مضامین

مولا۔۔۔۔۔۔۔پانی دے

محمدقمرالاسلام المعروف خالد یونس انصاری
ملت نگر،ناندیڑ
ائے مولاکر کرم تیرا
حکم کر آب باراں کو
جنگل کے جھاڑ سوکھے
تیری رحمت کے ہیں بھوکے
چرند پرند درخت پیڑپودے سب پریشان ہیں۔
شدت کی گرمی سے ہر ذی روح پریشان ، پرندوں کے حلق سوکھ گئے ہیں۔ پیڑ پودے سوکھ گئے ہیں ، ہونٹوں پر پپڑیاں جم رہی ہیں، ہم بندگی بھول گئے ہیں۔ ہمیں جمعہ کے خطبہ کے دوران نیند آنے لگتی ہے ۔ جمعہ کی دورکعت فرض پڑھ کر ہم مسجد سے یوں بے تابانہ باہر نکلتےہیں گویا کسی جیل خانے سے قیدی نکلتے ہیں۔
تجارت میں کاروبار میں دغابازی بے ایمانی ناپ تول میں کمی بدعنوانی ہمارا شیوہ بن چکاہے۔ دودھ تودودھ سُرخ پسی ہوئی مرچ میں ملاوٹ ہمارا وطیرہ بن گیا۔ فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی ۔
رمضان المبارک کے ختم ہونے کے بعد ہم مسجدوں کا رُخ کرنا ہی بھول گئے۔ والدین کی ،بزرگوں کی نافرمانی ہمارا معمول بن گیا۔ اس پر ستم یہ کہ گرمی اور دھوپ کی شدت سے ہم سب کا جینا دوبھر ہوگیاہے۔
مولا۔۔۔۔ اب پانی کی ضرورت ہے۔ پیڑپودے ، ندی نالے، جوہڑ خشک ہوگئے۔ ہماری خواتین صبح سویرے گھر کے سامنے جھاڑو لگاتی ہیں اور سارا کچرا پڑوسی کے گھر کے سامنے لگادیتی ہیں۔
پڑوسیوں کے گھروں کے سامنے اپنے چھوٹے بچوں کو اجابت کے لیے بٹھا کر اپنی گندی ذہنیت کا ثبوت دیتی ہیں۔
نہ ہم اچھے مسلمان رہے نہ اچھے پڑوسی ۔ ستم یہ کہ گرمی اور دھوپ کی شدت نے جینا مشکل کردیا ۔
مولا۔۔۔۔ رحم کر اب پانی بھیج دے۔ہرشام اُفق پر بادل تو منڈلاتے ہیں لیکن یہ بادل برسے بغیر نکل جاتےہیں۔
عاجزانہ التماس ہے کہ مولانا پانی دے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button