مضامین

میرا دل تڑپ رہا ہے، میرا جل رہا ہے سینہ—کہ دوا وہیں ملے گی، مجھے لے چلو مدینہ (۲)

ریاض الجنہّ کے سات ستون
مسجد نبویؐ کا وہ قدیم حصہ پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ممبر اور حجرۂ عائشہؓ کے درمیان واقع ہے وہی ریاض الجنہ کاحصہ ہے۔ اور اس حصہ میں سات ستون ہیں۔ اور ہر ایک ستون پر سونے کا پانی چڑھاہواہے۔ اور مسجد نبویؐ میں یہ سات ستون بالکل نمایاں ہیں۔ اوریہ ساتوں ستون حضور ﷺ کے زمانہ کے ہیں۔ اورہر ایک پر نام بھی لکھا ہوا ہے۔ تفصیل حسب ذیل ہے۔
اسطوانۂ حنّانہ : اسطوانۂ حنانہ وہ ستون ہے جو کھجور کے تنہ کا تھا۔مسجد نبویؐ میں منبر بننے سے قبل حضور ﷺ اسی ستون پر ٹیک لگاکر خطبہ اور وعظ ونصیحت فرمایا کرتے تھے۔ اور جب منبر بن گیا اور ستون کو چھوڑکر منبر پر جلوہ افروز ہوکر خطبہ دینے لگے، تویہ ستون باقاعدہ آواز کے ساتھ زور زور سے رونے لگا توحضورﷺ نے اس کو اپنے سینۂ مبارک سےلگالیا تو روزنا بند ہوگیا۔(ترمذی شریف بروایت عبداللہ بن عمرؓ۱/۱۱۳)
کھجور کا تنہ تووہاں مدفون ہے لیکن اب وہاں پختہ ستون ہے۔
اسطوانۂ ابولبابہؓ: حضرت ابولبابہ ؓ جلیل القدر صحابی ہیں۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر ان سے کوئی خطا صادر ہوگئی تھی توانہوں نے خود اپنے آپ کو مسجد نبویؐ کے اس ستون سے باندھ دیاتھا جو اسطوانۂ ابولبابہؓ سے مشہور ہوگیاہے۔ اور انہوںنے یہ عہد کیاتھا کہ جب تک حضور ﷺ خود نہیں کھولیں گے بندھا رہوں گا۔ اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ جب تک خدا کی طرف سے مجھے حکم نہ ہوگا میں بھی نہیں کھولوں گا۔ چنانچہ پچاس دن تک اسی حالت میں بندھے رہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نےقرآن کریم کے اندر ان کی توبہ کی قبولیت کا اعلان فرمایا۔ تو حضورﷺ نے بہ نفس نفیس اپنے دست مبارک سے کھول دیا تھا۔ ان کی توبہ کا ذکر سورۂ توبہ میں ہے۔ اس جگہ پر توبہ کی قبولیت قرآن سے ثابت ہے۔ اس لئے یہاں پر دورکعت نماز پڑھ کر توبہ واستغفار اور دُعاء کرنی چاہیے۔ (المسالک فی المناسک ۲/۱۰۷۹)
اسطوانۂ وفود:اسطوانۂ وفود وہ ستون ہے جس کے پاس بیٹھ کر باہر سے آنے والے قبائل نے آپ ﷺ کے دست مبارک پر اسلام کی بیعت کی ہے۔ یہ ستون حجرۂ عائشہ ؓ اور حجرۂ فاطمہؓ کی دیوار سے متصل ہے۔ (غنیہ جدید/۳۸۲)
اسطوانۂ حرس: اسطوانۂ حرس وہ ستون ہے جو حجرۂ عائشہؓ کی دیوار سے متصل ہے۔ ہجرت کے بعد شروع شروع میں حضور ﷺ کے دروازہ پر پہر دیا جاتاتھا ، تو پہرہ دینے والااسی ستون کے پاس بیٹھ جاتاتھا، اور بعد میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اعلان فرمایا کہ آپ ﷺ کی حفاظت اللہ تعالیٰ خود فرمائیں گے۔ قرآنی اعلان کے بعد پہرہ کا سلسلہ ختم ہوگیا تھا۔ (غنیہ جدید/۳۸۱)
اسطوانۂ جبریلؑ: حضرت جبریلؑ امین جب وحی لے کر حضر دحیہ کلبی ؓ کی شکل میں تشریف لاتے تو اکثر و بیشتر اسی ستون کے پاس بیٹھے ہوئے نظر آتے تھے، اور اس جگہ کومقام جبریلؑ بھی کہتے ہیں۔ اس جگہ بھی دعائیں بہت زیادہ قبول ہوتی ہیں۔
اسطوانۂ سریر: اسطوانۂ سریروہ ستون ہے جہاں پر حضور ﷺاعتکاف فرمایا کرتے تھے ۔ اور آرام کے لئے اسی جگہ آپ ﷺ کا بستر بچھادیا جاتاتھا۔ یہ چونکہ حضور ﷺ کے اعتکاف کی جگہ اس لئے یہاں بھی دعائیں بہت زیادہ قبول ہوتی ہیں۔
اسطوانۂ عائشہؓ: ایک دفعہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایاتھا کہ میری مسجد میں ایک جگہ ایسی ہے کہ اس جگہ نماز پڑھنے کی فضیلت اگرلوگوں کو معلوم ہوجائے گی تو نمبر لگانے کے لئے قرعہ اندازی کی نوبت آجائے گی۔ اس کے بعد سے صحابۂ کرام اس جگہ کی جستجو کرتے رہے ہیں۔ حضور ﷺ کی وفات کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے اپنے بھانجہ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کو جگہ بتلادی کہ اس جگہ جاکر توبہ واستغفار اور دُعاء اور نمازوں میں مشغول ہوجائیں، اس لئے اس ستون کو اسطوانۂ عائشہؓ کہاجاتاہے۔ اس جگہ بھی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ (غنیہ جدید/۳۸۱)
لہٰذا مذکورہ مقامات میں سے کی بھی جگہ دعاترک نہ کریں۔۔۔۔[از کتاب انوارمناسک]
(جاری ہے۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button