مضامین

سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دل میں اللہ کا ڈراورفکر آخرت

سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ کی ذات گرامی کسی تعارف کی محتاج نہیں ، یہ وہ ذات گرامی ہے جس نے اس وقت اسلام قبول کیا جب کہ ساری دنیا اس کی مخالف تھی ، پھر تن من دھن سب کچھ اسلام پر قربان کیا جن کا ذکر قرآن میں آتا ہے، جو یارغار کہلائے جنہوں نے غزوۂ تبوک میں سارامال ودولت گھر بار سرکاردوجہاں محبوب کبریا جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں لاکر ڈال دیا، جس ذات شریف نے زمانہ جاہلیت میں بھی کبھی شراب نہیں پی اور نہ ہی بت کو سجدہ کیا، جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں ان کے احسانات کا بدلہ دنیا میں نہیں چکاسکتا، قیامت میں اللہ تعالیٰ ادا فرمائے گا اور اگرمیں جنت میں کسی کو دوست بناتا تو حضرت ابوبکر ؓ کو بناتا، جس ذات نے واقعہ معراج النبی ﷺ کی بلا ردو قدح تصدیق کی اور پیغمبر ﷺ کی زبان مبارک سے جنہیں صدیق کا لقب عطاہوا، جن کے متعلق حضرت عمر ؓ کی رائے یہ ہے کہ اگر تمام اہل زمین کا ایمان ترازو کے ایک پلڑے میں رکھاجائے اور دوسرے پلڑے میں ابوبکر ؓ کا ایمان رکھاجائے تو بلاشک حضرت ابوبکر ؓ کا پلڑا بھاری ہوگا اور جس ذات کو آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی جانشینی اورخلافت کی پہلی عزت ملی جو باجماع اہل سنت انبیاء کے علاوہ دنیا کے تمام آدمیوں سے افضل ہیں اور جن کا جنتی ہونا یقینی ہے ، جن کو نبی کریم ﷺ نے جنتی ہونے کی دنیا میں ہی خوشخبری دی، بلکہ جنتیوں کی ایک جماعت کا سردار بتلایا۔
ان تمام فضیلتوں کےمالک ہونے کے باوجود ان کا یہ عالم تھاکہ قیامت کے خوف سے اور آخرت کے تصور سے پتلیوں کا رنگ روتے روتے بدل گیا تھا اور چہرے پر آنسو بہنے کی جگہ دونیلگوں خط سے پڑ گئے تھے۔
کبھی فرماتے کاش میں کوئی درخت ہوتا جوکاٹ دیاجاتا، کبھی فرماتے کاش میں کوئی گھاس ہوتا کہ جانور اس کو کھالیتے، کبھی فرماتے کاش میں کسی مومن کے بدن کا بال ہوتا، ایک مرتبہ ایک باغ میں تشریف لے گئے اور ایک جانور کو بیٹھا ہوا دیکھ کر ٹھنڈا سانس بھرا اور فرمایا : کہ تو کس قدر لطف میں ہے کہ کھاتاہے، پیتاہے، درختوں کے سائے میں پھرتاہے اور آخرت میں تجھ پر کوئی حساب وکتاب نہیں، کاش ! ابوبکر بھی تجھ جیسا ہوتا۔ ( تاریخ الخلفاء۱۳۰، حکایات صحابہ ۲۶، حیاۃ الصحابہ عربی ۲/۲۵۳۔ ۲/۲۵۴، کنزالعمال ۱۲/۲۳۷، رقم : ۳۵۶۹۴-۳۵۶۹۶)
اپنی بیماری میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے فرمایا کہ دیکھو ایک دودھ دینے والی اونٹنی ، ایک برتن ، ایک چادر اور ایک لونڈی جو بیت المال سےمجھے دی گئی تھی اس کو بیت المال میں واپس کردینا، آپ کی وفات کے بعد حضرت عائشہ ؓ نے یہ چیزیں حضرت عمرؓ کو بھیجیں توحضرت عمرؓ بہت روئے اور فرمایا :اے ابوکرؓ! اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ پر ہو، آپ نے اپنے جانشین کے لیے بہت مشکل نمونہ چھوڑا۔(کنزالعمال ۱۲/۲۴۳، رقم: ۳۵۷۳۷)
قریب وفات فرمایا: عمر بن خطابؓ نہیں مانے اور مجھ کو بیت المال سے وظیفہ دلایا یہاں تک کہ آٹھ ہزار درہم بیت المال کے اب تک میرے نام پر صرف ہوچکےہیں، اچھا میرا فلاں باغ بیچ کر یہ رقم بیت المال میں داخل کردینا۔(حیاۃ الصحابہ عربی ۲/۴۶۰-۲/۵۰۵)
دیکھئے حضرت کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف کس قدر ہے، اولاً توبدلہ لینے کی درخواست کی اور جب حضرت ربیعہ اسلمیؓ خاموش رہے تو حضور ﷺ کے واسطے سے اس کا ارادہ فرمایا کہ ربیعہ بدلہ لے لیں، لیکن آج کل ہم اپنے معاشرہ میں نظر دواڑکر دیکھتے ہیں تو کوئی ایک آدمی بھی ان صفات کاحامل نظرنہیں آتا، جسے دیکھئے ایک دوسرے کو سخت سے سخت بات اور طرح طرح کی گالیاں دے دیتاہے، حضرت امیر المومنین ابوبکرصدیقؓ کے مذکورہ بالا واقعہ سے ہر مسلمان کو سبق حاصل کرنا چاہیے۔(ماخوذ از ماہنامہ ندائے شاہی، مراد آباد۔ماہ جولائی ۲۰۲۶ء؁)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button