مضامین

خالق انسان کا تجویز کردہ نصب العین-۴

زندگی اور موت میں بھی خدا ملتاہے
مومن پر جب موت کا وقت آتا ہے تو وہ دُور سے کچھ ستارے اور روشنی دیکھتا ہے وہ تحیّر میں مبتلا ہوتاہے کہ یہ روشنی کیسی ہے؟ یہ چاند سورج کیسے ہیں؟
یہ جو وقت ہوتاہے اِدھر سے غفلت کا اور ادھر متوجہ ہونے کا ہوتاہے۔ ابھی نزع نہیں شروع ہوا ابھی غفلت طاری ہوئی۔ نزع تب شروع ہوگا جب سانس چلنے لگے لیکن ابتداءً یہ خوشی طاری ہے۔ اوریہ غفلت ہے کہ اِدھر کا جہان چھُپ جاتاہے اور اُدھر کا جہان روشن ہوجاتاہے۔ اوریہ نظر پڑتاہے کہ لاکھوں چاند اور سورج ہیں جو آہستہ آہستہ میری طرف بڑھے چلے آرہے ہیں۔ تویہ تحیرمیں دیکھتاہے کہ یہ کیاہورہاہے؟ یہ کیسا کارخانہ ہے۔۔۔۔۔؟ ۔۔۔۔اورملائکہ علیہم السلام یہ آہستہ آہستہ اس لئے بڑھتے ہیں کہ مقصد شفقت ہے ۔ اگر اک دم آپڑیں تو یہ گھبرانہ جائے کہ یہ کیا بات ہوگئی۔ اس لئے آہستہ آہستہ اس کے دل میں گنجائش کرتےہوئے آتےہیں کہ وہ سہتاجائے اور یہ سمجھتا جائے پھر اخیر میں قریب آجاتے ہیں۔ پھر اسے کوئی اوپری بات معلوم نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوریہ نہیں کہ آتے ہی روح قبض کرنی شرو ع کردی۔
حدیث میں ہے کہ اس میّت کوعالم آخرت کی ترغیب دلاتے ہیں اور دنیا سے نفرت دلاتے ہیں کہتےہیں کہ:
"اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، اخْرُجِي حَمِيدَةً، وَأَبْشِرِي بِرُوحٍ وَرَيْحَانٍ، وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانٍ”
اے پاک روح! اے پاک نفس ! تُونے اپنےبدن کو نیک اعمال سے پاک کیا۔ اپنی روح کو بھی ذکر سےنیک کیا یا نیک کلمات سے پاک رکھا۔ تو اے پاک روح، اپنے پاک بدن سے چلی آ۔۔۔۔۔اورکہاںجا!
اُخْرُجِي إِلَى رُوحٍ وَرَيْحَانٍ
بہاروں کی طرف اور نعمتوں کی طرف چل اور اس پروردگار کی طرف چل جو تجھ پر نامہربان نہیں ،بلکہ شفیق، مہربان اور رحمت والاہے، تیرامنتظرہے۔۔۔۔یہ گویا ترغیب دیتے ہیں تاکہ بندہ راضی ہو اور اس کی رضا کےبعد روح قبض کرناشروع کریں۔
انبیاء علیہم السلام کی ارواح قبض کرنے کے لئے ملک الموت آتے ہیں تو باقاعدہ اجازت مانگتے ہیں۔جب انبیاء علیہم السلام اجازت دے دیتے ہیں تب قبض روح شروع ہوتاہے۔ مومن سے اجازت نہیں لی جاتی مگر ترغیب دی جاتی ہے تاکہ وہ موت کے اوپر مطمئن ہوجائے اس کی رضا حاصل ہوجائے تب قبض روح شروع ہو۔ تو یوں ترغیب دیتے ہیں کہ اس گندے جہان کوچھوڑ۔ اور اس پاک جہان کی طرف چل ۔ اِدھر نفس کی حکومت تھی۔ اُدھر اس رب کی حکومت ہے جو تجھ پر کبھی نامہربان نہیں ہے۔ ہمیشہ تجھ پر مہربان رہے گا ،روح و ریحان اور نعمتوں کی طرف چل۔
سب جانتے ہیں کہ موت سے انسان کو طبعاً کراہت ہے۔ کتنی نعمتیں ہوں مگر موت قبول کرنے کے لئے آدمی تیار نہیں ہوتا توجب وہ اس ترغیب سے راضی نہیں ہوتا۔ حدیث میں ہے کہ پھر ملائکہ اس کو جنت کے تحفے دکھلاتے ہیں کچھ پھل کچھ لباس اس کو دیکھ کر ایک دم روح پرواز کرنی شروع کردیتی ہے اور تشبیہ دی گئی کہ اس طرح سے نکل جاتی ہے جیسے مشک میں پانی بھر کر پانی الٹ دو، اس کا منہ کھول کر نیچے کردو اور سارا پانی غرغرا کر نکل جائے گا۔ ایک قطرہ باقی نہیں رہے گا ۔ اس طرح روح شوق وذوق میں پرواز کرجاتی ہے۔ تو ملائکہ علیہم السلام آتے ہیں، ترغیب دیتے ہیں ، بندے کی رضا حاصل کرتےہین جب وہ راضی ہوتا ہے تب اس کی روح قبض کرتےہیں ،یہ ملائکہ علیہم السلام کی شفقت ہے ملک الموت اس سےبات بھی کرتےہیں۔
جب نزع شروع ہوا ۔یہ ملک الموت کے اعوان وانصار کاکام ہے ۔ نزع ہونے کے بعد روح کاقبض کرنا اور قبضے میں لے لینا۔ یہ ملک الموت کاکام ہے ۔ گویا ابتدائی مبادی یہ ملائکہ طے کرتےہیں ۔ اور آخری نتیجہ ملک الموت علیہ السلام کے ہاتھ پر ظاہر ہوتاہے۔ میرے عرض کرنے کا مطلب یہ تھا کہ زندگی جیسے نعمت ہے موت بھی ایک نعمت ہے ۔ اسلام نے اگرزندگی کی تعریف کی اور ترغیب دی اورکہاکہ تم دعائیں مانگو کہ ہماری عمر صالحات وحسنات کے ساتھ دراز ہو۔ اب ایک شخص زندہ ہے تو ممکن ہے مرنے والےکے دل میں مایوسی پیداہو کہ اسے توسب کچھ مل گیا ، میری عمر ختم ہوگئی ۔ تو اُسے اس حالت میں تسلی دی کہ تیری موت تیرےلئے تحفہ اور روح وریحان کاپیغام ہے حق تعالیٰ کی رضا اور خوشی کاپیغام ہے۔ غرض یہ اس پرراضی کہ مجھے موت آرہی ہے۔ وہ اس پرراضی کہ مجھے زندگی مل رہی ہے۔ نہ یہ مایوس نہ وہ مایوس۔۔۔۔۔ اسلام نے ہر ایک توتسلی دی ہے۔ کسی حالت میں اپنے پیرووں کو مایوس نہیں کرتا۔ ہزار مصیبتیں آجائیں اسلام مایوس نہیں ہونے دےگا۔ ہزار نعمتیں آجائیں، اس میں راستے دکھلائے گا، مصائب کے بارے میں فرمایا:
لَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ
کتنی مصیبت آجائے ،کبھی مایوس مت ہونا۔ مومن کاکام نہیں ہے اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا۔
تو مصائب میںاسلام تسلی دیتاہے کہ مصیبت سے مت گھبراؤ۔ مصیبت بھیجنے والے پر نظر رکھو۔ نعمت میں آدمی راضی کہ نعمت مل گئی۔ مصیبت آگئی توصابر اس کے اندربھی راضی کہ مجھے بھی نعمت مل گئی۔ میرے اخلاق میں وہ بلندی پیدا ہوئی کہ نعمتوں میں وہ بلندی پیدا نہیں ہوسکتی تھی۔ تو اس مصیبت نے میرے اخلاق اونچے کردیئے۔۔۔ غرض کوئی حالت ایسی نہیں ہے کہ انسان کو مایوس بنادیاگیا ہو۔
یہ میں نے اس پر عرض کیا کہ جب میں نے عبادت کانام لیا تو ممکن ہے اس طرف تصور گیا ہو کہ بس اب کہاجائے گا کہ کوٹھی بنگلے چھوڑو اور جاؤ مسجد کی طرف۔۔۔۔۔۔ یہ نہیں کہاجارہا، بلکہ کوئی حالت ایسی نہیں جس میں خدانہ ملتاہو۔ اگر آپ کوٹھی بنگلوں میں رہ کر چاہیں وہاں بھی اللہ کو یاد کرسکتے ہیں ،آپ کی نیت صحیح ہونی چاہیے، آپ کا نصب العین درست ہونا چاہیے۔ مال کماؤ تو جائز طریق پر، خرچ کرو جائز طریق پر ، تو کمانا بھی عبادت ، خرچ کرنا بھی عبادت ہے۔ دونوں پر سچی نیت سے اس طرح اجر ملے گا جس طرح نماز پڑھنے پرملتاہے ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی مفلس بنے جب خدا کو پائے گا۔
[ماخوذاز خطبات حکیم الاسلام ،جلد ۴]۔۔۔ جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button