مضامین

خالق انسان کا تجویز کردہ نصب العین

اس خالق نے ایک نصب العین تجویز فرمایا اور اپنے فرمان کے ذریعے ہم تک بھیج دیاجس کو قرآن کریم کہتےہیں ، فرمایا:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
میں نے جنّوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیاہے تاکہ وہ میری اطاعت کریں۔
تومقصد زندگی درحقیقت اپنے خالق و مالک کی اطاعت وعبادت نکلی۔ عبادت کا لفظ سن کر ممکن ہے کہ آپکو یہ تخیل پیدا ہوا ہوکہ بس اب کہاجائے گا کہ جاکے مسجد میں بیٹھو، کوٹھی بھی چھوڑ دو اوربنگلہ بھی اور مسجد کارستہ لو، عبادت تووہاں ہوگی۔۔۔۔ اورممکن ہےیہ کہاجائے کہ بھائی! یہ دولت جوہے اسے خیرباد کہو، یہ سب کچھ صدقہ کرکے جاؤ اللہ کے راستہ میں، اور اپنا گھر بارچھوڑو۔
دولت سے بھی خداملتاہے
تو میں عرض کئے دیتاہوں کہ یہ غلط تخیل ہے ۔ اسلام کی یہ خصوصیت ہے کہ انسان جس دائرے میں رہے اسے مایوس نہیں کرتا۔خدا تک پہنچنے کا لازمی راستہ بتلاتاہے۔ یہ نہیں کہاکہ انسان آج جس دائرےمیں ہے، اس دائرے کو چھوڑ کر فلاں دائرے میں جائے ۔ جب تو مجھ تک آئے گا اور اگرنہیں چھوڑے گا تومجھ تک نہیں آئے گا۔ ایسا نہیں ہے۔
اگرایک آدمی دولت مند ہے ، اسے اسلام یہ کبھی نہیں کہے گا کہ تواپنی ساری دولت کو ختم کردے بلکہ اسی دولت کو خدا تک پہنچنے کا ذریعہ بنائے گا۔ اس کے صَرف اور آمد کا طریقہ بتلائے گا، اس کے قوانین بتلائے گا کہ میری اطاعت کے تحت اس کو حاصل کر۔۔ ۔۔۔ اور میری اطاعت کے تحت اس کو صَرف کر، یہ سب تیرے لئے عبادت ہے، توایسا کرنے سے مجھ تک پہنچ جائے گا۔ تودولت مند کو کہے گا کہت و دولت کے راستے سے مجھ تک پہنچ۔
اس واسطے کہ ہزاروں عبادتیں ہیں جن کا تعلق ہی مال سے ہے۔ اگر دولت نہیں ہوگی تو آدمی زکوٰۃ کیسے دے گا؟ صدقہ فطر کیسے دے گا؟ خیرات کیسے کرے گا؟ صلہ رحمی کیسے کرے گا؟ حج کیسے کرے گا؟ اجتماعی امور کیسے انجام دے گا؟ غرض خیرات وصدقات اور چندے ، یہ سارے اعمال انجام نہیں دے سکتاجب تک دولت نہ ہو اور یہ سارے کام اسلام کے ہیں۔ تو اسلام کیسے کہے دے گا ۔۔۔۔کہ دولت کو ضائع کردویا حاصل نہ کرو، یا آگئی ہے تو اسے کھودو ،بلکہ اسی کو رکھ کر اسی دائرے میں سے راستہ نکال دے گا کہ اس کے اوپر چلو۔
غربت سے بھی خداملتاہے
لیکن اگر دولت مندوں کو اسلام نے راستہ بتلایا کہ تم اپنی دولت کو اللہ تک پہنچنے کا ذریعہ بناؤ، تو ممکن تھا کہ ایک غریب آدمی کا دل ٹوٹتا کہ بس دولت مند دنیا اور آخرت دونوںکمالے گا،میں یہاں بھی محروم وہاں بھی محروم ؟ نہ صدقہ دے سکتا ہوں نہ خیرات، نہ صلہ رحمی کے قابل ہوں ۔ تو میں دنیا میں بھی ایسے ہی بے چارہ وبے کس رہا اور آخرت میں بھی پہنچا تو بھی عبادتیں کم ہوئیں، اس کا دل ٹوٹا۔۔۔۔ اسلام نے فوراً ڈھارس دی کہ توبھی مایوس مت ہو، حدیث میں فرمایا کہ :
اے غریب ! تو اپنی غربت پر پریشان مت ہو، اس وقت کویاد کر کہ قیامت کے دن اُمراء اپنے حساب کتاب میں لگے ہوئے ہوں گے اور غرباء پانچ سوبرس پہلے جنت میں داخل بھی ہوچکے ہوں گے ۔
تو غریب نے کہاکہ مجھے’میری غربت ‘مبارک مجھے تموّل کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ پانچ سو برس کی مدت خداجانے کیسے گزرے گی؟۔۔۔۔ حساب دے سکیں نہ دے سکیں؟۔۔۔۔ کوئی عتاب نہ ہو، مصیبت نہ کہیں بھگتنی پڑے۔ دنیا کی ساٹھ ستر برس کی عمر تو گزرہی جائےگی میں سے سچے دل سے اپنی غربت پر خوش ہوں، تو اسے دولت کی نعمت دی اور اسے استغناء کی نعمت دی ۔ دولت نہیں ہے مگر اس کا دل غنی ہے۔۔۔۔ہمارے حضرت مولانا تھانویؒبعض دفعہ ایک شعر پڑھا کرتے تھے ، فرماتے تھے:
لُنْگ کے زیر لُنْگ کے بالا، نَہ غَمِ دُزْد نَہ غَمِ کالا
ایک لُنگی اوپر سے اوڑھ لی، ایک باندھ لی ۔ نہ چورکاڈر نہ چکار کاڈر ، بس غنی بنے بیٹھے ہیں۔ دولت مند کو دولت کی وجہ سے ہزار مصیبتیں ہیں، اسکی حفاظت کرنی پڑتی ہے ۔ کہیں چور ڈاکو نہ آجائے۔ حاکم حسد کرے توا س سے بھی کس طرح بچوں اور دولت کوبچاؤں ۔ کہیں ٹیکسوں کا اور محصول کاقصہ۔ غرض صبح سے شام تک ایک مصیبت ہے ،مگر غریب کہتاہے کہ میں مصیبت زدہ نہیں ہوں۔
لُنْگ کے زیر لُنْگ کے بالا، نَہ غَمِ دُزْد نَہ غَمِ کالا
حضرت تھانویؒفرماتے ہیں کہ :
هیچ نداریم، غم هیچ نداریم دستار نداریم، غم پیچ نداریم
ہم کچھ نہیں رکھتے ، اس لئے غم بھی کچھ نہیں رکتے، ہم دستار ہی نہیں رکھتے، اس لئے پیچ وخم کابھی ہمیں غم نہیں۔ پیچ وخم کے غم میں تو وہ پڑے جو دستار رکھتاہو۔
غرض ایک دولت مند کو اگرمادی دولت دی گئی ، توغریب آدمی کو جوصابراور محتسب ہے۔ اس کو استغناء کی دولت دی گئی۔ یہ کمالِ غناء سے بادشاہوں سے زیادہ مزے میں اورمطمئن ہے۔ فرمایا گیا کہ دنیا میں تجھے یہ نعمت ملی کہ تجھے غنی بنادیاگیا سینکڑوں مصیبتوں سے چھوٹ گیا۔ اور آخرت کی یہ نعمت ہے کہ پانچ سوبرس پہلے تو جنت میں داخل ہوجائے گااور اُمراء ابھی حساب وکتاب میں ہوں گے۔ تو دولت مندیوں خوش ہے کہ میں اپنی دولت سے جنت کمارہاہوں۔ غریب آدمی یوں خوش ہے کہ میں اپنے غناء سےجنت کمارہاہوں۔ تو اسلام نے کسی حالت میں مایوس نہ کیا، نہ دولت مند کو یہ کہاکہ توفقیر بن۔۔۔۔ نہ فقیر کو یہ کہا کہ تودولت مند بن۔
ہر ایک حالت وکیفیت میںاس کو تسلی دی اور اُسے راستہ بتلادیا۔ یہ اسلام کی خصوصیت ہےکہ کسی حالت کے بدلے بغیر اسی حالت میں اسلام راستہ نکالتاہے، مایوس نہیں ہونے دیا۔
[ماخوذاز خطبات حکیم الاسلام ،جلد ۴]۔۔۔ جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button