مَضَامینِ رَمضَانُ المُبَارک- (۱۸)—–شب قدر

چوں کہ اس امت کی عمریں بہ نسبت پہلی امتوں کے کم ہیں، اس لیے حق تعالیی نے اپنے فضل وکرم سے ایک رات ایسی عنایت فرمائی ہے کہ جس میں عبادت کرنے کا ثواب ایک ہزار مہینہ کی عبادت سے بھی زیادہ ہے، لیکن اس رات کے تعین کو پوشیدہ رکھاگیا تاکہ لوگ اس کوتلاش کریں اور بے حساب ثواب حاصل کریں، اس کے لیے کوئی رات متعین نہیں، رمضان المبار ک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں شب قدر آنے کا زیادہ امکان ہے، یعنی ۲۱؍ویں، ۲۳؍ویں ،۲۵ویں، ۲۷ویں اور ۲۹ویں،ستائیسویں شب میں بہت سے اولیاء اللہ نے اسے پایاہے، ان راتوں میں بہت محنت سے عبادت اور توبہ واستغفار اور دعا میں مشغول رہنا چاہیے۔ اگرتمام رات جاگنے کی طاقت نہ ہوتو جس قدر ہوسکے جاگےاور نفل نماز، دُعا، تلاوت قرآن کریم یا ذکر وتسبیح میں مشغول رہے اور کچھ نہ ہوسکے تو عشاء اور صبح کی نماز جماعت سے ادا کرنے کااہتمام کرے، حدیث پاک میں آیاہے کہ یہ اہتمام بھی رات بھرجاگنے کے حکم میں ہوجاتاہے۔ شب قدر کی خاص دعاہے:
اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ العَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي



