مضامین

واقعۂ معراج النبی ﷺ-۳

اور حضرت ثابت بنانی ؒ حضرت انس ؓسے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: میرے سامنے براق لایا گیا جو ایک سفید رنگ کا در از میانہ قد، چوپایہ تھا، گدھے سے اونچا اور خچر سے نیچا تھا ، جہاں تک اس کی نگاہ جاتی تھی وہاں اس کا ایک قدم پڑتا تھا ، میں اس پر سوار ہوا اور بیت المقدس میں آیا اور میں نے اس براق کو اس حلقہ سے باندھ دیا جس میں انبیاء باندھتے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: پھر میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہوا اور دورکعت نماز پڑھی، پھر میں مسجد سے باہر آیا اور جبرئیل میرے سامنے ایک پیالہ شراب کا اور ایک پیالہ دودھ کا لائے ، میں نے دودھ کا پیالہ لے لیا تو جبرئیل نے کہا آپ نے فطرت کو اختیار کر لیا اور پھر ہمیں آسمان کی طرف چڑھایا۔ اس کے بعد حضرت انس رضی اللہ نے حدیث کا وہی مضمون بیان کرتے ہوئے جو سابق حدیث میں گذرا کہا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: مجھے حضرت آدم؈ نے مرحبا کہا اور میرے لئے دعاء خیر کی ۔ پھر آپ نے تیسرے آسمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہاں میں نے حضرت یوسف ؈ کو دیکھا جن کو آدھا حسن عطا کیا گیا تھا، انہوں نے بھی مجھ کو مرحبا کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی ۔ راوی یعنی ثابت بنانی ؒ نے اس روایت میں حضرت موسیٰ ؈ کے رونے کا ذکر نہیں کیا اور آنحضرت ﷺ نے ساتویں آسمان کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ وہاں میں نے حضرت ابراہیم ؈ کو دیکھا جو بیت المعمور سے پشت لگائے بیٹھے تھے اور بیت المعمور میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جن کو دوبارہ داخل ہونا نصیب نہیں ہوتا، اس کے بعد مجھ کو سدرۃ المنتہیٰ کی طرف لے جایا گیا میں نے دیکھا کہ اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر اور اس کے پھل مٹکوں کے برابر تھے، پھر جب سدرۃ المنتہی کواللہ کے حکم سے ڈھانکنے والی چیز نے ڈھک دیا تو اس کی حالت بدل گئی اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی مخلوق میں سے کوئی بھی اس کی خوبی اور وصف کو بیان نہیں کر سکتا، پھر اللہ تعالی نے جو وحی چاہی میری طرف بھیجی، پھر مجھ پر دن رات میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں، پھر میں اس بلند مقام سے نیچے اترا اور حضرت موسیٰ ؈ کے پاس آیا ، انہوں نے پوچھا تمہارے پروردگار نے تمہاری امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا رات دن میں پچاس نمازیں ۔ حضرت موسیٰ ؈نے کہا اپنے پروردگار کے پاس واپس جاؤ اور تخفیف کی درخواست کرو کیونکہ تمہاری امت اتنی طاقت نہیں رکھتی، میں بنی اسرائیل کو آزما کر اور ان کا امتحان لے کر پہلے دیکھ چکا ہوں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں بارگاہ خداوندی میں پھر حاضر ہوا اور کہا میرے پروردگار ! میری امت کے حق میں آسانی فرمادیجئے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے میری امت کے حق میں پانچ نمازیں کم کر دیں۔ پھر میں حضرت موسیٰ ؈ کے پاس آیا اور ان کو بتایا کہ میری درخواست پر پانچ نمازیں کم کر دی گئیں ہیں۔ حضرت موسیٰ ؈نے کہا تمہاری امت اتنی طاقت نہیں رکھتی۔ تم پھر اپنے پروردگار کے پاس جاؤ اور مزید تخفیف کی درخواست کرو۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں اسی طرح اپنے پروردگار اور حضرت موسیٰ ؈ کے در میان آتا جاتا رہا یہاں تک کہ پروردگار نے فرمایا محمد! رات دن میں فرض تو یہ پانچ نمازیں ہیں لیکن ان میں سے ہر نماز کا ثواب دس نمازوں کے برابر ہے۔ اس طرح یہ پانچ نمازیں ثواب میں پچاس نمازوں کے برابر ہیں اور جس شخص نے نیکی کا ارادہ کر لیا اور اس نے وہ نیکی نہیں کی تو اس کے حساب میں ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اگر اس قصد کے بعد اس نے نیکی کو کر لیا تو اس کے حساب میں وہ نیکی دس گنا لکھی جاتی ہے۔ اور جس شخص نے برے کام کا قصد وارادہ کیا اور پھر اس برے کام کو نہ کر سکا تو اس کے حساب میں وہ برائی نہیں لکھی جائے گی اور اگر اس نے اپنے قصد کے مطابق اس برے کام کو کر لیا تو اس کے حساب میں وہی ایک برائی لکھی جائے گی ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا پھر میں بارگاہ خداوندی سے نیچے واپس آیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو صورت حال بتائی، انہوں نے پھر وہی مشورہ دیا کہ اپنے پروردگار کے پاس واپس جاؤ اور تخفیف کی درخواست کرو۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ میں بار بار اپنے پروردگار کے پاس جا چکا ہوں اب مجھ کو اس کے پاس جاتے شرم آتی ہے۔ (مسلم) ۔۔(مشکوٰۃ شریف ،جلد ثانی )۔۔۔۔(جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ان شاء اللہ تعالیٰ)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!