مضامین

احکاماتِ نکاح-(۴)

اللہ رسول کی گواہی کافی نہیں، دومرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی سے نکاح ہوجاتاہے
سوال:(۲۰) ایک عورت اور ایک مرد نے اول تنہائی میں ایجاب وقبول کرلیا اس جگہ اور کوئی موجود نہ تھا خدا ورسول کو دونوں نے درمیان میں دیاتھا۔ پھر کچھ عرصہ کے بعد ایک مرد اور دو عورتوں کے سامنے پھر دونوں نے ایجاب وقبول کیا۔ تونکاح درست ہوایانہیں۔
الجواب:تنہائ میں صرف مرد اور عورت کے ایجاب وقبول کرنے سے نکاح نہیں ہوتا۔ اور اللہ اور رسول ﷺ کی گواہی پر نکاح کرنے کو بعض فقہانے کفر لکھاہے۔ بہرحال یہ سخت گناہ ہے اور نکاح صحیح نہیں ہوتا۔ البتہ اگر پھر دومرد یاایک مرد دوعورتوں کے سامنے پھر ایجاب وقبول کیاجاوے تو نکاح صحیح ہوجاوے گا۔
باہم خود دوگواہوں کے سامنے ایجاب وقبول سے نکاح ہوجاتاہے
سوال:(۲۱) ایک شخص روبرو دوگواہوں کے اپنا نکاح خود ہی ایک عورت بیوہ سے باندہتا ہے اور باہم ایجاب وقبول ہوتاہے ،کیایہ نکاح جائز ہے۔
الجواب: یہ نکاح صحیح ہے اور شریعت میں اعلان نکاح دوگواہوں کے ساتھ مسلّم رکھاہے، گویا ضروری اعلان حاصل ہوگیا۔
عورت نے کہاخود کو تمہارے نکاح میں دیتی ہوں ، مرد نے کہا قبول کیا، تونکاح ہوگیا
سوال:(۲۲) زید اور ہندہ نے اپنانکاح دو گواہوں کے سامنے اس طرح پرکرلیا کہ ہندہ نے زید سے کہاکہ میں خود کو تمہارے نکاح میں دیتی ہوں، زید نے کہا میں نےقبول کیا۔ یہ نکاح جائز ہے یانہیں۔
الجواب: اگردوگواہوں کے سامنے زید و ہندہ نے بطریق مذکورایجاب و قبول کیا تو نکاح منعقد ہوگیا۔ ہکذافی الدارالمختار ۔فقط
بلاایجاب وقبول نکاح نہیں ہوتا
سوال:(۲۳) زید اپنے نابالغ لڑکے کی برات بکر کی دختر نابالغہ سے لے گیا۔ جب ملا صاحب واسطے نکاح کے بیٹھے ، شاہدان کے لئے جوکلمات برائے شناخت گواہان کہلوائے جاتےہیں اس نے نہ کہا اور نہ قبولیت کے الفاظ اپنی زبان سے کہہ سکا نہ زید نے قبول کیا۔ اب زوجین بالغ ہوگئی ہیں اور بکر کہتاہے کہ اس وقت نکاح منعقد نہیں ہواتھا لہٰذا ہم رخصت نہیں کرسکتے بلکہ دوسری جگہ شادی کاسامان کررہاہے ، آیا نکاح منعقد ہوا یا نہیں اور دوسری جگہ نکاح درست ہے یانہیں۔
الجواب: بدون ایجاب وقبول کے نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ پس صورت مذکور میں نکاح منعقد نہیں ہوا۔درمختار میں ہے وینعقد ملتبسًا بایجاب من احد ھما وقبول من الاخروضعاللمضی الخ وفیہ ایضًا وشرط حضور شاھدین حرین مکلفین سامعین قولھما معًا علی الاالخ ملخصًا فقط۔
مذکورہ صورت میں نکاح درست نہیں
سوال:(۲۴) الٰہی بخش نے مسماۃ چندو کومنی آرڈر بھیجا اور اس میں لکھا کہ چندواگر تم نے منی آرڈر لیاتوتم میرے نکاح میں آجاؤ گی اور گواہ نکاح کے وہ لوگ ہوں گے جن کے سامنے منی آرڈر وصول کروگی۔ اس طرح نکاح منعقد ہوگا یا نہیں۔
الجواب: اس طرح نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ فقط
[فتاویٰ دارالعلوم دیوبند۔جلد۷)۔۔۔جاری ہے۔۔ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button