ناندیڑ میونسپل کارپوریشن کا پہلا اجلاس عام ہنگامے کی نذر

ناندیڑ:(نامہ نگار)17؍مارچ :ناندیڑ-واگھالہ شہر میونسپل کارپوریشن کا پہلا جنرل باڈی اجلاس زبردست ہنگامے اور شوروغل کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ توقع تھی کہ اس اجلاس میں شہر کی ترقی سے متعلق اہم مسائل پر بحث ہوگی، لیکن مجسمہ نصب کرنے کی تجویز پر ایوان میں ایسا شدید تنازعہ کھڑا ہوا کہ انتظامیہ کو کچھ ہی دیر میں اجلاس کی کارروائی سمیٹنی پڑی۔تفصیلات کے مطابق، اجلاس کے آغاز میں ہی بی جے پی کے ایک کارپوریٹر نے شہر میں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کا مجسمہ نصب کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس پر کچھ دیر بحث جاری رہی، جس کے بعد کانگریس اور ونچت بہوجن اگھاڑی کے کارپوریٹروں نے بھی اپنا موقف پیش کر دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہر میں صرف ایک رہنما کے بجائے مختلف قومی اور تاریخی شخصیات کے مجسمے بھی نصب کیے جائیں۔ اپوزیشن نے سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام، میسور کے عظیم مجاہد ٹیپو سلطان اور دیگر عظیم شخصیات کے مجسمے نصب کرنے کی تجویز رکھی۔اس مطالبے کے بعد ایوان کا ماحول گرما گیا۔ مختلف پارٹیوں کے کارپوریٹروں کے درمیان شدید بحث و مباحثہ اور نعرے بازی شروع ہو گئی۔ صورتحال کو قابو سے باہر ہوتا دیکھ کر کارروائی کو کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دیا گیا اور بالآخر اسی ہنگامہ خیز ماحول میں جنرل باڈی میٹنگ کو ختم کر دیا گیا۔اس اجلاس میں شہر میں پانی کی فراہمی، خستہ حال سڑکوں، صفائی ستھرائی، شہری سہولیات اور دیگر کئی زیر التوا مسائل پر بحث متوقع تھی، لیکن کسی بھی اہم عوامی مسئلے پر بات کیے بغیر اجلاس کے ختم ہونے پر اپوزیشن پارٹیوں نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔کانگریس اور لوک وکاس اگھاڑی کے گروپ لیڈر پرشانت انگولے، کارپوریٹر و سابق ڈپٹی میئر عبدالغفار اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے کارپوریٹر صابر چاؤش نے اس صورتحال پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے حکمران جماعت پر الزام لگایا کہ شہر کے بنیادی مسائل کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ میونسپل کارپوریشن کے پہلے ہی اجلاس میں شہر کی ترقی کے روڈ میپ، رکے ہوئے کاموں اور شہریوں کے مسائل پر بات ہونی چاہیے تھی۔ لیکن ایسا نہ کرکے صرف اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ایوان میں ہونے والی اس ہنگامہ آرائی اور سیاست کے بعد اب عام شہری بھی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ناندیڑ شہر کے دیرینہ اور بنیادی مسائل پر آخر کب توجہ دی جائے گی؟



