مضامین

قرآن کریم کا بَرزخ میں انقلاب

حدیث میں فرمایاگیا ہے کہ سورہتَبَارَکَ الَّذِی کے بارے میں حکم یہ ہے کہ عشاء کے بعد اس کی تلاوت کرکے سویاکرو۔ اس کے بارے میں فرمایاگیا:
ھِیَ الرَّافِعَۃُ ھِیَ الْمُنْجِیَۃُ ھِیَ الْمَانِعَۃُ
یہ واقعہ بھی ہے کہ عذاب کورفع کرتی ہے۔ یہ مانعہ بھی ہے کہ روک لگاتی ہے مصیبتوں پر، یہ منجیہ بھی ہے جو نجات دلاتی ہے عذاب سے۔ توقبرکے اندر نجات دلادینا، عذاب کو دفع کردینا اور روک دینا یہ خاصیت ہے تَبَارَکَ الَّذِی کی۔ اسی واسطے حضوراقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سوتے وقت سور تَبَارَکَ الَّذِی پڑھ کرسویاکرو۔ اس لئے کہ سونا اور مرنا برابرہے۔سونے والاگویا کہ موت کے منہ میں جارہاہے۔ موت سہل ہونے کیلئے ہی فرمایا ہے کہ سورہ تبارک الذی پڑھو۔ یہ بَرزخ میں بھی نجات دلائے گی۔ میدان محشر میں بھی بچائے گی۔ یہ امر ہے شریعت کا ، اگرکوئی حافظ ہے تو حفظ پڑھ لیاکرے اور حافظ نہیں ہے تو دیکھ کر پڑھ لیاکرے۔۔۔۔۔ پانچ منٹ کی کیاباتہے ،عشاء کی وضو ہوتے ہی پڑھ کر سوجائے اس سے برکات حاصل ہوں گی۔
حدیث میں آیا ہے کہ جب میّت کو قبر میں لٹایاجائے گا اور عذاب کے فرشتے ہر طرف سے گھیرلیں گے، اس وقت سورۃ تَبَارَکَ الَّذِیکو ایک شکل دےد ی جائے گی وہ اس شکل میں آکر کہے گی کہ خبردار جو تم آگے بڑھے اس عذاب کو فوراً روک لو۔ توملائکہ عذاب کہیں گے کہ ہم کو تواللہ کاحکم ہے آپ کے کہنے سے کیسے رُک جائیں گے وہ کہے گی کہ میں اللہ کا کلام ہوں۔ فرشتے کہیں گے کہ یہ سب کچھ صحیح ہے کہ آپ اللہ کا کلام ہیں مگر وہاں سے ہمیں کلام والے کاآرڈر ہے تو عذاب سے ہم کیسے رُک جائیں تو یہ سورت غضبناک ہوجائے گی۔ اس پر ملائکہ عذاب کہیں گے کہ آپ اللہ سے کہیں، ہمیں نہ روکیں۔ ہم آپ کے کہنے سے رُک نہیں سکتے، ہم تو آرڈر کے پابند ہیں ۔ وہ سورۃ کہے گی کہ ایک منٹ رُک جاؤ، اُسی وقت عروج ہوگا اور پہنچے گی حق تعالیٰ شانہ کی بارگاہ میں اور جاکے کہے گی بہت غصے سے کہ یاتو اے اللہ مجھے اپنے کلام سے نکال دے کہ میں آپ کے قرآن کی سورت نہ رہوں، اور اگر میں سورت ہوں تو اس کے کیا معنے ہیں کہ ملائکہ میری تعمیل نہیں کرتے ہیں تو آپ کاکلام ہوں میں آرڈر دیتی ہوں کہ وہ روکیں عذاب کو مگر وہ روکتے نہیں یاتومجھے قرآن سے نکال دیجئے اور رکھناہے تو اس کے کوئی معنے نہیں کہ میراحکم نہ چلے۔ حق تعالیٰ شانہ فرمائیں گے:
وَحَقُّ لِیْ اَنْ اَغْضَبَ
میں دیکھتاہوں توتوبہت غصہ میں بھری ہوئی ہے۔۔۔۔۔ توکہے گی
وَحَقٌّ لِیْ اَنْ اَغْضَبَ
مجھے حق ہے کہ میں غصہ کروں
میں کوئی معمولی چیز نہیں ہوں۔ میں آپ کا کلام ہوں ۔ کیا وجہ ہے کہ میری تعمیل نہ کی جائے ۔ حق تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں نے اس میّت کو تیرے سُرد کردیا جو مناسب سمجھے تو کر۔۔۔۔۔۔ اب آئےگی آرڈر لے کے اور ملائکہ عذاب سے کہے گی ،خبردار! جوتم آگے بڑھے یہ آرڈرہے۔۔
توحدیث میں آتا ہے کہ وہ ملائکہ منہ بسورتے ہوئے رخصت ہوں گے جیسے کوئی شرمندہ شکست کھاکر جاتاہے کہ ہماری کچھ بات بھی نہ چلی۔ وہ منہ بسورتے ہوئے واپس ہوں گے اور قبرخالی ہوجائے گی ملائکہ عذاب سے۔۔۔۔۔
حدیث میں ہے کہ یہ سورۃ میّت کے منہ پر اپنا منہ رکھے گی جیسے کوئی بوسہ لیتاہے اور کہے گی کیسا مبارک منہ ہے کہ جس سے میری تلاوت کی گئی تھی۔ پھر سینے پر منہ رکھے گی کہ کیسا مبارک سینہ ہے کہ جس میں میں محفوظ تھی۔ پھرقدموں پ منہ رکھے گی کہ کیسے مبارک قدم ہیں کہ جن سے کھڑے ہوکر میری تلاوت کی گئی تھی، اور اس وقت میّت سے کہے گی کہ تُو آرام سے اور اطمینان سے رہ کوئی تیرے اوپر بار نہیں ، میں موجود ہوں فکر کرنے کی بات نہیں۔ توقرآن کریم دنیا میں کایا پلت کردے تو قلوب کونورانی بنادیتاہے۔ برزخ میں کایاپلٹ کرکے عذاب کودفع کرتاہے، اور میدان محشر میں اللہ کے یمین میں پہنچادیتاہے۔ تو قرآن کریم میں ایک تبدیلی اور انقلاب کا مادہ ہے کہ دلوں کو بدل دے۔ روحوںکو بدل دے ، ناپاک کو پاک بنادے۔ یہ انقلاب کامادہ قرآن میں موجود ہے۔ [ماخوذاز خطبات حکیم الاسلام ،جلد۱۰]

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button