے کو دل نہ چاہے تو) اُن کے ذمہ (صرف روزے کا) فدیہ (یعنی بدلہ) ہے کہ وہ ایک غریب کاکھانا (کھلادینا یادیدینا ) ہے ، اور جو شخص خوشی سے (زیادہ) خیر(خیرات) کرے( کہ زیادہ فدیہ دیدے) تویہ اس شخص کے لئے اور بہتر ہے، اور (گو ہم نے آسانی کے لئے ان حالتوں میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت دیدی ہے ، لیکن تمہارا روزہ رکھنا (اس حالت میں بھی ) زیادہ بہتر ہے اگرتم (کچھ روزے کی فضیلت کی) خبر رکھتےہو۔
فوائد ومسائل
صومؔ کے لفظی معنی امساک یعنی رُکنے اور بچنے کے ہیں، اور اصطلاحِ شرع میں کھانے پینے اور عورت سے مباشرت کرنے سے رُکنے اور باز رہنے کانام صوم ہے، بشرطیکہ وہ طلوع صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک مسلسل رُکا رہے، اور نیت روزہ کی بھی ہو، اس لئے اگر غروب آفتاب سے ایک منٹ پہلے بھی کچھ کھاپی لیا تو روزہ نہیں ہوا، اسی طرح اگران تمام چیزوں سے پرہیز تو پورے دن پوری احتیاط سے کیا، مگر نیت روزہ کی نہیں کی تو بھی روزہ نہیں ہوا۔
صوم یعنی روزہ اُن عبادات میں سے ہے جن کو اسلام کے عمود اور شعائر قرار دیاگیا ہے، اس کے فضائل بے شمار ہیں ، جن کے تفصیلی بیان کایہ موقع نہیں۔
پچھلی اُمتوں میں روزہ کا حکم
روزے کی فرضیت کاحکم مسلمانوں کوایک خاص مثال سے دیاگیاہے ، حکم کے ساتھ یہ بھی ذکر فرمایا کہ یہ روزے کی فرضیت کچھ تمہارے ساتھ خاص نہیں، پچھلی امتوں پربھی روزے فرض کئے گئے تھے، اس سے روزے کی خاص اہمیت بھی معلوم ہوئی ، اور مسلمانوں کی دلجوئی کابھی انتظام کیاگیا کہ روزہ اگرچہ مشقت کی چیز ہے ،مگر یہ مشقت تم سے پہلے بھی سب لوگ اٹھاتے آئے ہیں، طبعی بات ہے کہ مشقت میں بہت سے لوگ مبتلا ہوں تو وہ ہلکی معلوم ہونے لگتی ہے۔ (روح المعانی)
قرآن کریم کے الفاظ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ عام ہیں، حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت خاتم الانبیاءﷺ تک کی تمام شریعتوں اور امتوں کو شامل ہے، اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح نماز کی عبادت سے کوئی شریعت اور کوئی امت خالی نہیں رہی اسی طرح روزہ بھی ہر شریعت میں فرض رہاہے۔
جن حضرات نے فرمایا ہے کہ مِنْ قَبْلِكُمْ سے اس جگہ نصاریٰ مراد ہیں وہ بطور ایک مثال کے ہے، اس سے دوسری امتوں کی نفی نہیں ہوتی (روح)
آیت میں اتنا بتلایا گیا ہے کہ روزے جس طرح مسلمانوں پر فرض کئے گئے پچھلی امتوں میں بھی فرض کئے گئے، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ پچھلی امتوں کے روزے تمام حالات و صفات میں مسلمانوں ہی کے روزوں کے برابر ہوں، مثلاًروزوں کی تعداد، روزوں کے اوقات کی تحدید، اور یہ کہ کن ایام میں رکھے جائیں ، ان امور میں اختلاف ہوسکتا ہے، چنانچہ واقعہ بھی ایسا ہی ہوا، کہ تعداد میں بھی کمی بیشی ہوتی رہی، اور روزے کےا یام اور اوقات میں فرق ہوتارہا ہے (روح)
لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ میں اشارہ ہے کہ تقویٰ کی قوت حاصل کرنے میں روزہ کو بڑا دخل ہے، کیونکہ روزہ سے اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنے کاایک ملکہ پیدا ہوتاہے، وہی تقوے کی بنیاد ہے۔ (تفسیر معارف القرآن، جلد اول)۔۔۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ



