مضامین

واقعۂ معراج النبی ﷺ-۲

اس کے بعد وہ مقام آیا جہاں مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئیں ۔ پھر ( جب ملا اعلیٰ کا میرا سفر تمام ا ہوا اور درگاہ رب العزت سے ) میں واپس ہوا تو ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم؈ سے رخصت ہو کر چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ ؑ؈ کے پاس آیا تو انہوں نے پوچھا تمہیں کسی عبادت کا حکم دیا گیا ہے؟ میں نے ان کو بتایا کہ پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا ہے ۔ حضرت موسیٰ ؈نے کہا تمہاری امت رات دن میں پچاس نمازیں ادا نہیں کر سکے گی ، خدا کی قسم میں تم سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں اور بنی اسرائیل کی اصلاح و درستی کی سخت ترین کوشش کر چکا ہوں لیکن وہ اصلاح پذیر نہ ہوئے باوجود یکہ ان کے لوگ تمہاری امت کے لوگوں سے زیادہ مضبوط تھے۔ تو پھر تمہاری امت کے لوگ اتنی زیادہ نمازوں کی مشقت کیسے برداشت کر سکیں گے ) لہذا تم اپنے پروردگار کے پاس واپس جاؤ اور اپنی امت کے حق میں تخفیف اور آسانی کی درخواست کرو۔ چنانچہ میں دوبارہ حاضر ہوا اور میرے پروردگار نے میرے عرض کرنے پر دس نماز میں کم کر دیں ، میں پھر حضرت موسیٰ ؈ کے پاس آیا لیکن انہوں نے پھر وہی کہا جو پہلے کہا تھا۔ چنانچہ میں پھر بارگاہ خداوندی میں حاضر ہوا اور چالیس میں سے دس نماز میں کم کر دی گئیں ، میں پھر حضرت موسیٰ ؈ کے پاس آیا تو انہوں نے پھر وہی کہا جو پہلے کہا تھا، چنانچہ میں بارگاہ خداوندی میں حاضر ہوا تو تیس میں سے دس نمازیں کم کر دی گئیں میں پھر حضرت موسیٰ ؈ کے پاس آیا تو انہوں نے پھر وہی کہا جو پہلے کہا تھا۔ چنانچہ میں پھر بارگاہ خداوندی میں حاضر ہوا تو مجھ سے دس نماز میں کم کر دی گئیں اور مجھے دس نمازوں کا حکم دیا گیا میں پھر حضرت موسیٰ ؈کے پاس آیا تو انہوں نے پھر وہی کہا جو پہلے کہا تھا، چنانچہ میں پھر بارگاہ خداوندی میں حاضر ہوا اور مزید پانچ نمازوں کی تخفیف کر کے مجھ کو ہر شب و روز میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا، میں پھر حضرت موسیٰ ؈کے پاس آیا تو انہوں نے پوچھا کہ اب تمہیں کیا حکم ملا ہے؟ میں نے ان کو بتایا کہ اب مجھے رات دن میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ ؈ نے کہا حقیقت یہ ہے کہ تمہاری امت کے اکثر لوگ رات دن میں پانچ نمازیں بھی نہیں پڑھ پائیں گے، حقیقت یہ ہے کہ میں تم سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں اور بنی اسرائیل کی اصلاح و درستی کی سخت کوشش کر کے دیکھ چکا ہوں، لہذا تم پھر پروردگار کے پاس جاؤ اور اپنی امت کے لئے تخفیف کی درخواست کروں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں بار بار اپنے پروردگار سے تخفیف کی درخواست کر چکا ہوں اور مجھ کو شرم آتی ہے، میں اپنے پروردگار کے اس حکم کو قبول کرتا ہوں ۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؈ سے اس گفتگوکے بعد جب میں وہاں سے رخصت ہوا تو یہ ندائے غیبی آئی، میں نے اپنے فرض کو جاری کیا اورپھر اپنے پیارے رسول کے طفیل میں نے اپنے بندوں کے حق میں تخفیف کردی۔ (بخاری ومسلم)۔۔۔۔(مشکوٰۃ شریف ،جلد ثانی )
(جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ان شاء اللہ تعالیٰ)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button