
نئی دہلی: 28 نومبر 2025 :سپریم کورٹ نے آج مہاراشٹر کی بلدیاتی انتخابات کو ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ریاستی الیکشن کمیشن کا جاری کردہ انتخابی شیڈول برقرار رہے گا اور انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔ تاہم جن بلدیاتی اداروں میں ریزرویشن 50 فیصد سے تجاوز کر رہا ہے، وہاں کے حتمی نتائج عدالت کے آئندہ فیصلے سے مشروط رہیں گے۔ریاستی الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ اب تک نوٹیفائی کیے گئے 288 میں سے 57 بلدیاتی اداروں—جن میں 40 میونسپل کونسلیں اور 17 نگر پنچایتیں شامل ہیں—میں ریزرویشن کی شرح 50 فیصد سے زائد ہے۔سپریم کورٹ نے ریاستی الیکشن کمیشن کو صاف ہدایت دی کہ آئندہ (ابھی تک نوٹیفائی نہ ہونے والی) تمام بلدیاتی انتخابات میں 50 فیصد کی حد کسی صورت میں نہ پار کی جائے۔اس معاملے کی اگلی سماعت 21 جنوری 2026 کو ہوگی۔عدالت کے فیصلے کے مطابق:انتخابات اپنی مقررہ تاریخوں پر ہوں گے۔50 فیصد سے زائد ریزرو نشستوں والے اداروں کے نتائج عدالتی فیصلے تک عارضی تصور کیے جائیں گے۔
کانگریس کا الزام—”او بی سی نمائندگی پر تلوار لٹکی رہے گی”سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کانگریس کے سینئر رہنما وجے وڈیٹی وار نے سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ان کے مطابق:”عدالت نے اگرچہ انتخابات کی اجازت دے دی ہے، لیکن 50 فیصد سے زیادہ ریزرو نشستوں پر نتائج غیر یقینی رہیں گے۔ یعنی او بی سی نمائندگی پر لٹکی ہوئی تلوار برقرار ہے۔ حکومت او بی سی کو 27 فیصد ریزرویشن دینے کا کریڈٹ لے رہی تھی، مگر اب انہی نشستوں پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔ یہ او بی سی برادری کو دھوکہ دینے کی کوشش ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ عدالت نے حکومت کو ریاست میں ضلعی کونسل اور میونسپل کارپوریشن انتخابات کا عمل شروع کرنے کی ہدایت تو دی ہے، مگر ساتھ ہی 50 فیصد کی حد نہ پار کرنے کا سخت حکم بھی دیا ہے۔



