مَضَامینِ رَمضَانُ المُبَارک:فضائل ومسائل-۲

مریض کا روزہ
فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا
مریض سے مراد وہ مریض ہے جس کو روزہ رکھنے سے ناقابل برداشت تکلیف پہنچے، یا مرض بڑھ جانے کا قوی اندیشہ ہو، بعد کی آیت وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَمیں اس طرف اشارہ موجود ہے ، جمہور فقہاء امت کا یہی مسلک ہے۔
مسافر کاروزہ
أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ یہاں لفظ مسافر کے بجائےعَلَىٰ سَفَرٍکالفظ اختیار فرماکر کئی اہم مسائل کی طرف اشارہ فرمادیا:
اول یہ کہ مطلقا لغوی سفر یعنی اپنے گھر اور وطن سے باہر نکل جانا روزہ میں رخصتِ سفر کے لیے کافی نہیں ،بلکہ سفر کچھ طویل ہونا چاہیے، کیونکہ لفظ عَلَىٰ سَفَرٍ کامفہوم یہ ہے کہ وہ سفر پرسوار ہو جس سے یہ سمجھا جاتاہے کہ گھر سے دس پانچ میل چلے جانا مراد نہیں، مگر یہ تحدید کہ سفر کتنا طویل ہو قرآن کے الفاظ میں مذکور نہیں، رسول کریم ﷺ کے بیان اور صحابہؓ کے تعامل سے امام اعظم ابو حنفیہؒ اور بہت سے فقہاء نے اس کی مقدار تین منزل یعنی وہ مسافت جس کو پیادہ سفر کرنے والا بآسانی تین روز میں طے کرسکے، قراردی ہے ، اور بعد کے فقہاء نے میلوں کے حساب سے اڑتالیس میل لکھے ہیں۔
دوسرا مسئلہ اسی لفظ عَلَىٰ سَفَرٍسے یہ نکلاکہ وطن سے نکل جانے والا مسافر اسی وقت تک رخصت سفر کا مستحق ہے جب تک اس کے سفر کا سلسلہ جاری رہے، اوریہ ظاہر ہے کہ آرام کرنے یا کچھ کام کرنے کے لئے کسی جگہ ٹھیر جانامطلقاً اس کے سلسلۂ سفر کوختم نہیں کردیتا، جب تک کوئی معتدبہ مقدارِ قیام نہ ہو، اور اسی معتدبہ قیام کی مدت نبی کریم ﷺ کے بیان سے ثابت ہوئی کہ پندرہ دن ہیں، جو شخص کسی ایک مقام پر پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کرے تو وہ عَلَىٰ سَفَرٍہیں کہلاتا، اس لئے وہ رخصتِ سفر کابھی مستحق نہیں۔
مسئلہ: اسی سے یہ بھی نکل آیا کہ کوئی شخص پندرہ دن کے قیام متفرق مقامات شہروں اور بستیوں میں کرے تووہ بدستور مسافر کے حکم میں رہ کر رخصت سفر کا مستحق رہے گا، کیوںکہ وہ عَلَىٰ سَفَرٍ کی حالت میں ہے۔(تفسیر معارف القرآن، جلد اول)۔۔۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ



