مَضَامینِ رَمضَانُ المُبَارک- (۱۱)۔۔۔احکامات تراویح

تراویح کا صحیح وقت
س: تراویح کا وقت عشاء کی فرضوں کے بعد ہے یاپہلے؟
اگر کوئی شخص فرضوں سے پہلے تراویح پڑھ لے اور بعد میں عشا کی فرض ادا کرلے تو کیا اس کی تراویح درست ہوجائیں گی۔ تراویح کا وقت کب تک ہے؟
ج: نماز تراویح کا وقت عشا کی فرضوں کے بعد شروع ہوتا ہے اور صبح صادق تک رہتاہے ۔ نماز عشاء سے پہلے تراویح پڑھی جائیں گی تو اس کا شمار تراویح میں نہ ہوگا۔ فرضوں کے بعد تراویح دوبارہ پڑھنی ہوگی۔(فتاوی محمودیہ۔ درمختار جلد۱، صفحہ ۴۷۳۔ کبیری صفحہ ۴۰۳)
س: تراویح اور وترپڑھ لینے کےبعد معلوم ہوا کہ امام یا منفرد کو عشا کی فرض میں کوئی ایسی بات پیش آگئی تھی جس کی وجہ سے عشا کی نماز نہیں ہوئی تھی(مثلاً قرأت کی غلطی) تو کیا اس کو صرف فرض یا تراویح و وتر سب لوٹانی ہوگی؟
ج: تراویح عشا کے تابع ہیں جیسے کہ کوئی شخص عشا سے قبل تراویح پڑھ لے تو اس کی نماز تراویح نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر عشا کی نماز فاسد ہوگئی اور منفرد یا امام تراویح پڑھ چکا ہے تو عشا کی فرضوں کے ساتھ تراویح بھی لوٹانی ہوگی۔
خواہ بیس رکعات تراویح پڑھ چکا ہو یابعض۔ البتہ وتر کولوٹانے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ وتر عشا کے تابع ہیں۔ (کبیری صفحہ ۴۰۴۔ عالمگیری جلد ۱، صفحہ ۱۱۴)
سوال:اگر امام نے فرض نماز کو بے وضو پڑھایا اور تراویح و وتر وضو کی حالت میں تو کیا صرف فرض دوبارہ پڑے گی یاسب کی سب؟
ج: عشا کی فرض اور تراویح کا اعادہ لازم ہوگا۔ وترکانہیں۔
س: اگرفرض اور تراویح جماعت سے ادانہیں کیا تو کیا اس کیلئے جائز ہے کہ وتر جماعت سے ادا کرلے؟
ج: تنہا وتر کا جماعت سے اداکرنا درست ہے ، امام طحطاویؒ فرماتے ہیں کہ درست و صحیح یہی ہے۔ (حاشیہ مراقی الفلاح صفحہ ۲۲۷)
تراویح کی نیت
س: تراویح کی نیت کس طرح کرنی چاہیے؟
ج: تراویح کی نیت یوں کرنی چاہیے۔ یا اللہ آپ کی رضا کے لئے تراویح پڑھتا ہوں۔ یا اللہ اس وقت کی سنت ادا کرتا ہوں۔ یا رمضان المبارک کے قیام لیل کی نماز ادا کرتاہوں۔ یا امام کی اقتداء میں نماز تراویح پڑھ رہا ہوں۔ تو اس طرح بھی نیت کرسکتاہے۔ یااللہ امام جو جو نماز پڑھارہا ہے میں بھی وہی نماز ادا کرتاہوں۔ ان میں سے جوبھی نیت کی جائے تراویح ادا ہوجائیں گی۔ (خانیہ)
مسئلہ: مطلقاً نماز یانوافل کی نیت پر اکتفانہیں کرنا چاہیے۔(خانیہ)
مسئلہ: اگر کسی نے عشا کی سنتیں نہیں پڑھی تھیں اور تراویح پڑھانے والے امام کے پیچھے سنت عشا کی نیت کرکے اقتداکی تویہ جائز ہے۔ (فتاویٰ محمودیہ بحوالیہ خانیہ)
مسئلہ: اگرامام تراویح کادوسرا یا تیسرا شفعہ پڑھ رہاہے اور کسی مقتدی نے اس کے پیچھے اپنے پہلے شفعہ کی نیت کی تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ (فتاویٰ محمودیہ بحوالیہ خانیہ)
مسئلہ: اگر یاد آیا کہ گزشتہ شب کوئی شفعہ تراویح کافوت ہوگیا یافاسد ہوگیاتھا تو آج اس کو جماعت کے ساتھ تراویح کی نیت سے قضا کرنا مکروہ ہے۔(فتاویٰ محمودیہ بحوالہ خانیہ)
مسئلہ: تراویح کی ہر شفعہ میں نیت کرنی چاہیے یا ایک بار کی نیت کافی ہے؟
تراویح کے ہرشفعہ میں نیت کرنا افضل ہے کیونکہ سلام کے ذریعہ آدمی نماز سے خارج ہوجاتاہے اس لئے نیت کرکے نماز میں داخل ہونا افضل ہے لیکن اگر ایک بار ہی نیت کرلی تو بھی کافی ہوجائے گا۔ (شامی ،جلد۲، صفحہ ۴۴)۔۔لیکن افضلیت کے خلاف ہوگا۔
۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ



