بندوں کے جیسے اعمال ہوں گے اسی کے مطابق اللہ کی طرف سے فیصلے ہوں گے

وَلَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ (البقرۃ: ۱۳۹)
ہمارے لئے ہمارے عمل ہیں اور تمہارے لئے تمہارے عمل ہیں۔
یہ اہل کتاب یہود ونصاری سے خطاب ہے، مطلب اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کاکسی سے حسب ونسب کاکوئی رشتہ نہیں، اللہ کارشتہ بندوں سے اعمال کے اعتبار سے ہوتاہے، اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال دیکھتاہے، بندوں کے جیسے اعمال ہوں گے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ ہوگا۔ یہودیوں سے خطاب ہے کہ تم جوکہتے ہو کہ ہم تو رسول کی اولاد ہیں، لہٰذا تم پرت واللہ کا فجل ہی ہوگا توایسا نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کا کسی سے رشتہ نہیں ، کیا اللہ کا فضل ہم پر نہیں ہوسکتا؟ کیااس کے فضل سے مستحق ہم نہیں بن سکتے؟ وہاں تو فیصلہ اعمال واخلاص کی بنیاد پر ہوتاہے اور اعمال ہمارے ایسے ہیں ، ہم مخلص ہیں، لہٰذا اللہ کے فضل کے مستحق بھی اب ہم ہی ہیں، اسی کو فرمایا: وَنحْنُ لَہُ مُخْلِصُوْنَ یعنی ہم اللہ کی عبادت کرتے ہیں، مخلص ہیں، ہم موحد ہیں، یعنی ہم مشرک نہیں، منافق نہیں، تم کافر اور مشرک ہو تم حضرت عزیر علیہ السلام کواللہ کا بیٹا ، فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہو، لہٰذا تم اللہ کے فضل کے مستحق نہیں ہوسکتے۔سے معلوم ہوتاہے کہ سفارش بھی نفع پہنچائے گی، تمہارا یہ کہنا کہ ہمارے باپ ایسے تھے، ہمارے آباء اجداد ایسےتھے، ہم ان کی نسل سے ہیں اور وہ ایسے تھے ، لیکن تم کیاہو؟ یہ ٹھیک ہے کہ بزرگوں اور صلحاء کی اولاد قابل احترام ہیں، لیکن محض بزرگ کی اولاد ہونا نجات کے لئے تو کافی نہیں ، باقی اللہ اگراپناکرم فرما دے تو دوسری بات ہے، لیکن سرے سے اگرایمان ہی نہ ہوتو کسی کی سفارش سے بھی نجات نہیں ہوسکتی۔ واللہ اعلم
لڑکی ہو یا لڑکا رشتہ کرنے میں دینداری کوضرور دیکھنا چاہیے
وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ(ابقرۃ: ۲۲۱)
اور عبدمومن یعنی مسلمان بندہ مشرک سے بہتر ہے اگرچہ وہ مشرک تم کو بھلالگے۔
اس آیت کا درس دیتے ہوئے حضرت نے ارشاد فرمایا: نکاح کے لیے ایسی عورت کا انتخاب کرنا چاہیے جو دین دار ہو، ایسی عورت سے نکاح کرو، ایسی عورت کو بہوبناؤجو گھر کو سنوار دے، ایسی عورت سے شادی نہ کرے جو گھر کو تباہ وبرباد کرے، خاندان میں پھوٹ ڈلوادے، اسی طرح داماد بھی بددین شخص کو نہ بنائے: کیونکہ ازدواجی رشتہ ایسا ہوتاہے کہ مرد و عورت دونوں پر ایک دوسرے کے اخلاق کا اثرپڑتاہے، دونوں ایک دوسرے کی نیک یا بُری صحبت اور اچھے یابرے مزاج سے متاثر ہوتے ہیں، اس لیے بددین لڑکے یا لڑکی سے کبھی رشتہ نہ کرے، میں نے خود دیکھاہے کہ ایسے گھرانہ کی لڑکیاں جن کا چہرہ کبھی ظاہر نہ ہوتاتھا، جن کے چہرے پر کسی کی نظر نہ پڑتی تھی، جن کاقدم کبھی گھر سے باہر نہ نکلتاتھا، لیکن بددین لڑکے سے شادی کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے خود دیکھا کہ ننگے سر ساڑی پہنے ہوئے سڑکوں پر نیم عریاں لباس پہنے گویاننگی پھر رہی ہیں، ٹہل رہی ہیں، یہ نتیجہ ہوتاہے بدین شخص سے رشتہ کرنے کااور جب دین رخصت ہوتاہے تو حیاء وشرم بھی رخصت ہوجاتی ہے۔
فائدہ : حضرت نے فرمایا: میں نے خود دیکھا ایسی عورت کو کہ بازار میں ننگے سرگھوم رہی ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ قصداً حضرت نے دیکھا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اچانک غیر اختیاری طورپر نظر پڑی اور معلوم ہوا کہ یہ فلاں دیندار گھرانے کی عورت ہے۔
دیندار لڑکے یالڑکی سے رشتہ کرنے کایہ مطلب نہیں کہ لڑکی عالمہ یاتبلیغ میں وقت لگاتی ہو یا لڑکا عالم یا تبلیغ میں وقت لگاتا ہو یا خانقاہ سے وابستہ ہو، بلکہ دینداری کامطلب یہ ہے کہ دین کے پانچ اہم شعبے یعنی عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت اخلاق تمام شعبہ میں اس کے اندر دینداری پائی جاتی ہو، اس کے عقائد اہل سنت والجماعت کے مطابق ہوں اور اس کی زندگی شریعت وسنت کے موافق ہو، محض کسی ادارے یا تحریک سے وابستگی یہ دینداری کا معیار نہیں۔ واللہ اعلم (مرتب)
ماہنامہ ندائے شاہی، مراد آباد ۲۰۲۶ءجولائی



