احکاماتِ جمعہ

جمعہ میں جلدی مطلوب ہے
سوال(۲۳۳۸): انجمن اسلامیہ انبالہ کے زیر اہتمام ایک جامع مسجد ہے جس میں انجمن کی طرف سے ایک امام مقرر ہیں، چند مرتبہ ان سے کہاگیا کہ بنظر استحباب نماز جمعہ میں جلدی نہ کی جائے اور بموجب احکام حنفیہ کافی انتظار کے بعد نماز جمعہ ادا کی جائے۔ آیا امام کا جمعہ کوجلدی پڑھنا کیساہے۔
الجواب: حنفیہ کےنزدیک موافق قول جمہور جمعہ میں ابراد یعنی تاخیر مشروع نہیںہے بلکہ جمعہ کو بعد زوال کے جلد پڑھنا بہتر ہے۔قَالَ فِي الشَّامِيِّ: لَكِنْ جَزَمَ فِي الأَشْبَاهِ مِنْ فَنِّ الأَحْكَامِ أَنَّهُ لَا يُسَنُّ لَهَا الإِبْرَادُ.۔۔۔الخ پس معلوم ہوا کہ امام کا یہ فعل کہ جمعہ کو جلد پڑھتے ہیں موافق شریعت کے ہے۔ لہٰذا انجمن وغیرہ کویہ حق نہیں ہے کہ وہ امام کو تعجیل جمعہ سے منع کریں۔ فقط
جمعہ کے لئے مستحب وقت
سوال(۲۳۳۹): بموجب عقائد حنفیہ آج کل جمعہ کے لئے مستحب وقت کیاہے۔
الجواب: حنفیہ کا صحیح مذہب یہ ہے کہ جمعہ میں تعجیل مستحب ہے۔ ابراد یعنی تاخیر جو کہ ظہر کی نماز میں موسم گرما میں مستحب ہے وہ جمعہ میں نہیں ہے بلکہ جمعہ کو جلد ادا کرنا مستحب ہے اور احادیث سے بھی جمعہ کی تعجیل ہی ثابت ہوتی ہے۔ پس زوال کے بعد مثلاً ساڑھے بارہ بجے اذان جمعہ ہونی چاہیے پھر دس پندرہ منٹ بعد خطبہ، اور اس کے بعد نماز ہونی چاہیے، مثلاً ایک بجے تک یہ سب کام ہوجاویں یا کسی قدر کم وبیش ہو۔
قَالَ فِي رَدِّ الْمُحْتَارِ: لَكِنْ جَزَمَ فِي الْأَشْبَاهِ مِنْ فَنِّ الْأَحْكَامِ أَنَّهُ لَا يُسَنُّ لَهَا الْإِبْرَادُ الخ . ثُمَّ قَالَ: وَقَالَ الْجُمْهُورُ: لَيْسَ بِمَشْرُوعٍ؛ لِأَنَّهَا تُقَامُ بِجَمْعٍ عَظِيمٍ، فَتَأْخِيرُهَا مُفْضٍ إِلَى الْحَرَجِ.۔شامی جلد اول صفحہ ۲۴۵۔
پس ایسے امور میں امام کو اوقات مستحبہ کی رعایت چاہیے۔ متولی کی ہدایت پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے، اور متولی کو ہدایات دینے کی حاجت بھی نہیں ہے۔ جو اوقات نمازوں کے مستحب ہیں امام خود ان کی روایت رکھے گا ۔ فقط
قعدہ جمعہ میں ملنے سے نماز جمعہ ادا ہوگئی
سوال(۲۳۴۰): ایک شخص نماز جمعہ کے قعدہ میں شامل ہوا تو کیا نماز جمعہ ادا ہوئی یا کیا۔
الجواب: نماز جمعہ ادا ہوگئی۔
اذان ثانی کے بعد زبان سےنہ دعا پڑھی جائے اورنہ جواب دیاجائے
سوال(۲۳۴۱): بعداذان خطبۂ جمعہ دعاء پڑھنا اور جواب اذان دینا جائز ہے یانہیں۔
الجواب: اذان خطبہ کا جواب دینا اور دعاء وسیلہ پڑھنا فقہاء نے مکروہ لکھاہے۔ فی الدرالمختار۔قَالَ: وَيَنْبَغِي أَنْ لَا يُجِيبَ بِلِسَانِهِ اتِّفَاقًا فِي الْأَذَانِ بَيْنَ يَدَيِ الْخَطِيبِ.۔ فقط
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند۔جلد نمبر۵)۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



