مضامین

معجزاتِ حضرت رسول اکرمﷺ-۳

حضرت عبداللہ بن سلام کا قصہ
اورحضرت انسؓ کہتے ہیں کہ عبداللہ ابن سلام ؓ ایک جگہ درختوں سے پھل چن رہے تھے کہ انہوں نے رسول کریمﷺ کے آنے کاحال سنا، وہ فوراً نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اورعرض کیا کہ میں آپ سے تین باتیں دریافت کرنا چاہتاہوں، جن کونبی کے سواکوئی نہیں جانتا، ایک تویہ کہ قیامت کی پہلی علامت کیاہوگی؟ دوسرے یہ کہ جنتیوںکا پہلا کھانا کیا ہوگا؟ تیسرے یہ کہ وہ کونسی چیز ہے جو اولاد کو ماں یاباپ کے مشابہ کرتی ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا! ابھی ابھی جبرئیلؑنے ان سوالوں کے جواب سے آگاہ کیا ہے کہ قیامت کی پہلی علامت تووہ آگ ہوگی جو لوگوںکو مشرق کی طرف سے مغرب کی طرف جمع کرکے لے جائے گی۔ اور جنتی جنت میں سب سے پہلےجو کھانا کھائین گے وہ مچھلی کے جگر کا زائد حصہ ہوگا اور جہاں تک اولاد میں ماںباپ کی مشابہت کاسوال ہے تواگرمرد کاپانی عورت کے پانی پر غالب آجاتاہے تومرد اولاد کواپنی مشابہت کی طرف کھینچ لیتاہے اور اگر عورت کاپانی غالب آجاتا ہے توعورت اولاد کواپنی مشابہت کی طرف کھینچ لیتی ہے۔ عبداللہ ابن سلام نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ آپ یقیناً اللہ کے رسول ہیں۔ اس کے بعد عبداللہ ابن سلام نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! یہ یہودی بڑے بہتان تراش ہیں، اگرآپ کے پوچھنے سے پہلے ان کو میرا مسلمان ہونا معلوم ہوگیاتویہ مجھ پر جھوٹے بہتان باندھیں گے ۔ چنانچہ اتفاقاً کچھ یہودی مجلس نبوی میں آگئے اور عبداللہ ابن سلام ایک گوشہ میں چھپ گئے، آنحضرت ﷺ نے ان یہودیوں سے پوچھا کہ تم میں عبداللہ ابن سلام کیسے شخص ہیں؟ انہوںنے جواب دیا کہ وہ ہم میں سے بہترین آدمی ہیں، ہم میں سے بہترین آدمی کا بیٹا ہے اور وہ ہمارے سردار ہیں اور ہمارے سردار کے بیٹے ہیں ۔ آنحضرت ﷺ نے پھر یہ پوچھا کہ اچھا بتاؤ کہ عبداللہ ابن سلامؓ مسلمان ہوجائیں تو کیا تم بھی مسلمان ہوجاؤ گے؟ یہودیوں نے کہاخدا اس کو اسلام سے بچائے اور اپنی حفاظت میں رکھے ، جب عبداللہ ابن سلامؓان کے سامنے آگئے اور کہاکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کےسوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ بلاشبہ محمد اللہ کے رسول ہیں تو یہودیوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ یہ شخص تو ہم میں بہت بُرا ہے اور بدترین شخص کا بیٹاہے اور ان میں طرح طرح کے عیب نکالنے لگے۔ عبداللہ ابن سلامؓنے کہا یا رسول اللہ !یہی وہ بات ہے جس سے میں ڈرتا تھا۔ (بخاری)
توضیح: ’’الانبی‘‘یعنی یہ ایسی باتیں ہیں جو صرف نبی ہی بتاسکتا ہے ، اسی میں معجزہ کاظہور ہواہے کہ آنحضرت ﷺ نے وحی کی بنیادپر یہ تینوں باتیں ٹھیک ٹھیک بتادیں۔ ’’اول اشراط الساعۃ‘‘قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والی علامات کانہیں پوچھا بلکہ قیامت کی شروعات کا سوال ہے کیونکہ اس آگ سےقیامت شروع ہوجائے گی ، قیامت کی علامات تو اس سے پہلے بہت ظاہر ہوچکی ہوں گی لہٰذا ان کاسوال نہیں ہے۔ ’’زیادۃ کبد حوت‘‘ مچھلی کے جگر کے کنارے کاحصہ سب سے پہلے اہل جنت کے سالن میں استعمال ہوگا۔ ’’وماینزع الولد‘‘یعنی بچہ کبھی ماں کا ہم شکل پیدا ہوتاہے اورکبھی باپ کی مشابہت اختیار کرلیتاہے ایسا کیوں ہے؟
’’سبق ماء الرجل‘‘یعنی مادر رحم میں پہنچنے والانطفہ اگر مرد کا غالب آگیا اور عورت کا مغلوب ہوگیا توبچہ مرد کے مشابہ پیدا ہوتا ہے ۔ ملاعلی قاریؒنے سبق کا ترجمہ ’’علاوغلب‘‘ سے کیا ہے مگر شیخ عبدالحقؒ نےاشعۃ اللمعات میںاس کاترمہ سبقت سے کیاہے ، فرماتے ہیں: چوں پیش میشود آب مرد آب زن رایعنی پیشتر دررحم می افتد یعنی مرد کا نطفہ جب مادررحم میں پہلے جاپہنچتاہے توبچہ مرد کے مشابہ ہوجاتاہے ان دونوں ترجموںمیں کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ یوںکہاجاسکتاہے کہ جب مرد کا پانی رحم مادر میں پہلے پہنچ کرعورت کےپانی پر غالب آجاتاہے توبچہ باپ کے مشابہ ہوتاہے۔
’’قوم بھت‘‘ باپرضمہ ہے اور ہاساکن ہے یہ بھت جمع ہے اس کا مفرد بھوت ہے جو مبالغہ کا صیغہ ہ صَبُوْر اور صِبُر کی طرح ہے یعنی یہود بہت ہی بہتان طراز قوم ہے اگر میں اسلام قبول کرلوں گا تووہ مجھ پر طرح طرح کےبہتان باندھیں گے ، حضرت عبداللہ ابن سلامؓیہود کے بہت بڑے عالم تھے ، تورات کے حافظ تھے انہوں نے اپنے غلام سے کہہ رکھاتھا کہ جب نبی آخرزمان مکہ سےمدینہ آجائیں تومجھے اطلاع کرو ایک دن یہ اپنے باغ میں ایک درخت پر چڑھ کر پھل توڑ رہے تھے کہ غلام نے نیچے سے آواز دی کہ نبی آخرالزمان مدینہ آگئے ہیں ! ان پر ایک ہیبت اور رعب طاری ہوگیا قریب تھا کہ درخت سے گرجاتے مگر بچ گئے۔ درخت سے اُتر تےہی آنحضرتﷺ کی طرف روانہ ہوگئے جب حضوراکرمﷺ کے چہرۂ انورپر نگاہ پڑی تو کہنے لگے ’’واللہ ماھذابوجہ کذاب‘‘قسم بخدا!یہ چہرہ کسی جھوٹے کا نہیں ہوسکتا! پھر بطور آزمائش تین سوال کئے ، آنحضرت ﷺ نے خود جواب دینے کے بجائے جبرئیل امین کا انتظار فرمایااور پھر وحی کے ذریعہ سے جواب دیا، عبداللہ بن سلامؓمسلمان ہوگئے مگر پہلے یہود سے اپنی عظمت کا اقرار کروادیاتاکہ بعد میں بہتان طرازی کا اثرنہ ہو۔
(مشکوٰ ۃ شریف)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے،ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!