احکامات مساجد-۲

احکام ومسائل
مساجد اللہ کی عظمت کا مقتضیٰ یہ ہے کہ ان میں جو شخص داخل ہو ہیبت وعظمت اور خشوع وخضوع کے ساتھ داخل ہو، جیسے کسی شاہی دربار میں داخل ہوتےہیں۔
اس آیت سے جو چند ضروری مسائل واحکام نکلے ان کی تفصیل یہ ہے:
اوّل یہ کہ دنیا کی تمام مساجد آدابِ مسجد کے لحاظ سے مساوی ہیں، جیسے بیتؔ المقدس، مسجدؔ حرام، یا مسجدؔ نبویؐ کی بے حرمتی ظلم عظیم ہے۔ اسی طرح دوسری تمام مساجد کے متعلق بھی یہی حکم ہے ، اگرچہ ان تینوں مساجد کی خاص بزرگ و عظمت اپنی جگہ مسلّم ہے کہ مسجدؔ حرام میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر اور مسجدؔ نبویؐ و نیز بیت المقدس میں پچاس ہزار نمازوںکے برابر ملتاہے، ان تینوںمساجد میں نماز پڑھنے کی خاطر دوردراز ملکوں سے سفر کرکے پہونچنا موجب ثواب عظیم اور باعث برکات ہے۔ بخلاف دوسری مساجد کے کہ ان تینوں کے علاوہ کسی دوسری مسجد میں نماز پڑھنے کوافضل جان کر اس کے لئے دور سے سفر کرکے آنے کو آنحضرت ﷺنے منع فرمایاہے۔
دوسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ مسجد میں ذکر ونماز سے روکنے کی جتنی بھی صورتیں ہیں وہ سب ناجائز وحرام ہیں ، ان میں سے ایک صورت تو یہ کھلی ہوئی ہے ہی کہ کسی کومسجد میں جانے سے وہاں نماز وتلاوت سے صراحۃً روکاجائے، دوسری صورت یہ ہے کہ مسجد میں شور وشغب کرکے یا اس کے قرب وجوار میں باجے گاجے بجاکر لوگوں کی نماز وذکر وغیرہ میں خلل ڈالے، یہ بھی ذکر اللہ سے روکنے میں داخل ہے۔
اسی طرح اوقاتِ نماز میں جبکہ لوگ اپنی نوافل یاتسبیح وتلاوت وغیرہ میں مشغول ہوں، مسجد میں کوئی بلند آواز سے تلاوت یاذکر بالجہر کرنے لگے، تویہ بھی نمازیوں کی نماز وتسبیح میں خلل ڈالنے اور ایک حیثیت سے ذکراللہ کوروکنے کی صورت ہے، اسی لئے حضرات فقہاء نے اس کو بھی ناجائز قراردیاہے، ہاں جب مسجد عام نمازیوں سے خالی ہو، اس وقت ذکر یا تلاوت جہر کا مضائقہ نہیں۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جس وقت لوگ نماز وتسبیح وغیرہ میں مشغول ہوں مسجد میں اپنے لئے سوال کرنا یا کسی دینی کام کےلئے چندہ کرنابھی ایسے وقت ممنوع ہے۔
تیسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ مسجد کی ویرانی کی جتنی بھی صورتیں ہیں سب حرام ہیں، اس میں جس طرح کھلے طورپرمسجد کومنہدم اور ویران کرنا داخل ہے اسی طرح ایسے اسباب پیدا کرنا بھی اس میں داخل ہے جن کی وجہ سے مسجد ویران ہوجائے ، اور مسجد کی ویرانی یہ ہے کہ وہاں نماز کے لئے لوگ نہ آئیں ، یاکم ہوجائیں، کیونکہ مسجد کی تعمیر وآبادی دراصل درودیوار یاان کے نقش ونگار سے نہیں، بلکہ ان میں اللہ کاذکر کرنے والوں سے ہے، اسی لئے قرآن شریف میں ایک جگہ ارشاد ہے:
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ
’’یعنی اصل میں مسجد کی آبادی ان لوگوں سے ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائیں اور روزِ قیامت پر اور نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں، اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔‘‘
اسی لئے حدیث میں رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ قربِ قیامت میں مسلمانوں کی مسجدیں بظاہر آباد اور مزّین وخوب صورت ہوں گی، مگر حقیقتاً ویران ہوں گی کہ ان میں حاضر ہونے والے نمازی کم ہوجائیں گے۔
حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ شرافت وانسانیت کے چھ کام ہیں، تین حضرکے اور تین سفر کے، حضرکے تین یہ ہیں: [۱]تلاوتِ قرآن کرنا، [۲]مسجدوں کو آباد کرنا،[۳] ایسے دوستوں کی جمعیت بنانا جو اللہ تعالیٰ اور دین کے کاموں میں امداد کریں۔ اور سفر کے تین کام یہ ہیں:[۱] اپنے توشہ سے غریب ساتھیوں پر خرچ کرنا۔ [۲]حسنِ خلق سے پیش آنا اور [۳]رفقائے سفر کے ساتھ ہنسی خوشی، تفریح وخوش طبعی کاطرزعمل رکھنا، بشرطیکہ یہ خوش طبعی گناہ کی حد میں داخل نہ ہوجائے۔
حضرت علیٰ رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد میں مسجدوں کے آباد کرنے کامطلب یہی ہے کہ وہاں خشوع وخضوع کے ساتھ حاضربھی ہوں، اور وہاں حاضر ہوکر ذکر وتلاوت میں مشغول رہیں، اس کے مقابلہ میں مسجد کی ویرانی یہ ہوگی کہ وہاں نمازی نہ رہیں یاکم ہوجائیں۔
اور اگر آیت کاشانِ نزول واقعۂ حدیبیہ اور مشرکین مکہ کامسجد حرام سے روکنا ہے تو اسی آیت سے یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ مساجد کی ویزرانی صرف یہی نہیں کہ انہیں منہدم کردیاجائے ، بلکہ مساجد جس مقصد کےلئے بنائی گئی ہیں یعنی نماز اور ذکراللہ ، جب وہ نہ رہے یاکم ہوجائے تو مساجد ویران کہلائیں گی۔ (ختم شد)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[تفسیر معارف القرآن ،جلد نمبر۱]



