خالق انسان کا تجویز کردہ نصب العین-۵

دولت اپنی ذات سے بری نہیں
صحابہ کرامؓ سب کے سب مقبول ہیں۔ لیکن ان میں مالدار بھی ہیں اور نادار بھی ۔لکھ پتی بھی ہیں اور کروڑ پتی بھی ۔ اور ابوذر غفاریؓ جیسے بھی جن کامذہب یہ تھا کہ اگر ایک وقت کا کھانا ہے تویہ جائز نہیں ہے کہ دوسرے وقت کے لئے آدمی جمع کرے تو جہاں ابوذر غفاریؓ جیسے صحابہؓ ہیں وہاں عبدالرحمٰن ابن عوفؓ جیسے بھی ہیں ۔ جو لکھ پتی اور کروڑپتی لوگوں میں ہیں جن کی تجارت تھی۔
ان کی تجارت میں نبی کریم ﷺ نے برکت کی دعا دی تھی۔ اور حال یہ تھا کہ انکی تجارت کی کوٹھیاں روم، مصر اور شام میں جگہ جگہ بنی ہوئی تھیں۔ اور نفع کامال جب آتاتھا۔ تویہ نہیں تھا کہ دس پانچ آدمی لے کرآجائیں۔ بلکہ اونٹوں پر لدکرآتاتھا اور فرماتے تھے کہ گھر میں ڈالدو، وہ اس قدر ہوتاتھا کہ غلّے کی طرح ڈھیر لگ جاتاتھا۔ دولت کی یہ کیفیت تھی۔
مگر اس کے ساتھ قلب کی کیاکیفیت تھی؟۔۔۔۔۔۔ روایت میں فرمایا گیاہے کہ مہمانداری کایہ عالم تھا کہ تین تین سوچار چارسومہمان، دسترخوان پر جمع ہوتے تھے ۔ جب نعمتیں چُنی جاتیں، دسترخوان سج جاتا اورکھانے کےلئے بیٹھتے تو عبدالرحمٰن ابن عوفؓ رونا شرو ع کرتے ۔ بے اختیار دل بھرآتا اور فرماتے:
اے اللہ! تیرے نبی کے دسترخوان پرکبھی ایک سے دوسراکھانا جمع نہ ہوا۔ اورمیرے دسترخوان پر اتنی نعمتیں۔۔۔۔۔۔۔؟ کہیں میری جنت کی نعمتیں دنیا ہی میں تو نہیں ختم کی جارہی ہیں۔
یہ کہہ کرروتے اتنا روتے کہ بے خود ہوجاتے۔ سارے حاضرین اورمہمان بھی روتے اور بے کھائے پیئے دسترخوان اُٹھ جاتا۔
رات کوپھر دسترخوان بچھایاجاتاپھر اللہ کی نعمتیں چُنی جاتیں، پھر عبدالرحمٰن ابن عوفؓ پر گریہ طاری ہوتاہے اور کہتےکہ:
اے اللہ مہاجرین اولین اتنی غربت اور بے کسی سے دنیا سے گئے کہ فاقے پرفاقے تھے۔ نبی کریم ﷺ کے چچا حضرت حمزہ ؓ نے اس غربت میں وفات پائی کہ کفن بھی پورا میسر نہیں تھا۔ اگرسرڈھانپا جاتاتوپیر کھل جاتے تھے،پیر ڈھانپےجاتے توسرکھل جاتاتھا، آخر میں سَرڈھانپ دیاگیا اور پاؤں پراذخر گھاس ڈال کر دفن کردیاگیا۔۔۔۔۔توحضرت حمزہ ؓ کی تویہ حالت، اور عبدالرحمٰن ابن عوفؓ کا گھرپیسوں اور اشرفیوں سے بھراپڑاہے کہیں دنیا ہی میں میری جنت کی نعمتیں توختم نہیں کی جارہی ہیں؟
پھر روتے، سارے حاضرین روتے اور بے کھاتے پیئے دسترخوان اُٹھ جاتا۔ تین تین وقت کے فاقے اس طرح سے آتے تھے، تو دولت کایہ حال اور قلب کایہ حال؟ غرض اسلام دولت کامخالف نہیں ہے ۔ تموّل کوبُرانہیں کہتا لیکن تموّل سے اگردل بگڑجائےاس دل کو اسلام بُرا کہتاہے۔ دولت اس لئے نہیں ہے کہ دل کو بگاڑا جائے بلکہ اسلئے ہے کہ صحیح دل رکھ کر اس کو صحیح مصرف میں لگایا جائے تو آدمی کی دولت بُری نہیں ہے آدمی بُراہوتاہے۔ آدمی بُراہے تودولت بُری ہوجائیگی۔ آدمی اچھاہے تو دولت اچھی ہوجائے گی۔ سامان اپنی ذات سے اچھا یا بُرانہیں۔ سامان والے کو دیکھوکہ وہ اچھاہے یابُرا۔۔۔۔۔۔؟ وہ اچھا ہے تو سارا سامان اچھا ۔۔ وہ بُرا ہے تو سارا سامان بُرا۔ لوگ خواہ مخواہ دولت کو بُراکہتے ہیں۔ دولت بیچاری نے کیا قصور کیاہے؟ آدمی اپنے کودیکھے۔
دولت کی مثال
عارف رومیؒ نے ایک بڑی عجیب مثال دی ہے فرمایا:
دولت کی مثال ایک سمندر کی ہے اور انسان کا دل کشتی جیساہے پانی اگر کشتی سے باہر رہے تو منزلیں طے کرےگی۔ اور اگرکشتی کے اندر آگیا توکشتی بھی گئی اور کشتی والابھی گیا۔ توفرمایا: دولت ایک سمندر کی مانند ہے اورہمارے دل کشتیوں کی مانند ہیں۔ اگر دولت دل سے باہر باہر ہے توپارلگاکے آخرت کے کنارے پر پہنچادے گی۔ لیکن اگر دل کے اندر آگئی تو دل بھی ڈوبا اور دل والابھی ڈوبا۔ غرض دولت کی بُرائی نہیں کی دولت کامحل بتایا کہ دل سے باہر ہاتھ پاؤں میں رکھو، کماؤ پیو اور خرچ کرو، لیکن رہنی چاہیے ہاتھ پیر کے اندر۔۔۔۔۔ دل کے اندر فقط محبتِ خداوندی ہونی چاہیے۔۔۔۔۔ دولت کی محبت نہیں ہونی چاہیے۔
[ماخوذاز خطبات حکیم الاسلام ،جلد ۴]



