مضامین

نماز کے فرائض، واجبات اور سنتیں-۷

فرض نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء کے علاوہ دیگر دعائیں پڑھنا کیساہے؟

سوال:(۲۶۷) بعد تکبیر تحریمہ نماز فرض میں جو بجائے سبحانک اللّھمّ دوسری دعائیں کتب صحاح میں وارد ہیں، انکا پڑھنا نماز فرض میںمنفرد کوکیسا ہے؟
(۱۰۳۸/۱۳۴۰ھ)
الجواب:حنیفہ نے ان ادعیہ کونوافل پر محمول کیاہے، لہٰذا نوافل میںہی ان کو پڑھے(۱) فقط واللہ تعالیٰ اعلم(۲/۱۷۴)
ثناء، تشہد اور دعائے قنوت وغیرہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنی چاہیے یانہیں؟
سوال: (۲۶۸) نماز میں ثناء اور تشہد اور درود اور دعا اور دعائے قنوت کے پہلے بسم اللہ پڑھنی چاہیے یانہیں؟(۱۲۷۰/۱۳۴۲ھ)
الجواب: بسم اللہ پڑھنا سورۂ فاتحہ کے اول اور سوت سے پہلے ہے(۲) تشہد وغیرہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کاحکم نہیں ہے،لیکن بعض روایات میںتشہد اور دعائے قنوت میں بسم اللہ وارد ہے(۱)اگر پڑھے تو کچھ حرج نہیں۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم(۲/۱۹۹)
ناف سے نیچے ہاتھ باندھنا منسون ہے
سوال:(۲۷۰) سینہ پر ہاتھ باندھنا درست ہے یانہیں؟(۱۸۲۰/۱۳۳۹ھ)
الجواب:عندالحنفیہ سنت ناف سے نیچے ہاتھ باندھنا ہے(۳) فقط واللہ تعالیٰ اعلم(۲/۱۷۲)
سوال:(۲۷۱) حنفیہ نماز میں ہاتھ کہاں باندھتے ہیں؟ فوق السرہ یاتحت السرہ؟ مفتی بہ اور معمول بہ روایت کیا ہے؟ اولویت کس میں ہے؟(۳۳۷/۱۳۳۵ھ)
الجواب: حنفیہ کے نزدیک تحت السرہ والی حدیث ماخوذ بہ اور معمول بہ ہے، فوق السرہ والی حدیث معمول بہ نہیں ہے ، اور خلاف اولویت میں نماز ہرطرح ہوجاتی ہے(۱) فقط(۲/۱۷۹)
ناف کے اوپر ہاتھ باندھنا
سوال:(۲۷۲)نماز میں تحریمہ باندھنا ناف کے اوپر حدیث سے ثابت ہے یانہیں؟(۱۴۶۰/۱۳۳۵ھ)
الجواب: ناف کے اوپر اور نیچے ہاتھ باندھنا دونوں حدیث سےثابت ہیں، حنفیہ نے حدیث زیر ناف کو معمول بہ بنایاہے(۲) فقط واللہ تعالیٰ اعلم (۲/۱۸۳)
[فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، جلد نمبر۲]۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!