ناندیڑ

مزمل صدیقی کوناندیڑ میں بادیدۂ نم سپرد لحد کردیاگیا

ناندیڑ:(شیخ شفیق)5؍اکتوبر:معمولی سی بات کو لےکر پونے کے کارے گاؤں میں بہیمانہ طورپر قتل کئے گئے ناندیڑ کے متوطن مزمل صدیقی کی اتوار کی صبح مسجد عابدین نئی آبادی ناندیڑمیں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد  متصل قبرستان میں بادیدۂ نم سپرد لحد کردیاگیا۔ اس موقع پر عوام کاایک جم غفیر موجود تھا۔
اس سلسلے کی مختصر تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ ناندیڑ کے چیتنہ نگر کےرہنے والے محمد مزمل صدیقی حاجی صدیقی اپنے دوبھائیوں شکیل صدیقی اور عقیل صدیقی کے ہمراہ ضلع پونے کے شیرور تعلقہ کے کارے گاؤں ایک کرائے کے کمرہ میں رہ رہے تھے۔ یہ تینوں بھائی مختلف کمپنیوں میں ملازمت کرتے ہیں۔ جمعہ کی شام ۷ بجےشکیل اپنی رہائش گاہ سے قریب جارہاہے تھے کہ پیچھے سے سکوٹی پر سوار دو نامعلوم افراد نے انہیں ٹکر مار دی۔ اس پر دونوں فریقین کے درمیان تو تو میں میں ہوئی۔ جھگڑا ختم ہونے کے بعد شکیل واپس اپنے روم کی گلی میں گئے، لیکن ان دو نامعلوم افراد نے انہیں دوبارہ روکا اور ہاتھوں سے معمولی مار پیٹ کی۔رات تقریباً 10 بجے، جب دونوں بھائی سو رہے تھے، تب ان کے روم کا دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا گیا۔ دروازہ کھولنے پر وہی اسکوٹی سوار دو افراد لکڑی کے ڈنڈے، پلاسٹک پائپ اور اسٹیل کا پائپ لے کر سامنے کھڑے تھے۔ حملہ آوروں نے کمرے میں گھس کر شکیل اور مزمل صدیقی دونوں پر جان لیوا حملہ کر دیا۔ہفتہ کی صبح ان دونوں کے بھائی عقیل نے اپنے بھائیوں کو قریبی دواخانہ لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے مزمل صدیقی کو مردہ قراردے دیا، شدید زخمی شکیل اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔ ان کے بیان پر پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئےمحض دو گھنٹے کے اندر دونوں ملزمان اومکار سیتارام والکے اور وجے گیانیشور جگدھنے (دونوں ساکن کارے گاؤں) کو دبوچ لیا۔ پوچھ گچھ کے دوران، انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!