مضامین

معجزاتِ حضرت رسول اکرمﷺ-۱۸

کھانے سے متعلق معجزہ کا ظہور
اورحضرت انس ؓکہتے ہیں کہ ابو طلحہ انصاریؓ(جومیرے سوتیلے باپ تھے) گھر میں آکر میری ماں ام سلیم سے کہنے لگے کہ (آج) میں نے رسول کریمﷺ کی آواز میں بڑی کمزوری محسوس کی جس سے مجھے محسوس ہوا کہ آپ کو بھوک لگی ہے، کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ ام سلیم نے جواب دیا کہ ہاں کچھ ہے اورپھر انہوںنے جوکی چند روٹیاں نکالیں اورپھر اپنی اوڑھنی لی اور اس کے ایک حصہ میں توروٹیوں کو لپیٹا اور ایک حصہ سے میرے سرکولپیٹ دیا اورپھراوڑھنی میں لپٹی ہوئی ان روٹیوں کو میرے ہاتھ کے نیچے چھپایا اور مجھے رسول کریمﷺ کے پاس بھیجا، میں وہ روٹیاں لے کرپہنچا تو رسول کریمﷺ اس وقت مسجد میں تشریف فرماتھے اور بہت سارے لوگ آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، میں نے سب کوسلام کیا، رسول کریمﷺ نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجاہے؟ میں نے عرض کیا ہاں!پھر آپ نے پوچھا کیاکھانا دے کر بھیجا ہے؟ میں نے عرض کیا ہاں۔ رسول کریمﷺ نے میرا جواب سن کر ان لوگوں سے جو آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے فرمایا کہ اٹھو! ( ابوطلحہ کے گھر!چلو) اس کے بعد آنحضرتﷺ اور وہ تمام لوگ روانہ ہوئے اور میں بھی آپ کے آگے چل پڑا۔ چنانچہ ابوطلحہ کے پاس پہنچ کر ان کو خبردی، ابوطلحہ بولے کہ ام سلیم! رسول کریم ﷺ تشریف لارہے ہیں اور آپ کے ساتھ صحابہ بھی ہیں جب کہ ہمارے پاس اتنے سارے آدمیوں کے کھلانے کے لئے کوئی چیز نہیں ہے۔ ام سلیم نے جواب دیا، اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں۔ پھر ابوطلحہ گھر سے باہر نکلے اور رسول کریمﷺ سے ملاقات کی، اس کے بعد رسول کریمﷺ ابو طلحہ کے گھر تشریف لائے اورگھر میں پہنچ کر فرمایا کہ ام سلیم! جو کچھ تمہارے پاس ہے لاؤ۔ام سلیم نے دوروٹیاں جوان کےپاس تھیں لاکر رکھ دیں، آنحضرت ﷺ نے حکم دیا کہ روٹیوں کو توڑتوڑکر چوراکردیں چنانچہ ان روٹیوں کو چورا کیاگیا اور ام سلیم نے کپی کو نچوڑ کر گھی نکالا اور اس کو سالن کے طورپر رکھا، اس کے بعد رسول کریمﷺ نے اس روٹی سالن کے بارے میں وہ پڑھا جو اللہ نے پڑھوانا چاہا۔ پھر آپﷺ نے فرمایا کہ دس آدمیوں کو بلاؤ ! پس ان کو بلایاگیا انہوں نے پیٹ بھر کر کھایا۔ پھر جب وہ دس آدمی اٹھ کر چلے گئے تو آپ نے فرمایا کہ دس دس آدمیوں کو بلاکر کھلاتے رہو یہاں تک کہ تمام لوگوں نے خوب سیرہوکر کھایا اور یہ سب ستر(۷۰) یا اسی(۸۰) آدمی تھے۔ (بخاری ومسلم)
اور مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ نے فرمایا: دس آدمیوں کو کھانے پر بلاؤ اورجب وہ آئے تو آپ نے ان سے فرمایا کہ اللہ کانام لے کر کھاؤ۔ چنانچہ انہوں نے کھانا کھایا اسی طرح اسّی آدمیوں کوکھلایا گیا اورجب سب لوگ کھاچکے تو آخر میں نبی کریمﷺ نے اور گھر کے آدمیوں نے کھاناکھایا اور پھر بھی پس خوردہ باقی رہا۔ اور بخاری کی ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ نے فرمایا: دس آدمیوں کو میرے پاس لاؤ۔ اسی طرح چالیس آدمیوں کوشمار کیااور ان کے بعد خود نبی کریمﷺ نے کھانا تناول فرمایا اور میں برابر دیکھے جارہاتھا کہ کھانے میں سے کچھ کم ہواہے یانہیں۔ اور مسلم کی ایک اور روایت میںیہ الفاظ بھی ہیں کہ آپﷺ نے پس خوردہ کو اٹھااٹھاکر جمع کیا اور اس میں برکت کی دعافرمائی چنانچہ وہ ایسا ہی ہوگیا جیسا کہ پہلے تھا پھر آپ نے فرمایا لو اس کو رکھو۔
توضیح:’’اقراصاً‘‘ یہ قرص کی جمع ہے روٹی کو کہتے ہیں۔ ’’خمارًا‘‘دوپٹے کو کہتے ہیں۔ ’’ببعضہ‘‘یعنی دوپٹے کے ایک حصہ میں روٹی لپیٹ کر باندھ لی۔ ’’ودستہ‘‘دس یدس نصر ینصر سے دبانے اورچھپانے کے معنی میں ہے خاص کر مٹی میں دبانے کے لئے استعمال ہوتاہے۔ ’’لائتنی‘‘ نصر ینصر سے لوث لپیٹنے اور عمامہ بناے کے معنی میں آتاہے ،حضرت انسؓ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ امی جان نے اپنے دوپٹے کے ایک حصہ میں روٹی باندھ کر میرے بغل میں دبادی اور دوپٹے کا دوسرا حصہ میرے سرپر لپیٹ دیا ، ایسا معلوم ہوتاہے کہ یہ سردی کا موسم تھا اس لئے دوپٹے سے اوڑھنے کاکام بھی لیاگیا۔ ’’بطعام‘‘ بتانے سے پہلے آنحضرتﷺ نے کھانے کی بات ظاہر فرمادی ممکن ہے یہاں ایک معجزہ کا ظہور ہواہو۔
’’قوموا‘‘ اگرچہ حضوراکرمﷺ کوگھر پرنہیں بلایاتھا مگر حضوراکرمﷺ نے مناسب سمجھا کہ وہاں جائیں تاکہ گھر میں برکت آئے اور معجزہ کاظہور ہوجائے۔ ’’اللہ ورسولہ اعلم‘‘ ام سلیم ؓ کی ایمانی قوت کو دیکھ لیجئے ذرابھی پریشان نہیں ہوئیں بلکہ ابو طلحہؓ کو تسلی دیدی کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے مہمان ہیں وہ جانیں ان کے مہمان جانیں، ہم کیوں پریشان ہوں یعنی وہاں سے سارا انتظام ہوگا۔ ’’ففُتَّ‘‘ روٹی چورابناکر توڑی گئی۔
’’ان یقول‘‘ روایات میں ہے کہ آپ نےیہ دُعا پڑھی ’’بسم اللہ اللّٰھم اعظم فیہ البرکۃ‘‘
’’ائذن لعشرۃ‘‘ یہ پرانے زمانے کی دعوتوں کا دستور تھا ، اب بھی عرب میں اور قبائل میں بلکہ ہمارے ہاں بھی یہ دستور ہے کہ دس آدمیوں کو ایک بڑے تھال پر بٹھاکر ایک ساتھ کھلایا جاتاہے، اس مجموعہ کانام ’’پینڈہ‘‘ ہوتاہے ۔ بہرحال دوچار آدمیوں کا کھانا اسّی(۸۰) آدمیوں نے کھایا اورپھر بھی بچ گیا، اس طرح اس کھانے میں معجزہ کا ظہور ہوگیا۔
(مشکوٰۃ شریف۔۔۔جلد نمبر۸)۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!