مضامین

کھوکھلے نعروں کانام وطن سے محبت نہیں۔۔۔۔آئیے اسے سمجھیں

حب الوطنی کا اسلامی معیار اور اس کے تقاضے
روئے زمین کے جس خطے میں انسان جنم لیتا ہے، جہاں اس کی پرورش ہوتی ہے اور جس کی ذب وہوا میں وہ اپنی عمر کے مختلف مراحل طے کرتااور اس کی خیر ات وبرکات سے مستفید ہوتاہے، اس سے محبت اور دلی تعلق ایک فطری بات ہے اور یہ ایسا ہی تعلق ہے جیسا کہ ایک انسان کا اپنے والدین سے ہوتاہے، محدود سطح پر اگرہم اس کو محسوس کرنا چاہیں تو اپنے بچپن کی طرف لوٹیں جب ہماری عمر چھوٹی تھی اور ہم تعلیم حاصل کرنے کےلیے یا کسی اور غرض سے اپنے گاؤں اور گھر سے پہلی مرتبہ باہر نکلے تھے، اس وقت کے احساسات کیاتھے، جہاں ہم اپنے والدین کے چہرے کو بار بار دیکھتے اور زبانِ حال سے فریاد کررہے ہوتے تھے کہ ہمیں کہیں نہیں جانا ہے، وہیں ارد گرد کا ماحول، وہ جگہیں جہاں ہم کھیلتے تھے، جہاں ہم دوستوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے اور جہاں گھوماکرتے تھے، وہ بھی شدت سے یادآنے لگتیں اور ایسا لگتا کہ جیسے یہ چیزیں ہمارا دامن اپنی جانب کھینچ رہی ہیں، بالکل یہی حال ذرابڑے پیمانے پر اس وقت ہوتا ہے، جب ایک انسان اپنا وطن اور اپنا ملک چھوڑکر کسی اور ملک کی طرف رختِ سفر باندھ رہا ہوتاہے۔ عمومی ماحول میں ہمیں اس حقیقت کا ادراک نہیں ہوتا ،مگر جولوگ اپنے ملک یا اپنے شہر، گاؤں سے باہر ہوتے ہیں ان سے پوچھ کر دیکھئے کہ وطن کی محبت کیاہے اور اس سے تعلق کی نوعیت کیسی ہوتی ہے۔
نبی اکرم ﷺ کی مبارک زندگی میں ہمیں اس حوالے سے واضح اشارات اورمظاہر ملتے ہیں، جب آپ نے لوگوں کو اسلام اور دین حنیف کی دعوت دینا شروع کی اور لوگوںنے اس کے جواب میں آپ کو اور مسلمانوں کو بے پناہ تکلیفیں پہنچائیں، جس کے بعد آپﷺ کو اور مسلمانوں کو مکہ سے ہجرت کی اجازت مل گئی اور آپ نے مدینہ کے لئے رختِ سفر باندھا، تو اس وقت آپ کے جذبات چھلک پڑے، حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ سے خطاب کرکے کہا:’’تونہایت ہی پاکیزہ شہر ہے، مجھے بہت زیادہ محبوب ہے، اگر میری قوم مجھے تیرے آغوش سے نہ نکالتی تو میں تیرے علاوہ اور کسی شہر میں رہائش پذیر نہیں ہوگا۔ ‘‘ (سنن ترمذی: ۳۹۲۶)
نزولِ وحی کے پہلے واقعے کے بعد جب ام المؤمنین حضرت خدیجہؓ آپ کو لےکر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں اور انہوں نے آپ کے نبی ہونے کی نشان دہی کی اور ساتھ ہی یہ بھی کہاکہ ’’کاش میں اُس وقت زندہ رہوں جب آپ کی قوم آپ کو (مکہ مکرمہ سے) نکال دے گی‘‘تو یہ سن کر آپ کو بے پناہ تعجب ہوا اور رسول اللہ ﷺ نے پوچھا:’’کیا وہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟‘‘(صحیح بخاری:۳) اس سوال میں جہاں اظہار حیرت ہے وہیں اپنے وطن سے غیر معمولی محبت وتعلق کی جھلک بھی ہے۔
پھر جب آپ مدینہ منورہ تشریف لے آئے اور ابتدائی دنوںمیں آب وہوا کے بدلنے کی وجہ سے صحابۂ کرام کی صحت خراب ہونے لگی اور وہ مکہ مکرمہ کو بہت زیادہ یاد کرنے لگے، تو آپ نے دعا فرمائی: ’’اے اللہ ! جس طرح ہمیں مکہ محبوب ہے، آپ مدینہ کو اسی طرح، بلکہ اس سے بڑھ کر ہمارے لیے محبوب بنادیجیے۔‘‘(بخاری : ۱۸۸۹) پھر آہستہ آہستہ مدینہ بھی آپ کا وطن ہوگیا اور اس کی محبت بھی دل دماغ میں پیوست ہوگئی۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب سفر سے آتے اور آپ کی نگاہ مدینہ کی دیواروں پر پڑتی تو آپ اپنی سواری کو تیز کردیتے اور اگر جانور پرسوار ہوتے تو اسے تیزی سے چلاتے اور یہ مدینہ کی محبت کی وجہ سے تھا۔ (صحیح بخاری: ۱۸۸۶)
یہ احادیث اس بات کو بتاتی ہیں کہ وطن سے محبت اور اس سے تعلق ایک فطری چیز ہے، اسلامی شریعت نے نہ صرف یہ کہ اس جذبہ کو باقی رکھاہے، بلکہ اس کو صحیح اور مکمل رُخ بھی دیاہے۔ حافظ ابن حجرؒ نے حضرت انس ؓ والی حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھاہے کہ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ وطن کی محبت اور اس کی طرف دل کا شدید میلان جائز اور درست ہے۔ (فتح الباری :۳/۷۸۳) نبی کریم ﷺ نے ورقہ بن نوفل سے جوپوچھا تھا کہ کیا میری قوم کے لوگ مجھے مکہ سے نکال دیں گے؟ اس فرمان نبوی کی روشنی میں بعض علماء نے لکھا ہے کہ اس جملہ سے واضح طورپر وطن کی شدید محبت اور وطن سے دوری کا آپﷺ پر شاق ہونا معلوم ہوتاہے۔ (الروض الأنف: ۲/۴۲۱)۔۔۔۔۔۔۔۔(ماہنامہ حج میگزین۔۔مئی ۲۰۱۶ء؁)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!