مضامین

احکامات حج-(فضائل ومسائل)-۱۰

حج مبرور کسے کہتے ہیں؟
حج مبرور ، حج مقبول کو کہتے ہیں۔ اس کی علامت یہ ہوتی ہے کہ ہرگناہ سے توبہ واستغفار کرے، اور کسی کاحق باقی نہ رہے، اور پاک اور حلال مال سے حج کو جائے اور کسی قسم کی بدعنوانی اور لڑائی جھگڑے اور معصیت میں مبتلا نہ ہو۔ اور احرام کے ممنوع اُمور سے اپنے آپ کی پوری پوری حفاظت کرتارہے۔ پھر حج سے واپسی کے بعد اس کی دینی حالت پہلے سے بہتر ہو تو سمجھ لیں کہ اس کا حج ان شاء اللہ مبرور ومقبول ہے۔ (مستفاد فتاویٰ رحیمیہ ۳/۱۱۴ ایضاح المناسک /۵۱)
اور حج مبرور اور نیکی والا حج اہل ایمان کا سب سےا فضل ترین عمل ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ تین قسم کے اعمال اللہ کے نزدیک سب سے افضل ترین اعمال ہیں۔
۱ اللہ ورسول پر سچّا ایمان لانا
۲ جہاد فی سبیل اللہ
۳ حج مبرور اورنیکی والامقبول ترین عمل ہے۔
حج اکبر کسے کہتے ہیں
عوام میں مشہور یہی ہے کہ جو حج جمعہ کے دن واقع ہو وہ حج اکبر ہے۔ مگر کتب حدیث میں کہیں بھی اس کا ثبوت نہیں ملتا ، اورنہ کتب فقہ اور ائمہ مجتہدین کے اقوال میں اس کا ثبوت ہے۔ البتہ حدیث وفقہ میں اس کی صراحت موجود ہے کہ حج اکبر حج ہی کو کہتے ہیں ۔ اور حج اصغر عمرہ کوکہتے ہیں۔ (ترمذی شریف ۱/۱۸۶ شامی کراچی ۲/۶۲۲)
یوم الجمعہ کا حج
شریعت کی اصطلاح میں جمعہ کے دن کے حج کو حج اکبر تونہیں کہاجاتا، لیکن جمعہ کے دن کا ایک حج دیگر ایام کے ستر۷۰ حجوں سے زیادہ افضل ہے۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ افضل ترین دن یوم عرفہ ہے۔ اور جب یوم عرفہ جمعہ کوواقع ہوجائے تووہ حج سترحجوں سے افضل ہے۔
نیز جمعہ کے دن جب یوم عرفہ ہوتومیدانِ عرفات میں وقوف کرنے والے تمام حجاج کی مغفرت ہوجاتی ہے۔
۔۔۔۔ (ماخوذ از کتاب انوارمناسک)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button