Uncategorized

مَضَامینِ رَمضَانُ المُبَارک:فضائل ومسائل-۳

روزہ کی قضا
فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ  یعنی مریض ومسافر کو اپنے فوت شدہ روزوں کی گنتی کے مطابق دوسرے دنوں میں روزے رکھنا واجب ہے، اس میں بتلانا تویہ منظور تھا کہ مرض یا سفر کی مجبوری سے جوروزے چھوڑے گئے ہیں ان کی قضاء ان لوگوںپر واجب ہے جس کےلئے فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ کامختصر جملہ بھی کافی تھا، مگر اس کے بجائے فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ فرماکر اشارہ کردیاگیا کہ مریض ومسافر پر فوت شدہ روزوں کی قضاء صرف اس صورت میں واجب ہوگی ، جب کہ مریض صحت کے بعد اورمسافر مقیم ہونے کے بعد اتنے دنوں کی مہلت پائے، جنہیں قضاء کرسکے، تو اگر کوئی شخص اتنے دن سے پہلے ہی مرگیا تواس پر قضاء یا وصیّتِ فدیہ لازم نہیں ہوگی،۔
مسئلہ: فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ میں چونکہ اس کی کوئی قید نہیں کہ ترتیب وار رکھے، یا مسلسل رکھے، بلکہ عام اختیار ہے، اس لئے اگر کوئی شخص جس کے رمضان کے ابتدائی دس روزے قضا ہوگئے ہوں وہ دوسویں یانویں روزے کی قضا پہلے کرے اور ابتدائی روزوں کی قضا بعد میں تو اس میں بھی مضائقہ نہیں، اسی طرح متفرق کرکے قضا روزے رکھے، تویہ بھی جائز ہے، کیوں کہ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ میں اس کی گنجائش ہے۔
روزہ کا فدیہ
وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ اس آیت کے بے تکلف معنی وہی ہیں جو خلاصۂ تفسیر میں بتلائے گئے ہیں، کہ جو لوگ مریض یا مسافر کی طرح روزہ رکھنے سے مجبور نہیں بلکہ روزے کی طاقت رکھتے ہیں، مگر کسی وجہ سے دل نہیں چاہتاتو ان کے لئے بھی یہ گنجائش ہے کہ وہ روزے کے بجائے روزے کافدیہ بصورت صدقہ اداکردیں، اس کی ساتھ فرمادیا وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ یعنی تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ روزہ ہی رکھو۔
یہ حکم شروع اسلام میں تھا جب لوگوں کو روزے کا خوگر کرنا مقصود تھا، اس کے بعد جو آیت آنے والی ہے یعنی مَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ اس سے یہ حکم عام لوگوں کے حق میں منسوخ کردیاگیا، صرف ایسے لوگوں کے حق میں اب بھی باجماعِ امت باقی رہ گیا جو بہت بوڑھے ہوں (جصاص) یا ایسے بیمار ہوں کہ اب صحت کی امید ہی نہیں رہی، جمہور صحابہ وتابعین کا یہی قول ہے(جصاص، مظہری)
صحیح بخاری ومسلم وابوداؤد ،نسائی، ترمذی، طبرانی وغیرہ تمام ائمہ حدیث نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے نقل کیاہے کہ جب یہ آیت وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ نازل ہوئی تو ہمیں اختیار دیدیاگیاتھا کہ جس کا جی چاہے روزے رکھے جس کا جی چاہے ہرروزے کا فدیہ دیدے، پھر جب دوسری آیت مَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ نازل ہوئی تو یہ اختیار ختم ہوکر طاقت والوں پر صرف روزہ ہی رکھنا لازم ہوگیا۔
مسند احمد میں حضرت معاذ بن جبلؓ کی ایک طویل حدیث میں ہے کہ نماز کے معاملات میں بھی ابتدائے اسلام میں تین تغیرات ہوئے اور روزے کے معاملہ میں بھی تین تبدیلیاں ہوئیں ، روزے کی تین تبدیلیاں یہ ہیں کہ:
رسول اللہ ﷺ جب مدینہ طیبہ میں تشریف لائے توہر مہینہ میں تین روز ے اور ایک روزہ یوم عاشورا(یعنی دسویں محرم) کارکھتے تھے، پھر رمضان کی فرضیت نازل ہوگئی كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ توحکم یہ تھا کہ ہر شخص کو اختیار ہے کہ روزہ رکھ لے یا فدیہ دیدے، اور روزہ رکھنا بہتر اور افضل ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت مَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ نازل فرمادی، اس آیت نے تندرست قوی کے لئے یہ اختیار ختم کرکے صرف روزہ رکھنا لازم کردیا، مگر بہت بوڑھے آدمی کے لئے یہ حکم باقی رہا کہ وہ چاہے تو فدیہ اداکردے۔
یہ تو دوتبدیلیاں ہوئیں، تیسری تبدیلی یہ ہوئی کہ شروع میں افطار کے بعد کھانے پینے اور اپنی خواہش پورا کرنے کی اجازت صرف اس وقت تک تھی جب تک آدمی سوئے نہیں، جب سوگیاتو دوسرا روزہ شروع ہوگیا، کھانا پینا وغیرہ ممنوع ہوگیا، پھر اللہ تعالیٰ نےآیت أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ الآیہ نازل فرماکر یہ آسانی عطا فرمادی کہ اگلے دن کی صبح صادق تک کھانا پینا وغیرہ سب جائز ہیں ، سوکر اٹھنے کے بعد سحری کھانے کو سنت قرار دیدیاگیا، صحیح بخاری ، مسلم، ابوداؤد میں بھی اس مضمون کی احادیث آئی ہیں(ابن کثیر)
فدیہ کی مقدار اور متعلقہ مسائل
ایک روزہ کافدیہ نصف صاع گندم یا اس کی قیمت ہے، نصف صاع ہمارے مروّجہ سیراسّی تولہ کے حساب سے تقریباً پونے دوسیر ہوتے ہیں، اس کی بازاری قیمت معلوم کرکے کسی غریب مسکین کو مالکانہ طورپر دیدینا ایک روزہ کا فدیہ ہے۔
مسئلہ: ایک روزہ کے فدیہ کو دوآدمیوں میں تقسیم کرنا یا چند روزوں کے فدیہ کو ایک ہی شخص کو ایک تاریخ میں دینا درست نہیں۔
مسئلہ: اگر کسی کوفدیہ اداکرنے کی بھی وسعت نہ ہوتو وہ فقط استغفار کرے اور دل میں نیت رکھے کہ جب ہوسکے گا اداکروں گا(بیان القرآن)
(تفسیر معارف القرآن، جلد اول)۔۔۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button