ماں باپ اور اولاد کے حقوق واحکام-۶

باپ جس کام کا حکم دیتاہے ماں اس سے منع کرتی ہے تو اولاد کس کی اطاعت کرے؟
سوال: (۱۰۰۰) زید کے باپ نے زید کی والدہ کو طلاق دے دی ہے، بعد عدت کے اس کی والدہ نے دوسرا شوہر کر لیا ہے، زید کا والد زید کو جس کام کا امر کرتا ہے اس کی والدہ اس کے کرنے سے منع کرتی ہے یا برعکس اس کے، اگر زید ایک کی فرمانبرداری کرتا ہے تو دوسرے کی نافرمانی ہوتی ہے، آیا زید کس کے حکم کی نافرمانی کرے اور کس کی فرماں برداری؟ (۷۱۲/ ۱۳۳۵ھ)
الجواب: اطاعت والدین کی معصیت میں نہیں ہے۔ جیسا کہ وارد ہے: لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق (۲) پس جب کہ باپ نے یا ماں نے اول کسی امر کا حکم کیا جو موافق شرع کے ہے، اور اس میں کچھ معصیت نہیں ہے تو اس کے خلاف جو دوسرے نے ضد سے حکم کیا وہ مبنی ضد اور نفسانیت پر ہے اور معصیت ہے، لہذا اس دوسرے کی اطاعت نہ کرنی چاہیے، یا یوں فیصلہ کیا جاوے کہ جس کا حکم ان دونوں میں موافق شرع کے ہو اس کو کرے اور جس کا حکم خلاف شرع ہے اس کو نہ کرے، اور حتی الوسع ایک کے حکم کی دوسرے کو خبر نہ کیا کرے جب کہ ان میں خلاف اور عداوت ہے۔ فقط
باپ سے میل جول رکھنے پر ماں ناراض ہوتی ہے تو بیٹا کیا کرے؟
سوال: (۱۰۰۱) بکر نے زوجہ کو طلاق دے دی، اس سے ایک لڑکا تھا عمر، وہ اپنی والدہ کے پاس پرورش پاتا رہا، جب جوان ہوا تو والد سے میل جول رکھتا ہے، والدہ ناراض ہوتی ہے، آیا وہ اپنی والدہ کے فرمانے کو مقدم رکھے یا والد بکر سے میل جول رکھے؟ (۱۳۳۷/۲۶۷۶ھ)
الجواب: وہ اپنے باپ سے ضرور ملے اور اس کی اطاعت کرے، اور اس بارے میں والدہ کے کہنے کا خیال نہ کرے، کیونکہ حدیث میں ہے: لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق (1) نقط
باپ جس کام کے کرنے کا حکم دیتا ہے بیٹااس کے کرنے سے عاجز ہے تو کیا کرے؟
سوال : (۱۰۰۲) اگر باپ اپنے لڑکے سے کسی ایسی بات کے کرنے کی ضد کرے جس کے کرنے پر لڑکا قادر نہ ہو، اسی وجہ سے باپ اس سے رنجیدہ ہو جائے تو اس صورت میں لڑکا گنہ گار ہوگا یا نہیں؟ (۱۷۷۰/۳۳-۱۳۳۴ھ)
الجواب: جس کام کے کرنے سے لڑکا عاجز ہے اس کے نہ کرنے سے گنہ گار نہ ہوگا، اور باپ کا نافرمان نہ سمجھا جائے گا اور اس پر کچھ مواخذہ اس وجہ سے نہ ہوگا: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا الآية ) ( سوره بقره، آیت: ۲۸۶)
باپ بیٹے کو تکلیف پہنچاتا ہے تب بھی باپ کی اطاعت کرنا چاہیے
سوال: (۱۰۰۳) زید اپنے پسر عمر کو بہت تکلیف دیتا تھا، اس وجہ سے عمر اپنی نانی کے پاس رہا اور وہیں پرورش پائی،اب عمر کے پاس روپیہ ہے اور زید اس کو اب بھی تکلیف پہنچاتا ہے،پس اس صورت میں عمراپنی نانی کوخرچ دےیا اپنے باپ زید کو؟ زید عمر کانکاح کرنے سے انکارکرتاہے۔(۹۰۹/۳۳-۱۳۳۴ھ)
الجواب: عمر کوباپ کی اطاعت کرناچاہیے اگرچہ باپ تکلیف پہنچائے، باقی خرچ کی بابت یہ حکم ہے کہ اگرباپ کوخرچ کی ضروت نہ ہو اس کے پاس آمدنی کافی ہو اور عمر کو ضرورت خرچ کی ہو، اور اس کی نانی بھی محتاج ہو، تو عمر اپنا اور نانی کاخرچ اٹھائے ، اوراپنے نکاح کابندوبست کرے، زید کوجب کہ ضرورت خرچ کی نہیں ہے تو اس کو خرچ نہ دینے سے عمر گنہ گار نہ ہوگا، لیکن ویسے عمر کولازم ہے کہ زید کی اطاعت کرے، اس کا خلاف اورمقابلہ نہ کرے۔(۱) فقط (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ،جلد ۱۶)۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



