Uncategorized

مَضَامینِ رَمضَانُ المُبَارک- (۱۷)———اعتکاف اورحالت اضطراری

حاجات ضروریہ کی تعریف
معتکف کو اچانک کوئی ایسی شدید ضروت پیش آجائے کہ جس کی وجہ سے اعتکاف گاہ چھوڑنا پڑ جائے توایسی باتوں کوحاجات ضروریہ کہتے ہیں۔ (مراقی الفلاح)
مثلاً سجدہ کرنے لگے اور معتکف کو دب جانے کا خطرہ ہوجائے۔ یاظالم حاکم گرفتار کرنے آجائے۔ یاایسی شہادت دینا ضروری ہو جو کہ شرعاً معتکف کے ذمہ واجب ہے کہ مدعی کا حق اس کی شہادت پر موقوف ہے دوسرا کوئی شاہد نہیں ہے۔ اگر معتکف گواہی نہ دے تو مدعی کا حق فو ت ہوجائے گا۔یاکوئی آدمی یا بچہ پانی میں ڈوب رہاہے یا آگ میں گرپڑا ہے یا خطرہ ہے یاسخت بیمار ہوگیایا گھر والوں میں سے کسی کی جانی مالی آبرو کا خطرہ ہے یاسخت بیمار ہوگیا۔ یاجنازہ آگیا اور جنازہ کی نماز پڑھانے والاکوئی نہیں۔ یا جہاد کاحکم ہوگیا اور جہا د میں شرکت فرض عین ہوگیا۔ یا کسی شخص نے زبردستی ہاتھ پکڑکر باہر کھڑاکردیا ۔ یا جماعت کے نمازی سب چلے گئے اب مسجد میں جماعت کاانتظام نہ رہا اس قسم کی تمام چیزیں حاجات ضروریہ کہلاتی ہیں۔ اکثر صورتوں میں اعتکاف کرنا فرض اور واجب ہوجاتا ہے اور اعتکاف چھوڑنے کا گناہ بھی نہیں ہوتا۔ (کذافی کتب الفقہ)
رہا اعتکاف کوچھوڑنے سے اعتکاف کافاسد ہوجانا تو اس کاحکم اعتکاف کے مفسدات میں گزرچکا وہاں دیکھ لیں۔
اعتکاف گاہ کے مسائل
(۱) معتکف کواعتکاف میں بیٹھنے سے پہلے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ وہ اعتکاف کی تین قسموں واجب۔ مسنون۔ مستحب۔ میں سے کون سا اعتکاف کرنا چاہتاہے اور جس مسجد میں بیٹھنا چاہتاہے اس مسجد میں درست ہوتا ہے یانہیں۔
(۲) مسنون اور واجب اعتکاف کے لیے ایسی مسجد ہونا ضروری ہے جس میں پانچوں وقت باقاعدہ جماعت کے ساتھ نماز ہوتی ہو۔ (بدائع)
(۳): جس مسجد میں تین یا چار وقتوں باقاعدہ جماعت ہوتی ہے اور وقت کی جماعت نہیں ہوتی تو ایسی مسجد میں اعتکاف مسنون و واجب درست نہیں ہوگا صرف نفلی اعتکاف ہوسکتاہے۔ (بدائع)
(۴) مرد کے لئے ہرقسم کے اعتکاف کے واسطے مسجد کاہونا ضروری ہے اگر مرد گھر میں اعتکاف کرے گاتو اس کا اعتکاف درست نہ ہوگا۔ ۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button