مضامین

حضوراکرمﷺ کا حلیہ مبارکہ-۵

حضوراکرمﷺ کے دندان مبارک
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ آپ کے اگلے دودانت کشاہ تھے جب آپ گفتگو فرماتے توایسا محسوس ہوتا کہ آپ کے ان دونوں دانتوں کے درمیان نورنکل رہاہے۔(دارمی)
توضیح:’’افلج الشنیتین‘‘ یعنی ثنایا اور رباعیات کے جودانت تھے ان کے درمیان کشادگی تھی، کھڑکی داردانت تھے جو اعلیٰ خوبصورتی کے شاہکارہوتے ہیں۔
چہرہ یا چاند کاٹکڑا
اورحضرت کعب ابن مالکؓ کہتے ہیں کہ رسول کریمﷺ جب خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ مبارک کھِل اٹھتا اور ایسا معلوم ہونے لگتا کہ آپ کا چہرہ مبارک چاند کا ٹکڑا ہے اور اس چیز سے ہم آپ کی اندرونی کیفیت پہچان لیتے تھے۔ (بخاری ومسلم)
یہود کاحسد
اورحضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی لڑکا جونبی کریم ﷺ کی خدمت کیاکرتا تھا ، بیمار ہواتو نبی کریم ﷺ اس کی عیادت کو اس کے گھر تشریف لائے، آپ نے دیکھا کہ اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہواتورات کاکوئی حصہ پڑھ رہا ہے۔ رسوک کریم ﷺ نے اس سے پوچھا کہ یہودی ! میں تمہیں اس خدا کی قسم دے کر دریافت کرتاہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی کیاتم اس تورات میں میری تعریف وتوصیف اورمیرے (وطن سے) نکلنے کا ذکرپاتے ہو؟ اس یہودی نے جواب دیا کہ نہیں لیکن وہ لڑکا بولا ہاں یارسول اللہ !خدا کی قسم اس تورات میں ہم آپ کی تعریف وتوصیف اور آپ کے نکلنے کا ذکرپاتے ہیں اور میں یقینی طورپر اس امر کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں اور اس امر کی بھی گواہی دیتاہوں کہ بلاشبہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ رسول کریمﷺ نے اس لڑکے کی اس راست گوئی اور اس کے اظہار ایمان و اسلام کو دیکھ کر اپنے صحابہ سے فرمایا کہ اس کے باپ کو اس کے سرہانے سےا ٹھادواورتم اپنے اس (دینی ) بھائی کے والی بنو۔ اس روایت کوبیہقی نے دلائل النبوۃ میں ذکر کیاہے۔
توضیح:’’ولواخاکم‘‘ولی ولایۃ سرپرستی اور سنبھالنے کے معنی میں ہے۔ یعنی یہ مسلمان ہوگیاہے اب اپنے بھائی کو قبضہ میں لے لو، اس کو اب سنبھال لو، تیمارداری کرواور اگر اس کا انتقال ہوجائے تو اسلامی طریقہ پر اس کی تجہیز وتکفین کرواور اس کو دفناؤ! یہودیوں کو اس کے پاس سے ہٹاؤ۔ اس حدیث سے معلوم ہوگیا کہ یہود کس قدر جھوٹ بولتے ہیں اور شرماتے نہیں بیٹابیماری کی حالت میں باپ کو جھٹلاتاہے۔
حضوراکرمﷺ رحمت کا تحفہ تھے
اورحضرت ابوہریرہؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نےفرمایا: حقیقت یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی رحمت ہوں۔ اس روایت کو دارمی نے اور شعب الایمان میں بیہقی نے نقل کیاہے۔
توضیح:’’رحمۃ مھداۃ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور تحفہ بھیجا ہوا رحمت ہوں لہٰذا جو کوئی مجھے قبول کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سایہ میں آئے گا، اس روایت میں چند الفاظ کا اضافہ بھی ہواہے وہ الفاظ یہ ہیں بُعِثْتُ بِرَفْعِ قَوْمٍ وَخَفْضِ آخَرِينَیعنی جومجھے قبول کریں گے وہ آسمان عروج پر پہنچیں گے اور جومخالفت کریں گے وہ ذلت کی کھائیوں میںجاگریں گے۔(مشکوٰۃ شریف)۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔ ان شاءاللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!