حرمین شریفین کے متبرک مقامات اور مشہوراعمال کے اصطلاحی نام-(2)

بابُ السَّلام :یہ مسجد حرام کےا س دروازہ کانام ہے جو صفا مروہ کی طرف سے داخل ہونے میں پڑتاہے۔ بیت اللہ شریف میں سب سے پہلے اسی دروازہ سے داخل ہونا افضل ہے۔ اور صفا مروہ کی طرف سے بہت سے دروازے ہیں۔ ہردروازے پر نام لکھا ہوا ہے۔ نیز مدینہ منورہ میں مسجد نبویؐ کے ایک دروازہ کانام بھی باب السلام ہے۔
بابُ الفتح :یہ مسجد حرام کا ایک بڑا گیٹ ہے جو دوبڑے میناروں کے درمیان میں ہے۔ اور فتح مکہ کے موقع پر حضور اکرم ﷺ اسی دروازے کی طرف سے حرم مکرم میں داخل ہوئے تھے۔
بابُ العمرہ :یہ مسجد حرام کا ایک بڑا گیٹ ہے جو دومیناروں کے درمیان میں ہے۔ اور عمرۃ القضا کے موقع پر حضور اکرم ﷺ اسی گیٹ سے داخل ہوئے تھے۔ اور اس گیٹ سے نکلنے کے بعد تھوڑے فاصلہ پر سامنے مدرسہ صولتیہ ہے۔
بابُ الفہد :یہ مسجد حرام کے اس حصہ کا بڑا گیٹ ہے جو شاہ فہد نے نیا حرم بنایا ہے۔ اور مسجد حرام کا یہ حصہ ایرکنڈیشن ہے۔ اس حصہ سے نکلنے کا یہ گیٹ بھی بہت بڑا ہے ۔ اور دو بڑے میناروں کے درمیان میں ہے۔
باب عبدالعزیز :یہ کبھی دوبڑے میناروں کے درمیان میں بہت بڑا گیٹ ہے۔ اس گیٹ سے داخل ہونے کے بعد خانۂ کعبہ کا رُکن یمانی سامنے پڑتا ہےاور اس گیٹ کو بابُ السَّعود بھی کہاجاتا ہے۔ اور مسجد نبویؐ میں بھی ایک دروازہ باب عبدالعزیز سے موسوم ہے۔
بابِ بلالؓ :یہ بھی مسجد حرام کا بڑا گیٹ ہے۔ مگر اس گیٹ پر ایک مینار ہے۔ یہ گیٹ صفا پہاڑی اور باب عبدالعزیز کے درمیانی حصہ میں ہے۔ ان ابواب کے علاوہ مسجد حرام میں داخل ہونے کیلئے اوربھی بہت سے چھوٹے چھوٹے دروازے ہیں۔ مثلاً باب مدینہ، باب حدیبیہ، باب بنو شیبہ وغیرہ۔ اور مسجد حرام میں داخل ہونے کیلئے کل ۹۵ دروازے ہیں۔
باب جبریلؑ :یہ مسجد نبویؐ کا وہ دروازہ ہے جس سے حضرت جبرئیل امین علیہ السلام سرکار دوعالم ﷺ کی خدمت میں تشریف لایاکرتے تھے۔ اس دروازہ سے باہر نکلنے سے جنۃ البقیع سامنے پڑتا ہے۔ اور اس دروازہ سے داخل ہونے کے بعد دائیں ہاتھ کو جانب شمال میں اصحاب صفہ کی قیام گاہ پڑے گی۔ اوربائیں ہاتھ کو جانب جنوب میں یعنی جانب قبلہ میں حضرت فاطمہؓ کاحجرہ ہے۔ اورتھوڑا سا آگے بڑھنے پر حجرہ فاطمہؓ ختم ہوکر بائیں ہاتھ کو ریاض الجنّہ کا حصہ شروع ہوجاتاہے۔
بابُ النساء :یہ دروازہ بھی مسجد نبوی کا قدیم دروازہ ہے۔ جو باب جبرئیل ؑ کی جانب میں اس سے ذراسا ہٹ کر واقع ہے۔
باب عبدالعزیز :یہ بھی مسجد نبویؐ کاایک دروازہ ہے اور مسجد نبویؐ میں مشرقی سمت میں تین دروازے بہت بڑے بڑے اور مشہور ہیں۔(۱) باب جبرئیل ؑ (۲) باب النساء (۳) باب عبدالعزیز ۔ ان میں سے باب عبدالعزیز جدید ہے ، اور باب جبرئیل اور باب النساء قدیم ہں۔
باب عمرؓ، باب مجیدی،باب عثمانؓ : مسجد نبوی کی جانب شمال میں تین دروازے بہت بڑے بڑے اور مشہور ہیں(۱) باب عمرؓ (۲) باب مجیدی (۳) باب عثمانؓ۔ ان میں باب عمرؓ اور باب عثمانؓ سعودی حکومت نے بنائے ہیں۔ اور باب مجیدی ترکی حکومت کے زمانہ میں سلطان عبدالمجید ترکی نے بنایاہے۔ اور ان میں باب مجیدی درمیان میں ہے۔ اور باب عمرؓبائیں جانب اور باب عثمانؓ داہنی جانب میں واقع ہے۔ اور مسجد نبویؐ میں ترکوں کی تعمیر کا حصہ بہت بڑے بڑے آثار کے ساتھ سُرخ رنگ میں رنگا ہواہے۔
بدنہ : طوافِ زیارت سے قبل بیوی سے ہمبستری ہوجائے۔ یا حالت جنابت یا حالت حیض ونفاس میں طواف زیارت کیاجائے تو جرمانہ میں ایک اونٹ یاگائے کی قربانی واجب ہوتی ہے اس کو بدنہ کہتے ہیں۔
تلبیہ : اس کے معنی لبیک کہنے کے ہیں جو بوقت احرام پڑھاجاتا ہے اس کی تفصیل تلبیہ کے عنوان میں دیکھ لی جائے۔
تکبیر : اس کے معنی اللہ اکبر کہنے اور تکبیر تشریق کے الفاظ پڑھنے کے ہیں۔(فتاویٰ محمودیہ ۵۴۱ میںیہی لکھاہے۔)
تہلیل : اس کےمعنی لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ پڑھنے کے ہیں۔
[از کتاب انوارمناسک۔مؤلف حضرت مفتی شبیر احمد صاحب قاسمی ]
۔۔۔۔۔۔(جاری ہے۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)۔۔۔۔۔۔۔



