واقعۂ معراج النبی ﷺ-۴

اورحضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں جب رسول کریم ﷺ کو رات میں سیر کرائی گئی تو آپ کو سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچایاگیا اور سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان پر ہے۔ نیز جو بھی چیززمین سے اوپر لے جائی جاتی ہے وہ سدرۃ المنتہیٰ پرجاکر منتہی ہوجاتی ہے اورپھر کسی واسطہ وذریعہ کے بغیر اوپر اٹھائی جاتی ہے ، اسی طرح جو چیز ملاء اعلیٰ سے زمین پر اتاری جاتی ہے وہ بھی اسی سدرۃ المنتہیٰ سے لی جاتی ہے۔ اس کے بعد حضرت ابن مسعودؓ نے یہ آیت پڑھی یَغْشَی السِّدْرَةَ مَا یَغْشَی یعنی اس وقت کہ ڈھانک لیا سدرۃ کو جس چیز نے ڈھانک لیا، اورکہاکہ وہ چیز سونے کے پتنگے ہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے یہ بھی کہاکہ شب معراج میں رسول کریم ﷺ کو تین چیزیں عطا کی گئیں(۱) پانچ نمازوں کی فرضیت عطاہوئی۔(۲) سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں عنایت ہوئیں۔(۳) اور آنحضرت ﷺ کی امت میں سے اس شخص کے گناہ کبیرہ کی معافی کا پروانہ عطا ہوا جو کسی کو اللہ کاشریک نہ ٹھہرائے۔ (مسلم)
اورحضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: میں نے اپنے آپ کو حجر میں دیکھا اس حال میں کہ قریش مکہ مجھ سےمیرے شب معراج کے سفر کے بارے میں سوالات کررہے تھے اور بیت المقدس کی وہ چیزیں اور نشانیاں دریافت کررہے تھے جو مجھ کو اس وقت یاد نہیں رہی تھیں۔ اس بات سے میں اتنا سخت پریشان اور غمگین ہوگیا کہا س سے پہلے کبھی اتنا پریشان اورغمگین نہیں ہواتھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے میری مدد فرمائی اور بیت المقدس کو بلند کردیا جو میری نظروں کے سامنے آگیا۔ چنانچہ وہ مجھ سے جو کچھ پوچھتے میں ان کو بتادیتا اوریہ حقیقت ہے کہ میں نے اپنے آپ کو انبیاء کے درمیان دیکھا۔ میں نے حضرت موسیٰ ؑ کو دیکھا جو کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ حضرت موسیٰ ؑ ایک میانہ قد مرد نظرآئے جیسے وہ (قبیلہ) شنوہ سے تعلق رکھنے والے ایک مرد ہوں، میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوبھی دیکھا جو کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے، ان سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے شخص عروہ ابن مسعود ثقفی ہیں، پھر میں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کوبھی دیکھا جو کھڑےہوئے نماز پڑھ رہے تھے ، ان سے سب سے زیادہ مشابہت جو شخص رکھتاہے وہ تمہارا دوست ہے، آنحضرت ﷺ کی مراد خود اپنی ذات تھی۔ پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب نماز کا وقت آیا تو میں ان سب کا امام بنا اور جب نماز سے فارغ ہوا ایک کہنے والے نے مجھے مخاطب کرکے کہا محمد یہ دوزخ کا داروغیہ ہے اس کو سلام کرو! چنانچہ میں اس کی طرف متوجہ ہوا لیکن سلام میں پہل اس نے کی۔ (مسلم )
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، جب قریش نے مجھے جھٹلایا تومیں حجر یعنی حطیم میںکھڑا ہوا اور اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میرے لئے نمایاں کردیا، چنانچہ میں بیت المقدس کی طرف دیکھ دیکھ کر اس کی نشانیاں اور علامات ان کو لوگوں کو بتاتارہا۔ (بخاری ومسلم)
’’الحجر‘‘اس سے مراد حطیم ہے اس کو حجرا سماعیل بھی کہتےہیں ، کہاجاتاہے کہ یہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قبربھی ہے۔ ۔۔(مشکوٰۃ شریف ،جلد ثانی )



