مضامین

حرمین شریفین کے متبرک مقامات اور مشہوراعمال کے اصطلاحی نام-(4)

جبلِ اُحد : یہ مدینۃ المنورہ کی آبادی سے باہر ایک کنارے پر کافی لمبا چوڑا پہاڑ ہے۔ اسی پہاڑ کے دامن پر جنگ اُحد ہوئی تھی۔ اور یہیں پر سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا مزار مبارک ہے۔ اور احد کے موقع پر جو ستر(۷۰) صحابہؓ شہید ہوئے ان سب کا مزار اسی جگہ پر ہے۔ اور اس قبرستان کو چاروں طرف سے جالی سے گھیر دیاگیاہے۔ جب مدینۃ المنورہ پہونچ جائے تو شہداء احد کے مزارات کی زیارت کرنا بھی مستحب ہے۔
جبلِ ابو قبیس : یہ مکۃ المکرمہ میں مسجد حرم سے متصل حجر اسود کی جانب بہت بڑا پہاڑ ہے۔ صفا پہاڑی جبل ابوقبیس ہی کے دامن پر ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے۔ اورجبل ابو قبیس کے اوپر اس وقت شاہی خاندان کے مکانات بنے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پہاڑوں میں سب سے پہلے اسی پہاڑ کو پیدا فرمایاتھا۔ طوفانِ نوحؑ کے بعد اس پہاڑ پر سب سے پہلے ایک شخص ابو قبیس نامی نے مکان بنایاتھا اس لئے اس کانام جبل ابوقبیس پڑگیاتھا۔
جبلِ رحمت : یہ میدان عرفاتن کے درمیان میں ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے۔ وہاں جاکر دو رکعت نماز پڑھ کر دعائیں مانگنا باعث قبولیت ہے۔ عرفات کے دن اس پہاڑ پر بہت بھیڑ ہوتی ہے۔ اس لئے کمزور لوگوں کو اس پر چڑھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ بھیڑ میں جان کاخطرہ ہوجاتاہے۔
جبلِ قزح : یہ میدان مزدلفہ میں ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے جس کےدامن پر مسجد مشعر حرام بنی ہوئی ہے۔ اور اس پہاڑ کے آثار معمولی درجہ کے باقی ہیں۔ جب عرفات سے مزدلفہ کوچلیں گے تودائین بائیں اونچے اونچے دوپہاڑ ہیں۔ جب دونوں پہاڑی کے درمیان سے گزریں گے تو پہاڑ کا حصہ ختم ہوجانے کے بعد مزدلفہ کا حصہ شرو ع ہوجاتاہے۔ اور سامنے ہی جبل قزح اور مسجد مشعر حرام نظر آئے گی۔
جبلِ ثور : یہ مکۃ المکرمہ سے جانب جنوب اور مشرق میں ایک بہت بڑا پہاڑ ہے۔ اور مکہ کے تمام پہاڑوں میں یہ سب سے اونچا پہاڑ ہے۔ سخت گرمی کے زمانہ میں اس کے اوپر کی چوٹی میں تھنڈی ہوا چلتی ہے۔ اور اسی پہاڑ کی چوٹی پر غار ثور ہے ۔ اور ایک چھوٹی سی پہاڑی جبل ثور کے نام سے مدینہ منورہ میں بھی ہے جو جبل اُحد کے دامن میں ہے۔
جبلِ حراء : یہ مسجد حرام سے جانب مشرق میں تقریباً چھ کلومیٹر کے فاصلہ پر بہت اونچا پہاڑ ہے۔ اس پہاڑ کی چوٹی پر غار حراء ہے۔ اسی میں حضرت سیدالکونین کو نبوت ملی تھی۔ اور غارحراء سےخانۂ کعبہ سامنے نظرآتا ہے۔ لیکن اس زمانہ میں کعبۃ اللہ کے چاروں جانب دو دو منزلہ مسجد حرام بن جانے کی وجہ سے کعبۃ اللہ نظرنہیں آتا۔ مسجد حرام کی چھتیں نظرآتی ہیں۔
جبلِ نور : یہ جبل حراء کا دوسرا نام ہے۔ آج کل یہ پہاڑ جبل نور ہی کے نام سے زیادہ مشہور ہے۔
جبلِ قعیقعان : یہ وہ پہاڑ ہے جو حطیم کعبہ کی جانب جبل ابوقبیس کے مد مقابل میں واقع ہے۔ اور جب حرم شریف سے بابُ الفتح اور بابُ العمر ہ کے درمیانی حصہ سے باہر نکلیں گے تو سامنے یہی پہاڑ پڑے گا اور اسی کی جانب اس وقت باب مدینہ اور باب حدیبیہ واقع ہے۔ (ابوداؤد شریف ۔ج:۱۔ص:۲۵۹)
اس طرف کے علاقہ کو فی الحال شامیہ کہاجاتاہے اورعمرۃ القضاء کے موقع پر قریش مکہ مکرمہ خالی کرکے اسی پہاڑ پرجاکر قیام کئے ہوئے تھے اور کہنے لگے تھے کہ یثرب کے بخارنے ان لوگوںکو کمزور کردیاہے۔ توآپؐ نے صحابہؓ کوحکم فرمایا کہ شروع کے تین چکروں میں رمل کریں۔ (مستفاد بخاری شریف ۲/۶۱۱۱، طحاوی شریف ۱/۲۹۲)
جبلِ سلع : جبل سلع وہ مشہور پہاڑ ہے جس کے دامن میں خندق کھودی گئی تھی۔ اور غزوہ خندق اسی پہاڑ کے دامن میں پیش آیاتھا۔ اور اسی پہاڑ کےدامن میں اس وقت مساجد ستّہ بنی ہوئی ہیں جن کاذکر آگے آرہاہے۔ (مستفاد فتح القدیر ۔ج:۳۔ص:۱۸۳)
مگر اب ان میں سے کئی مسجدیں شہید کردی گئیں اوربیچ میدان میں ایک بڑی مسجد تعمیر ہورہی ہے۔
جحفہ : یہ مقام رابغ کے قریب ایک مقام ہے اسکو مہیعہ اور مقام خرباء بھی کہا جاتا ہے۔ ا س زمانہ میں یہ مقام ویران ساہوگیاہے۔ اور یہ مقام مسجد حرام سے تقریباً ۱۸۷ کلومیٹر دوری پر واقع ہے۔ (تاریخ مکہ مکرمہ /۳۰)
اوریہ شام ،مصر، الجزائر، سوڈان اور براعظم افریقہ کی طرف سے خشکی کے راستہ سے آنے والوں کیلئے میقات ہے۔ نیز ترکستان ، بلغاریہ، فلسطین ، جرمنی ، فرانس ، برطانیہ وغیرہ سے خشکی کے راستہ سے آنے والوں کیلئے بھی میقات ہے۔ ان لوگوں کو اسی جگہ سے احرام باندھنا واجب ہے۔
[از کتاب انوارمناسک۔مؤلف حضرت مفتی شبیر احمد صاحب قاسمی ]
۔۔۔۔۔۔(جاری ہے۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button