مضامین

حرمین شریفین کے متبرک مقامات اور مشہوراعمال کے اصطلاحی نام-(5)

جبلِ قرن : یہ مقام مکۃ المکرمہا سے اسّی ۸۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ اہل نجد اور خلیجی ممالک کی طرف سے آنے والوں کے لئے یہ میقات ہے۔
جبلِ یلملم : یہ مکۃ المکرمہ سے تقریباً ایکسوتیس (۱۳۰) کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک پہاڑ ہے اس کے قریب کی آبادی کو سعدیہ کہاجاتاہے۔ (تاریخ مکہ مکرمہ/۲۸)
اور یمن اور اس طرف سے آنے والوں کیلئے یہ میقات ہے۔ اور ساحلی ممالک سے جو لوگ بحری جہاز سے جدہ پہونچتے ہیں وہ سب ادہرہی سے گزرتے ہیں۔ مسقط، پاکستان، ہندوستان ، بنگلہ دیش ، برما، سنگاپور، تھائی لینڈ، ملیشیا، انڈونیشیا، آسٹریلیا وغیرہ سے بحری جہاز سے آنے والوں کیلئے یہ میقات ہے۔ مگر جدہ اس کے محاذ میں پڑتاہے۔ اسلئے بحری راستہ سے آنے والوں کیلئے جدہ میں بھی احرام باندھنا جائز ہے۔
حجراسود : ترمذی شریف ج۱،ص:۱۷۷ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے حدیث شریف مروی ہے کہ حجر اسود جنت کے یاقوت کا ایک پتھر ہے۔ اس کے نور کو اللہ تعالیٰ نے ختم کرکے دنیا میں اتاراہے۔ اگر اس کے نور کو ختم نہ کیاجاتا تو مشرق ومغرب اس کی روشنی سے منور ہوجاتے ۔ جس وقت اسکو اتاراجارہاتھا بالکل دودھ کی طرح سفید تھامگر بنی آدم کی خطاؤں نے اسکو سیاہ کردیاہے۔ یہ بیت اللہ شریف کے مشرقی جنوبی گوشہ میں قدِ آدم کے قریب اونچائی پر دیوار میں گڑاہواہے۔ اس کے چاروں طرف چاندی کا حلقہ چڑھا ہواہے ۔ اور حجر اسود کو کسی زمانہ میں بلوائیوں نے ٹکڑے ٹکڑے کردیاتھا۔ ان ٹکڑوں میں سے چھوٹے بڑے گیارہ (۱۱) ٹکڑے اس وقت چاندی کے اس حلقہ کے اندر جڑے ہوئے ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی صرف حلقہ کے اندر بوسہ دے گا تو حجراسود کو بوسہ دینا ثابت نہ ہوگا۔ بلکہ حجر اسود پربوسہ اس وقت صحیح ہوگا جبکہ پتھر کے ان ٹکڑوں پر بوسہ دیاجائے۔
حطیم : یہ بیت اللہ شریف کی جانب شمال میں بیت اللہ سے متصل قد آدم دیوار سے گھرا ہوا ہے۔ یہ درحقیقت بیت اللہ شریف کا حصہ ہے۔ جب قریش مکہ نے حضور ﷺ کی سینتیس (۳۷) سال کی عمر میں زمانۂ اسلام سے پہلے خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی، تو حلال پیسہ کی کمی کی وجہ سے یہ حصہ چھوڑ دیاتھا۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے منشاء نبوت کے مطابق اس کو خانہ کعبہ میں شامل فرمایاتھا۔ مگر حجاج بن یوسف نے اس کو ختم کرکے پُرانی تعمیر کی ہم شکل بنادیا ہے۔ پھر خلیفۂ ہارون رشید نے منشاء نبوت کےمطابق دوبارہ تعمیر کا ارادہ فرمایاتھا۔ مگر اس زمانہ مین سلطنت اسلامی کے مفتی حضر ت امام مالکؒ تھے۔ انہوں نے فتویٰ دیا کہ اب قیامت تک کیلئے ترمیم جائز نہ ہوگی۔ ورنہ ہرزمانہ کے آنے والے بادشاہ خانۂ کعبہ میں ترمیم کرتے جائیں گے۔ تو خانہ کعبہ بادشاہوں کاکھلواڑ بن کر رہ جائے گا۔ اس لئے اسی حالت میں قیامت تک باقی رہےگا۔ (اوجزالمسالک ۳/۴۸۶) اس کی تفصیل بیت اللہ کی تاریخی جھلکیاں کے عنوان کے اخیر میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ [از کتاب انوارمناسک۔مؤلف حضرت مفتی شبیر احمد صاحب قاسمی ]
۔۔۔۔۔۔(جاری ہے۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button