مضامین

مکروہ اور مُباح امور کابیان-۴

چمار کا مٹکا دھوکر استعمال کرنادرست ہے
سوال:(۱۷) ایک سائیس (۱) قوم کا چمار ہے اس کا مٹکا ایک مسلمان دھوکر استعمال کرتاہے ، جائز ہے یانہیں؟(۷۹/۳۲-۱۳۳۳ھ)
الجواب: اس میں کچھ حرج نہیں ہے وہ مٹکا اور پانی پاک ہے۔فقط
مغرب اور عصر کے درمیان کھاناپینا درست ہے
سوال:(۱۸)مغرب و عصر کے درمیان کھانا پینا درست ہے کہ نہیں؟(۱۲۴/۱۳۳۵ھ)
الجواب: کھانا درست ہے۔ فقط
سوال:(۱۹)عصر مغرب کے درمیان بعض اشخاص کھانے پینے سے بچتے ہیں، اس وجہ سے کہ سکرات کے وقت ہمیشہ یہی وقت محسوس ہوتاہے ، یہ صحیح ہے یانہیں؟(۸۰۵/۱۳۳۹ھ)
الجواب: بعد نماز عصر مغرب تک کھانا پینا شرعًا ممنوع ومکروہ نہیں ہے، اور سکرات موت کے وقت یہ وقت محسوس ہونا مقتضی ترک طعام وآب کو نہیں ہے اور شارع اور فقہاء رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس وقت کھانے پینے کو منع نہیں فرمایا۔ فقط
سوال:(۲۰) پاخانہ میں بیٹھ کر پان کھانا کیساہے؟(۲۱۲۸/۳۲-۱۳۳۳ھ)
الجواب: مکروہ ہے(۲) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
جوغذا دانتوں میں رہ جاتی ہے اس کاکھانا کیساہے؟
سوال: (۲۱) کھانا کھاتے وقت جو غذا دانتوں میں رہ جاتی ہے اس کا کھانا کیساہے؟ یہاں مشہور ہے کہ حرام ہے۔ (۶۵۱/۱۳۳۸ھ)
الجواب: وہ پاک ہے اور کھانا اس کا حلال ہے، البتہ بہتر یہ ہے جیسا حدیث میں وارد ہوا ہے کہ جو زبان کے پھیرنے سے دانتوں سے علیحدہ ہواس کو کھالیوے، اور جو خلال کرنے سے درمیان دانتوں سے نکلے اس کو پھینک دے(۱) اور یہ بھی بہ وجہ کراہت طبعی اور اندیشۂ مضرت کے ہے، ورنہ پاک وحلال سب ہے۔ فقط
آنحضرت ﷺ نے گندم کی روٹی تناول فرمائی ہے
سوال:(۲۲) آنحضرت ﷺ نے گندم کی روٹی کھائی ہے یانہیں؟ اور حضرت ﷺ کے زمانے میں گندم (گیہوں) تھے یانہیں؟(۹۴۹/۱۳۳۵ھ)
الجواب: آنحضرت ﷺ نے گیہوں کی روٹی کبھی کبھی کھائی ہے جیسا کہ ترمذی میں منقول ہے: ما شبع رسولُ اللهِ ﷺ وأهلُهُ ثلاثًا تباعًا من خبزِ البُرِّ حتى فارقَ الدنيا، وفيه أيضًا: وكان أكثرُ خبزِهم خبزَ الشعيرِ(۲) اور آنحضرت ﷺ کے زمانے میں گیہوں کا ہونا احادیث صدقۂ فطر سے ظاہر ہے جیسا کہ ابوداؤد وترمذی ونسائی وغیرہ میں ہے: عنِ الحسنِ قال: خطبَ ابنُ عباسٍ رضيَ اللهُ عنهما في آخرِ رمضانَ على منبرِ البصرةِ فقال: أخرجوا صدقةَ صومِكم، فإنَّ رسولَ اللهِ ﷺ فرضَ هذه الصدقةَ صاعًا من تمرٍ أو شعيرٍ، أو نصفَ صاعٍ من قمحٍ، على كلِّ حرٍّ أو مملوكٍ، ذكرٍ أو أنثى، صغيرٍ أو كبيرٍ.(۳)
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، جلد ۱۶)۔۔۔جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!