Uncategorized

مَضَامینِ رَمضَانُ المُبَارک- (۱۴)۔۔۔۔۔احکامات تراویح

تراویح میں عورتوں کی جماعت
س: تراویح میں عورتوںکی جماعت کیسی ہے جبکہ امام بھی عورت ہو اور مقتدی بھی عورت ہو؟
جوعورت حافظ قرآن ہو اور تراویح میں سنائے بغیر اس کا قرآن کریم حفظ نہ رہ سکتا ہو بھولنے کااندیشہ ہوتو کیا ایسی حافظہ عورت گھر کے اندر عورتوں کی جماعت میں تراویح کے اندر قرآن کریم سناسکتی ہے یانہیں؟
ج: عورتوں کی جماعت کے بارے میں اصل حکم یہی ہے کہ ان کی جماعت مکروہ تحریمی ہے اگرچہ تراویح میں ہو اس لئے خواتین کو تراویح او روتر کی نماز بغیر جماعت کے الگ الگ پڑھنی چاہیے۔ البتہ جو عورت قرآن کریم کی حافظ ہو اور تراویح میں سنائے بغیر حفظ رکھنا مشکل ہو اور بھولنے کا قوی اندیشہ ہوتو ایسی صورت میں عورتوں کی جماعت تراویح میں حافظہ عورت کو قرآن کریم سنانے کی کوئی تصریح تونہیں ملی۔ لیکن حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ بلاتداعی صرف گھر کی خواتین کوحافظہ خاتون کے قرآن کریم کی یادداشت محفوظ رکھنے کی غرض سے اس شرط کے ساتھ اجازت دیاکرتے تھے کہ حافظہ خاتون کی آواز گھر سے باہر نہ جائے اور تداعی سے پرہیز کیاجائے۔
تداعی سے پرہیز کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اندر دوباتوں میں سے کوئی بات نہ پائی جائے۔
(۱) ایک یہ کہ اس کے لئے باقاعدہ اہتمام کرکے خواتین کونہ بلایاجائے۔
(۲) دوسرے یہ کہ اگرچہ اہتمام سے خواتین کو نہ بلاجائے لیکن اقتداء کرنے والی خواتین کی تعداد امام خاتون کے علاوہ دو تین سے زیادہ نہ ہو۔
حضرت مفتی صاحب ؒ کی اس اجازت کی تائید تصریحات ذیل سے ہوتی ہے بلکہ آخری تصریح سےمعلوم ہوتاہے کہ حافظہ خاتون کی اگر صرف ایک ہی خاتون مقتدی ہو اور دونوںبرابر کھڑی ہوں تو اس میں کچھ کراہت نہیں۔
بہرحال جہاں تک ہوسکے حافظہ خواتین کوبھی ختم تراویح کی جماعت سے پرہیز کرنا چاہیے البتہ بوقت ضرورت ، شرائط مذکورہ کے ساتھ ان مذکورہ گنجائش پر عمل کرسکتی ہیں۔
وفی خلاصۃ الفتاوی: امامۃ المرأۃ للنساء جائزہإلا ان صلاتھن فرای افضل ۔(جلد۱، صفحہ ۱۴۷)
قولہ ویکرہ تحریمًا جماعۃ النساء لان الامام ان تقدمت لزم زیادۃ الکشف وان وقفت وسط الصف لزم ترک المقام مقامہ وکل منہما مکروہ کمافی العنایۃ وھٰذا یقتضی عدم الکراہۃ لواقتدت واحدۃ فقط محاذیۃ لفقد الامرین۔ طحطاوی علی الدر ،جلد۱، صفحہ ۱۴۷ (بتبویب رجسٹر ۳۵۷/۳۷ ایف)
تراویح میں نابالغ بچہ کی امامت
س: نابالغ بچہ کلام پاک کاحافظ ہے کیامَردوں کی تراویح پڑھاسکتاہے؟
ج: مختار اور صحیح قول یہ ہے کہ نابالغ بچہ خواہ قریب البلوغ ہی کیوں نہ ہو تراویح میں بالغوں کی امامت نہیں کراسکتا اور ان کو تراویح نہیں پڑھاسکتا۔۔۔۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button