ووٹ ایک امانت ہے، سفارش ہے اور گواہی بھی ہے،لہٰذا جن کو آپ ووٹ دے رہیں دیکھ لیں کہ وہ اہل بھی ہیں یانہیں

ارشاد ہے:إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا
’’یعنی اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتاہے کہ امانتیں ان کے مستحقین کو پہونچایاکرو۔‘‘
اس حکم کا مخاطب یہ بھی ہوسکتاہے کہ عام مسلمان ہوں ، اوریہ بھی احتمال ہے کہ خالص امراء وحکام مخاطب ہوں، اور زیادہ ظاہر یہ ہے کہ ہر وہ شخص مخاطب ہے جو کسی امانت کا امین ہے، اس میں عوام بھی داخل ہیں اور حکام بھی ۔
ادائے امانت کی تاکید: حاصل اس ارشاد کایہ ہے کہ جس کے ہاتھ میں کوئی امانت ہے اس پر لازم ہے کہ یہ امانت اس کے اہل ومستحق کو پہونچادے، رسول کریم ﷺ نے اداء امانت کی بڑی تاکید فرمائی ہے، حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ بہت کم ایسا ہوگا کہ رسول کریم ﷺنے کوئی خطبہ دیا ہو اور اس میں یہ ارشاد نہ فرمایا ہو:لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ
’’یعنی جس میںامانت داری نہیں اس میں ایمان نہیں اورجس شخص میں معاہدہ کی پابندی نہیں اس میں دین نہیں‘‘(یہ روایت بیہقی نے شعبؔ الایمان میں نقل کی ہے)
خیانت نفاق کی علامت ہے: بخاری ؔ اور مسلمؔ میں حضرت ابوہریرہؓ اور ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز نفاق کی علامتیں بتلاتے ہوئے ایک علامت یہ بتلائی کہ جب امانت اُس کے پاس رکھی جائےتو خیانت کرے۔
امانت کی قسمیں: اس جگہ یہ بات غور طلب ہے کہ قرآن حکیم نے لفظ اَمَانتْ بصیغہ جمع استعمال فرمایا، جس میں ارشاد ہے کہ امانت صرف یہی نہیں کہ کسی کاکوئی مال کسی کے پاس رکھا ہو جس کو عام طورپر امانت کہا اور سمجھا جاتاہے، بلکہ امانت کی کچھ اور قسمیں بھی ہیں، جو واقعہ آیت کے نزول کا ابھی ذکر کیاگیا خود اس میں بھی کوئی مالی امانت نہیں، بیت اللہ کی کنجی کوئی خاص مال نہ تھا، بلکہ یہ کنجی خدمتِ بیت اللہ کے ایک عہدہ کی نشانی تھی،
حکومت کے مناصب اللہ کی امانتیں ہیں:
اس سے معلوم ہوا کہ حکومت کے عہدے اور منصب جتنے ہیں وہ سب اللہ کی امانتیں ہیں، جس کے امین وہ حکام اور افسر ہیں جن کے ہاتھ میں عزل ونصب کے اختیارات ہیں، ان کے لیے جائز نہیں کہ کوئی عہدہ کسی ایسے شخص کے سپرد کردیں جو اپنی عملی یا علمی قابلیت کے اعتبار سے اس کا اہل نہیں ہے، بلکہ اُن پر لازم ہے کہ ہرکام اور ہرعہدہ کے لئےاپنے دائرۂ حکومت میں اس کے مستحق کوتلاش کریں۔
کسی منصب پر غیراہل کو بٹھانے والاملعون ہے: پوری اہلیت والاسب شرائط کاجامع کوئی نہ ملےتو موجودہ لوگوں میں قابلیت اور امانت داری کے اعتبار سے جو سب سے زیادہ فائق ہو اس کو ترجیح دی جائے۔
ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ کاارشاد ہے کہ جس شخص کو عام مسلمانوں کی کوئی ذمہ داری سپرد کی گئی ہو پھر اس نے کوئی عہدہ کسی شخص کو محض دوستی وتعلق کی مد میں بغیر اہلیت معلوم کئے ہوئے دیدیا اس پر اللہ کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہے، نہ نفل، یہاں تک کہ وہ جہنم میں داخل ہوجائے(جمع الفوائد، ص ۳۲۵)
بعض روایا ت میں ہے کہ جس شخص نے کوئی عہدہ کسی شخص کے سپرد کیاحالانکہ اس کے علم میں تھا کہ دوسرا آدمی اس عہدہ کے لئے اس سے زیادہ قابل اور اہل ہے تو اس نے اللہ کی خیانت کی اور رسول ﷺ کی اور سب مسلمانوں کی، آج جہاں نظام حکومت کی ابتری نظر آتی ہے وہ سب اس قرآنی تعلیم کو نظرانداز کردینے کانتیجہ ہے، کہ تعلقات اور سفارشوں اور رشوتوں سے عہدے تقسیم کئے جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ نااہل اور ناقابل لوگ عہدوں پر قابض ہوکر خلق خدا کوپریشان کرتےہیں، اور سارا نظام حکومت برباد ہوجاتاہے۔
اسی لئے آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا:إِذَا وُسِّدَ الأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ ’’یعنی جب دیکھو کہ کاموں کی ذمہ داری ایسے لوگوں کے سپرد کردی گئی جو اس کام کے اہل اور قابل نہیں تو [اب اس فساد کاکوئی علاج نہیں] قیامت کاانتظار کرو‘‘۔ یہ ہدایت صحیح بخاری کتاب العلم میںہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے لفظ اَمٰنٰتْ بصیغہ جمع لاکر اس کی طرف اشارہ کردیا کہ امانت صرف اسی کانام نہیں کہ ایک شخص کامال کسی دوسرے شخص کے پاس بطور امانت رکھا ہو، بلکہ امانت کی بہت سی قسمیں ہیں، جن میںحکومت کے عہدے بھی داخل ہیں۔
ایک اور حدیث میں آنحضرت ﷺ کارشاد ہے:الْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ
’’یعنی مجلسیں امانتداری کے ساتھ ہونی چاہئیں‘‘
مطلب یہ ہے مجلس میںجوبات کہی جائے وہ اسی مجلس کی امانت ہے، ان کی اجازت کے بغیر اس کودوسروں سے نقل کرنا اورپھیلانا جائز نہیں۔
اسی طرح ایک حدیث میں ہے: الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ ’’یعنی جس شخص سے کوئی مشورہ لیا جائے وہ امین ہے‘‘اس پر لازم ہے کہ مشورہ وہی دےجو اس کے نزدیک مشورہ لینے والے کے حق میں مفید اور بہتر ہو، اگرجانتے ہوئے خلاف مشورہ دیدیاتو امانت میں خیانت کامرتکب ہوگیا، اسی طرح کسی نے آپ سے اپنا راز کہاتو وہ اس کی امانت ہے، بغیر اس کی اجازت کے کسی سے کہہ دینا خیانت ہے، آیت مذکورہ میں ان سب امانتوں کاحق ادا کرنے کی تاکید ہے۔(تفسیر معارف القرآن، جلد ۲۔ازحضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ)
جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



