مضامین

احکامات حج- (فضائل ومسائل)-۲۳

مسائل ارکان و واجبات حج
اَلْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ ۚ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ ۗ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ ۚ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ (سورۂ بقرہ ۱۹۷)
حج کے چند مہینے متعین ہیں، پھر جس نے ان مہینوں میں حج کو لازم کرلیاہے تو عورت سے بے حجاب ہونا اور گناہ کرنا اور جھگڑا کرنا حج کے زمانہ میں جائز نہیں اور جو کچھ نیک کام تم کرتے ہو اللہ ان کو جانتاہے۔ اور زاد راہ لے لیا کرو۔ اور بہترین زاد راہ سوال سے بچناہے۔ اے عقل مندو مجھ سے ڈرتے رہا کرو۔
حج کے فرائض وارکان
حضرت امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک ارکانِ حج دو ہیں (۱) وقوفِ عرفہ (۲) طواف زیارت۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے حج میں چار اُمور فرض ہیں۔
(۱) احرام اور احرام کی حقیقت نیت اور تلبیہ ہے۔ جس کو کتب فقہ میں شرط کہاہے۔ مگر یہ درحقیقت فرض ہے۔
(۲) وقوف عرفہ یعنی عرفات کے دن زوال کے بعد وقوف کرنا۔
(۳) طواف زیارت (درمختار کراچی ص ۴۶۷،ج ۲)
(۴) احرام، وقوف عرفہ ، طواف زیارت ، ان تینوں امور کے درمیان ترتیب باقی رکھنا یعنی اولاً احرام باندھنا اس کے بعد وقوف عرفہ، اس کے بعد طواف زیارت کرنا۔ اکثر کتابوں میں اگرچہ اس ترتیب کو فرض نہیں کہاگیاہے لیکن درحقیقت یہ فرض ہی ہے۔ اس لئے کہ اس کے بغیر حج فاسد ہوجاتاہے۔
لہٰذا ان میں اگر ترتیب الٹی ہوجائے گی تو حج ہی نہیں ہوگا۔ علامہ شامیؒ نے طواف کی نیت کوبھی فرض قراردیاہے۔ (شامی کراچی ص۴۷۹، جلد ۲)۔۔۔۔ (ماخوذ از کتاب انوارمناسک)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے ۔۔۔ ان شاءاللہ تعالیٰ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button