مکروہ اور مُباح امور کابیان-۲

جوتاپہن کرکھانا کیساہے؟
سوال:(۸) جوتا پہنے ہوئے روٹی کھانا درست ہے یانہیں؟(۶۷۴/۱۳۴۳ھ)
الجواب: درست ہے(۱) فقط
کھانے کی ابتدا اور انتہا نمک سے کرنا
سوال(۹): کھانا کھانے کی ابتدا نمک کھانے سے کرنے کو اور ختم طعام نمک کھانے سے کرنے کو اکثرکتب متداولہ معتبرہ میں من جملہ آداب وسنن طعام لکھا ہے، احیاء العلوم ، کیمیائے سعادت، دررالمنتقی ، عین العلم، ردالمختار، فتاویٰ ہندیۃ وغیرہ میں اس کی صراحت موجود ہے، مگر ایک شخص اس کو نہیں مانتے، وہ کہتے ہیں کہ جب تک ثبوت اس کا قول یافعل رسول اللہ ﷺ سے یا کسی صحابی کے قول یا فعل سے نہ ملے، محض فقہائے حنفیہ وبعض صوفیہ کے لکھنے پر اس کا ادب و مستحب ہونا قابل تسلیم و وثوق نہیں۔(۱۶۲۴/۳۲-۱۳۳۳ھ)
الجواب: اس بارے میں سوائے اس حدیث کے سیّد إدامکم الملح(۲) کوئی دوسری حدیث جس سے ابتدایا انتہا نمک پر ہونظر سے نہیں گزری، ممکن ہے کہ ان حضرات کو کوئی روایت ایسی ملی ہو، پس اس پر نہ اصرار کی کوئی وجہ ہےنہ انکار کی، جن بزرگوں نے اس کو مستحسن سمجھاہے وہ اسی وجہ سے ہوگا کہ یہ نافع ہے اور ہضم کےلیے مفید ہے یا امراض سے بچاتاہے۔ جیسا کہ شرح شرعۃ الاسلام میں ہے:(وَابْدَأْ بِالْمِلْحِ، فَإِنَّ فِيهِ شِفَاءً مِنَ الأَمْرَاضِ)كما رُوي عن رسول الله ﷺ:يا عليُّ، ابدأْ طعامَكَ بالملحِ، فإنَّ الملحَ شفاءٌ من سبعين داءً، منها الجنونُ، والجذامُ، والبرصُ، ووجعُ البطنِ، ووجعُ الأضراس ذَكَرَهُ الشيخُ في العوارف.(۱) باقی یہ کہ یہ روایت کیسی ہے صحیح ہے یا نہیں؟ اس کاحال کچھ معلوم نہیں، کیونکہ سند کچھ بیان نہیں کی گئی، مگر ظاہر یہ ہے کہ حضرت شیخ نے اس کو قابل سند سمجھ کر عوارف میں نقل کیاہے، کیونکہ عمل حدیثِ ضعیف پربھی درست ہے، بہرحال اگریہ ثابت ہوجاوے تب بھی اس سے یہ واضح ہے کہ یہ ارشاد شفقۃً ہے نہ تشریعًا ، یا حدیث: سیدإدامکم الملح(۲) کی وجہ سے ابتدا اور انتہا اس پر اختیار کی ہوگی، مگر درحقیقت شریعت میں اس قسم کی تنگی نہیں کی گئی ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے جس کو امام بخاری ؒ نے ترجمۃالباب میںنقل کیاہے كُلْ ما شِئْتَ وَالبَسْ ما شِئْتَ، ما أَخْطَأَتْكَ خَصْلَتَانِ: سَرَفٌ وَمَخِيلَةٌ(۳)
میٹھا اور نمکین دونوں قسم کاکھانا موجودہے تو کون سے کھانے سے ابتداء کرنا بہتر ہے؟
سوال(۱۰): میٹھا اور نمکین دونوں قسم کاکھانا موجود ہے کس کھانے سے شروع کرنا مسنون ہے اور کس پر ختم کرنا؟(۱۵۵۲/۱۳۴۳ھ)
الجواب: صحیح حدیثوں میں اس میںکچھ قید نہیں ہے، بلکہ اختیار دیاگیا ہے کہ جو کھانا مرغوب ہو وہ کھاوے، اور خواہ میٹھے سے شروع کرے اور اس پر ختم کرے، ی نمکن سے شروع کرے اور اس پر ختم کرے، لیکن شرعۃ الاسلام میں منقول ہے کہ نمکین سے شروع کرنا بہترہے اور مفید ہے۔ ویبداءبالملح فإن فیہ شفاء من الأمراض إلخ(۱) اور اس وجہ سے اخیر میں نمکین کھانا بھی غالباً مفید ہوگا اس لیے یہی بہتر ہوگا۔
سوال(۱۱): اگرمیٹھا اور نمکین دونوں قسم کا کھانا ہے تو کس سے شروع کرے؟ کس پر ختم کرے؟ سنت میں اس میں کیاہے؟(۲۷۱۱/۱۳۳۷ھ)
الجواب: اس میں کچھ قید نہیں ہے جیسی رغبت ہو درست ہے ، شرعًا ان امور میں وسعت ہے کچھ تنگی نہیں ہے، البتہ شرح شرعۃ الاسلام میں لکھا ہے کہ ابتدا نمکین کھانے سے کرنابہتر ہے کہ اس میں شفا ہے(۲) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
سیپی سے کھیر وغیرہ کھانا درست ہے
سوال(۱۲): دیسی سیپی سے کھیر وغیرہ کھانا یا استعمال کرناجائز ہے یانہیں؟(۳۴۹/۳۳-۱۳۳۴ھ)
الجواب: سیپی(سیپ کے خول) سے کھیر وغیرہ کھانا درست ہے۔ فقط
تانبے اورپیتل کے برتن میں کھانا پینا
سوال(۱۳): تابنے اورپیتل کے برتن میں کھانا پیناکیساہے؟(۹۳۴/۱۳۴۳ھ)
الجواب:بلاقلعی کے کھانا پینا ان میں اچھا نہیں ہے(۳)
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، جلد ۱۶)۔۔۔جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



