احکامات حج- (فضائل ومسائل)-۱۱

عورت پر حج کب فرض ہوتاہے؟
عورت پر حج فرض ہونے کیلئے ذاتی صرفہ کے علاوہ ساتھ میں جانے والے محرم کا پوراسفر خرچ بھی مہیا کرنالازم ہے، ورنہ عورت پر حج فرض نہیں ہوتا۔
یاعورت کے ساتھ عورت کا شوہر سفر حج کو جائے تب لازم ہے ورنہ نہیں، لہٰذا اگر محرم یا شوہر عورت کے ساتھ سفر کے لئے میسر نہ ہوتو عورت پر حج فرض نہیں ہوتا۔
کیاشوہر کا سفر خرچ عورت پر لازم ہے
اگرعورت مالدارہے اور اس پر حج فرض ہوچکا ہے، اور شوہر مالدار نہیں ، اور اس پر حج فرض نہیں ہوا۔ اور عورت اپنے ساتھ بجائے محرم کے شوہر کو لے جانا چاہتی ہےتو ایسی صورت میں راجح قول کے مطابق عورت پر شوہر کے لئے تمام سفرخرچ لازم ہوجائیں گے۔ ہاں البتہ حالت حضر میں ہمیشہ کھانے پینے کا جو خرچ شوہر کیا کرتاتھا وہ خرچ بدستور شوہر پر لازم رہے گا۔ باقی تمام اخراجات شوہر کیلئے عورت پر اسی طرح واجب رہیں گے جس طرح محرم کے لئے ہوتے ہیں۔
محرم اور شوہر کانفقہ عورت پر کب لازم ہوتاہے
عورت پر محرم یا شوہر کا سفرخرچ اس وقت لازم ہوتاہے کہ جب محرم یا شوہر پر حج فرض نہ ہو، یا ان لوگوں نے اپنا حج فرض ادا کرلیا ہو۔ اور اگر ان پر بھی اپنا حج فرض ہے اور ان کوبھی اپنا فریضۂ حج ادا کرنے کیلئے جانا ہے تو ایسی صورت میں عورت پر ان کا سفر خرچ لازم نہیں، بلکہ ہر ایک پر اپنا اپنا خرچ لازم ہوجائے گا۔
محرم میسّر ہوتو شوہر کی اجازت کے بغیر فریضۂ حج کوجانا
اگرعورت پر حج فرض ہوچکاہے اور محرم شرعی کاپورا سفر خرچ بھی مہیا ہوگیا ہے مگر شوہر عورت کو حج فرض کوجانے سے منع کررہاہے تو ایسی صورت میں عورت کے لئے شوہر کی اجازت کے بغیر حج کافریضہ ادا کرنے کیلئے محرم کے ساتھ سفرِ حج کو جانا جائز ہے۔
نفلی حج کیلئے شوہر کی اجاز لازم
اگر عورت نے اپنا حج فرض ادا کرلیاہے اور اب نفلی حج کیلئے جانا چاہتی ہے اور اس کے پاس محرم کا سفرخرچ بھی پورا موجود ہے مگر شوہر کی طرف سے اجازت نہیں، تو شوہر کی اجازت کے بغیر نفلی حج کیلئے جانا عورت کے لئے جائز نہیں۔ اس لئے کہ شوہر کا حق نفلی حج سے بھی زیادہ ہے۔ ۔۔۔۔ (ماخوذ از کتاب انوارمناسک)



