Uncategorized

مَضَامینِ رَمضَانُ المُبَارک:فضائل ومسائل-۴

ترجمہ: ’’مہینہ رمضان کا ہے جس میں نازل ہوا قرآن ہدایت ہے واسطے لوگوں کے اور دلیلیں روشن راہ پانے کی اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی، سو جوکوئی پائے تم میں سے اس مہینہ کو تو ضرور روزے رکھے اس کے اور جو کوئی ہو بیمار یا مسافر تواس کی گنتی پوری کرنی چاہیے، اور دنوں سے، اللہ چاہتا ہے تم پر آسانی اورنہیں چاہتا تم پردشواری اور اس واسطے کہ تم پوری کرو گنتی اور تاکہ بڑائی کرواللہ کی اس بات پر کہ تم کو ہدایت کی اورتاکہ تم احسان مانو‘‘
خلاصۂ تفسیر اور ربطِ آیات
تعیین ایام صیام: اوپر ارشاد ہواتھا کہ تھوڑے روزہ رکھ لیا کرو، آگے ان تھوڑے دنوں کا بیان ہے:
(وہ تھوڑے ایام جن میں روزے کا حکم ہواہے) ماہ رمضان ہے جس میں (ایسی برکت ہے کہ اس کے ایک خاص حصہ یعنی شب قدر میں قرآن مجید (لوحِ محفوظ سےآسمانِ دنیا پر) بھیجا گیاہے، جس کا (ایک ) وصف یہ ہے کہ لوگوں کے لئے (ذریعۂ) ہدایت ہے ، اور (دوسرا وصف یہ ہے کہ ہدایت کے طریقے بتلانے میں اس کا جزوجزد )واضح الدلالۃ ہے، (اور ان دونوں وصفوں میں) منجملہ ان کتب (سماویہ) کے (ہے) جوکہ انہی دو وصفوں سے موصوف ہیں یعنی ذریعۂ) ہدایت (بھی) ہیں اور (وضوحِ دلالت کی وجہ سے حق وباطل کے درمیان ) فیصلہ کرنے والی( بھی ) ہیں۔ سو جو شخص ا س ماہ میں موجود ہو اس کوضرور اس میں روزہ رکھنا چاہیے ( اور دہ فدیہ کی اجازت جو اوپر مذکور تھی منسوخ وموقوف ہوئی) اور (مریض اور مسافر کے لئے جو اوپر قانون تھا وہ البتہ اب بھی اسی طرح باقی ہے کہ) جو شخص (ایسا) بیمار ہو (جس میں روزہ رکھنا مشکل یا مضر ہو) یا (شرعی) سفر مٰں ہوتو (اس کو رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اور بجائے ایام رمضان کے) دوسرے ایام کا( اتناہی) شمار (کرکے ان میں روزہ ) رکھنا (اس پرواجب ہے) اللہ تعالیٰ کو تمہارے ساتھ (احکام میں) آسانی(کی رعایت) کرنامنظور ہے (اس لئے ایسے احکام مقرر کئے جن کو تم آسانی سے بجالاسکو، چنانچہ سفر اورمرض میں کیسا آسان قانون مقرر کردیا) اور تمہارے ساتھ (احکام وقوانین مقرر کرنے میں) دشواری منظور نہیں ( کہ سخت احکام تجویز کردیتے) اور (یہ احکام مذکورہ ہم نے خاص خاص مصلحتوں سے مقرر کئے، چنانچہ اولاً روزہ ادا رکھنے کا اور کسی شرعی عذر سے رہ جاوے تو دوسرے ایام میں قضا کرنے کاحکم تو اسی لئے کیا) تاکہ تم لوگ (ایام ادایا قضاکی) شمار کی تکمیل کرلیا کرو، (تاکہ ثواب میں کمی نہ رہے) اور (خود قضا رکھنے کا حکم اس لئے کیا) تاکہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی بزرگی (اور ثناء) بیان کیا کرو اس پر کہ تم کو (ایک ایسا) طریقہ بتلادیا (جس سے تم برکات وثمرات صیام سے محروم نہ رہو، ورنہ اگر قضا واجب نہ ہوتی تو کون اتنے روزے رکھ کر ثواب حاصل کرتا) اور (عذر سے خاص رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت اس لئے دیدی ) تاکہ تم لوگ (اس نعمتِ آسانی پر اللہ تعالیٰ کا ) شکر ادا کیا کرو (ورنہ اگریہ اجازت نہ ہوتی تو سخت مشقت ہوجاتی)
معارف ومسائل
اس آیت میں پچھلی مجمل آیت کا بیان بھی ہے اور ماہ رمضان کی اعلیٰ فضیلت کا ذکر بھی، یہاں اس لئے کہ پچھلی ایات میں اَیَّامًا مَعْدُودَاتٍ کالفظ مجمل ہے، جس کی شرح اس آیت نے کردی کہ وہ پورے ماہ رمضان کے ایام ہیں ، اور فضیلت یہ بیان کی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ کواپنی وحی اور آسمانی کتابیں نازل کرنے کیلئے منتخب کررکھا ہے، چنانچہ قرآن بھی اسی ماہ میں نازل ہوا، مسند احمد میں حضرت واثلہ بن اسقع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفےرمضان کی پہلی تاریخ میں نازل ہوئے، اور تورات چھ رمضان میں ، انجیل تیرہ رمضان اور قرآن چوبیس رمضان میں نازل ہوا، اور حضرت جابرؓ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ زبور بارہ رمضان میں ، انجیل اٹھارہ رمضان میں نازل ہوئی (ابن کثیر)
حدیث مذکور میں پچھلی کتابوں کانزول جس تاریخ میں ذکر کیاگیا ہے اسی تاریخ میں وہ کتابیں پوری کی پوری انبیاء پر نازل کردی گئی ہیں،قرآن کریم کی یہ خصوصیت ہے کہ یہ رمضان کی ایک رات میں پورا کا پورا لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل کردیاگیا، مگر نبی کریم ﷺ پر اس کا نزول تیئس سال میں رفتہ رفتہ ہوا۔
رمضان کی وہ رات جس میں قرآن نازل ہوا قران ہی کی تصریح کے مطابق شب قدر تھی إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ،مذکورا لصدر حدیث میں اس کو ۲۴؍رمضان کی شب بتلایاہے، اور حضرت حسنؒ کے نزدیک چوبیسویں شب شب قدر ہوتی ہے، اس طرح یہ حدیث آیت قرآن کے مطابق ہوجاتی ہے، اور اگریہ مطابقت نہ تسلیم کی جائے توبہرحال قرآن کریم کی تصریح سب پر مقدم ہے جو رات بھی شب قدر ہووہی اس کی مراد ہوگی۔
مَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ اس ایک جملہ میں روزے کے متعلق بہت سے احکام ومسائل کی طرف اشارات ہیں، لفظ شَهِدَ شہود سے بناہے،جس کے معنی حضور یعنی حاضروموجود ہونے کے ہیں، اور الشھر عربی لغت میں مہینہ کے معنی میں آتاہے، مراداس سے مہینہ رمضان کاہے ، جس کاذکر اوپر آیا ہے ، اس لئے معنی اس جملے کے یہ ہوگئے کہ تم میں سے جو شخص ماہ رمضان میں حاضر ہو موجود ہو اس پر لازم ہے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے، روزہ کے بجائے فدیہ دینے کاعام اختیار جو اس سے پہلی آیت میں مذکور ہے اس جملے نے منسوخ کرکے روزہ ہی رکھنا لازم کردیاہے۔
ماہ رمضان میں حاضر وموجود ہونے کامفہوم یہی ہے کہ وہ ماہ رمضان کو ایسی حالت میں پائے کہ اس میں روزہ رکھنے کی صلاحیت موجود ہو، یعنی مسلمان، عاقل، بالغ، مقیم، حیض ونفاس سے پاک ہو۔
اسی لئے جس شخص کاپورا رمضان ایسی حالت میں گذرگیا کہ اس میں روزہ رکھنے کی مطلق صلاحیت ہی نہیں جیسے کافر، نابالغ ،مجنون ،تو یہ لوگ اس حکم کے مخاطب ہی نہیں، اس لئے ان پر گزشتہ رمضان کے روزے فرض ہی نہیں ہوئے، اور جن میں صلاحیت ذاتی طورپر موجود ہے مگر کسی دقت عذر کی وجہ سے مجبور ہوگئے، جیسے حیض ونفاس والی عورت یامریض اور مسافر، تو انہوں نے ایک حیثیت سے ماہ رمضان بحالت صلاحیت پالیا، اس لئے حکم آیت کا اُن کے حق میں ثابت ہوگیا، مگر وقتی عذر کے سبب اُس وقت روزہ معاف ہے، البتہ بعد میں قضاء لازم ہے، جیسا کہ اس کے بعد تفصیل آئے گی۔
(تفسیر معارف القرآن، جلد اول)۔۔۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button