مَضَامینِ رَمضَانُ المُبَارک:فضائل ومسائل-۸

حضور ﷺ کا ارشاد ہےکہ روزہ آدمی کیلئے ڈھال ہے جب تک اسکو پھاڑ نہ ڈالے۔
حضرت مولانا الشاہ عبدالحق صاحب محدث دہلویؒ نے ماثبت بالسنتہ میں بعض کتب فقہ سے نقل کیاہے کہ کسی شہر کےلوگ اگر تراویح چھوڑ دیں تو اس کے چھوڑنے پر امام ان سے مقاتلہ کرےاس جگہ خصوصیت سے ایک بات کا لحاظ رکھنے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہوتاہے کہ جلدی سے کسی مسجد میں آٹھ دس دن میں کلام مجید سن لیں پھر چھٹی۔ یہ خیال رکھنے کی بات ہے کہ یہ دوسنتیں الگ الگ ہیں، تمام کلام اللہ شریف کا تروایح میں پڑھنا یا سننا یہ مستقل سنت ہے اور پورے رمضان شریف کی تراویح مستقل سنت ہے ، پس اس صورت میںایک سنت پر عمل ہوا اور دوسری رہ گئی، البتہ جن لوگوں کو رمضان المبارک میں سفر وغیرہ یا اور کسی وجہ سے ایک جگہ روزانہ تراویح پڑھنی مشکل ہو ان کے لئے مناسب ہےکہ اول قرآن شریف چند روز میں سن لیں تاکہ قرآن شریف ناقص نہ رہے، پھر جہاں وقت ملا اور موقع ہوا وہاں تراویح پڑھ لی کہ قرآن شریف بھی اس صورت میں ناقص نہیں ہوگا اور اپنے کام کابھی حرج نہ ہوگا۔ حضورﷺ نے روزہ اور تراویح کاذکرفرمانے کے بعد عام فرض اور نفل عبادات کے اہتمام کی طرف متوجہ فرمایا، کہ اس میں ایک نفل کاثواب دوسرے مہینوں کے فرائض کے برابر ہے اور اس کے ایک فرض کا ثواب دوسرے مہینوں کے ستّر فرائض کے برابر ہے اس جگہ ہم لوگوںکو اپنی اپنی عبادات کی طرف بھی ذراغور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس مبارک مہینہ میں فرائض کاہم سے کس قدر اہتمام ہوتاہے اور نوافل میںکتنا اضافہ ہوتاہے۔ فرائض میں تو ہمارے اہتمام کی یہ حالت ہے کہ سحر کھانے کے بعد جو سوتے ہیں تو اکثر صبح کی نماز قضا ہوگئی۔ اور کم از کم جماعت تو اکثروں کی فوت ہوہی جاتی ہے گویا سحر کھانے کاشکریہ ادا کیا کہ اللہ کے سب سے زیادہ مہتم بالشان فرض کو یا بالکل قضا کردیا یاکم ازکم ناقص کردیا کہ بغیر جماعت کے نماز پڑھنے کو اہل اصول نے اداء ناقص فرمایا ہے۔ اور حضور اکرم ﷺ کاتوایک جگہ ارشاد ہے کہ مسجد کے قریب رہنے والوںکی تو (گویا) نماز بغیرمسجد کے ہوتی ہی نہیں ۔
مظاہر حق میں لکھا ہے کہ جو شخص بغیرعذر کے بدون جماعت نماز پڑھتاہے اس کے ذمہ سے فرض توساقط ہوجاتاہے مگر اس کو نماز کا ثواب نہیں ملتا۔ اسی طرح دوسری نماز مغرب کی بھی جماعت اکثروںکی افطار کی نذرہوجاتی ہے اور رکعت اولیٰ یا تکبیر اولیٰ کاتوذکر ہی کیاہے۔ اور بہت سے لوگ تو عشاء کی نماز بھی تراویح کے احسان کے بدلے میں وقت سے پہلے ہی پڑھ لیتے ہیں۔ یہ تورمضان المبارک میں ہماری نماز کاحال ہے جو اہم ترین فرائض میں ہے کہ ایک فرض کے بدلےمیں تین کو ضائع کیا یہ تین تواکثر ہیں ورنہ ظہر کی نماز قیلولہ کی نذر اور عصر کی جماعت افطاری کاسامان خریدنے کی نذرہوتے ہوئے آنکھوں سے دیکھاگیاہے۔ اسی طرح اور فرائض پر آپ خود غور فرمالیں کہ کتنا اہتمام رمضان المبارک میں ان کا کیاجاتاہے۔ اور جب فرائض کا یہ حال ہے تو نوافل کاکیاپوچھنا اشراق اور چاشت تورمضان المبارک میں سونے کی نذر ہوہی جاتےہیں اور اوّابین کا کیسے اہتمام ہوسکتاہے جب کہ ابھی روزہ کھولاہے اور آئندہ تراویح کا سہم ہے، اور تہجد کاوقت تو ہے ہی عین سحر کھانے کا وقت، پھر نوافل کی گنجائش کہاں، لیکن یہ سب باتیں بے توجہی اور نہ کرنے کی ہیں کہ ؏
توہی اگرنہ چاہے تو باتیں ہزارہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ



