Uncategorized

مَضَامینِ رَمضَانُ المُبَارک:فضائل ومسائل-۷

حضرت سلمانؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے شعبان کی آخر تاریخ میں ہم لوگوں کو وعظ فرمایا، کہ تمہارے اوپر ایک مہینہ آرہاہے جو بہت بڑا مہینہ ہے، بہت مبارک مہینہ ہے۔ اس میں ایک رات ہے (شب قدر) جو ہزاروں مہینوں سے بڑھ کر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزہ کو فرض فرمایا اور اس کے رات کے قیام (یعنی تراویح) کو ثواب کی چیز بنایا ہے، جو شخص اس مہینہ میں کسی نیکی کے ساتھ اللہ کا قرب حاصل کرے ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں فرض ادا کیا اور جو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو ادا رے وہ ایسا ہے جیسا کہ غیررمضان میں ستّر فرض ادا کرے ۔ یہ مہینہ صبر کاہے اور صبر کابدلہ جنت ہے اور یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کاہے اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھادیاجاتاہے جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے اس کے لئے گناہوں کے معاف ہونے اور آگ سے خلاصی کاسبب ہوگا اور روزہ دار کے ثواب کی مانند اس کو ثواب ہوگا۔ مگر اس روز ہ دار کے ثواب سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ہم میں سے ہر شخص تواتنی وسعت نہیں رکھتاکہ روزہ دار کو افطار کرائے تو آپؐ نے فرمایا کہ (پیٹ) بھر کھلانے پر موقف نہیں) یہ ثواب تواللہ جل شانہٗ ایک کھجور سےکوئی افطار کرادے یا ایک گھونٹ پانی پلادے یا ایک گھونٹ لسّی پلادے اس پربھی مرحمت فرمادیتے ہیں۔ یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اللہ کی رحمت ہے اور درمیانی حصہ مغفرت ہے۔اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے جو شخص اس مہینہ میں ہلکا کردے اپنے غلام وخادم کے بوجھ کو حق تعالیٰ شانہ اس کی مغفرت فرماتے ہیں اور آگ سے آزدی فرماتےہیں ۔ اور چارچیزوں کی اس میں کثرت رکھاکرو جن میں سے دوچیزیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے واسطے اور دوچیزیں ایسی ہیں کہ جن سے تمہیں چارہ کار نہیں ۔پہلی دوچیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دوچیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو اور آگ سے پناہ مانگو ۔
جوشخص کسی روزہ دار کوپانی پلائے حق تعالیٰ (قیامت کے دن) میری حوض سے اس کو ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی۔
(فضائل اعمال، جلد اول: فضائل رمضان المبارک)۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button